غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے پاکستان کو کیا نقصان ہو گا؟

حکومتِ پاکستان کا امریکی صدر ٹرمپ کی دعوت پر غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بورڈ میں شمولیت پاکستان کے لیے سفارتی، قانونی اور اخلاقی سطح پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ فریم ورک بین الاقوامی چارٹر، عالمی قانون اور فلسطین سے متعلق اقوامِ متحدہ کی طویل المدتی پالیسیوں سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کی قیادت میں قائم کیا جانے والا ’بورڈ آف پیس‘ درحقیقت ایک ایسا سیاسی و سکیورٹی ڈھانچہ ہے جس کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل عالمی قوانین اور تسلیم شدہ اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے منصوبے کے مطابق آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کے روایتی کردار کو کمزور کرتا ہے اور ایک متوازی فیصلہ سازی کا نظام تشکیل دیتا ہے، جس میں اصل اختیارات امریکی صدر، ان کی انتظامیہ اور قریبی اتحادیوں کے پاس مرکوز رہیں گے جبکہ دیگر ممالک کا کردار محض علامتی یا مشاورتی ہوگا۔
ناقدین کہتے ہیں کہ بورڈ آف پیس کی تشکیل میں فلسطینی عوام کی براہِ راست اور مؤثر نمائندگی کا فقدان ہے، جس سے غزہ کے مستقبل سے متعلق فیصلے اصل فریق کی مرضی اور خواہشات کے بغیر کیے جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف اخلاقی طور پر سوالیہ نشان ہے بلکہ فلسطینی حقِ خود ارادیت کے بنیادی اصول سے بھی متصادم ہے، جس کی پاکستان طویل عرصے سے حمایت کرتا آیا ہے۔
پاکستانی دفاعی ماہرین کے خیال میں ایک اور بڑا خدشہ یہ ہے کہ بورڈ آف پیس کو ایک سیاسی فورم کے طور پر پیش کیے جانے کے باوجود اس کا ڈھانچہ بین الاقوامی استحکام فورس سے جڑا ہوا ہے، جس میں فوجی اور سکیورٹی پہلو نمایاں ہیں۔ اگرچہ حکومتِ پاکستان واضح کر چکی ہے کہ وہ اس فورس میں شامل نہیں ہوگی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں سیاسی یا سفارتی دباؤ کے نتیجے میں پاکستان کو ایسی ذمہ داریوں کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے جو اس کے روایتی مؤقف اور قومی مفادات کے خلاف ہوں، خصوصاً حماس کو غیر مسلح کرنے جیسے اقدامات کے حوالے سے۔
ناقدین کا خیال ہے کہ اس بورڈ میں شمولیت سے مسلم دنیا کے اندر بھی تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو ہمیشہ فلسطینی مؤقف کا مضبوط حامی رہا ہے، اور ناقدین کے مطابق ٹرمپ کے منصوبے کا حصہ بننا پاکستان کی اس تاریخی پالیسی کو کمزور کر سکتا ہے اور اسے ایک ایسے فریم ورک سے وابستہ کر سکتا ہے جسے کئی مسلم اور عرب ممالک شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
لیکن ان تنقیدی آوازوں کے برعکس پاکستانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بارے میں اٹھائے جانے والے خدشات بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نہ تو امریکی جنرل کی سربراہی میں قائم ہونے والی بین الاقوامی استحکام فورس کا حصہ بنے گا اور نہ ہی وہ حماس کو غیر مسلح کرنے یا کسی یک طرفہ سکیورٹی ایجنڈے کی حمایت کرے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان کسی صورت ایسے اقدامات میں شامل نہیں ہوگا جن کے منفی اثرات خطے کے امن یا فلسطینی عوام پر پڑیں۔ یاد رہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ تاہم ناقدین کے نزدیک ایک غیر معمولی اور متنازع پہلو یہ ہے کہ اب پاکستان اور اسرائیل دونوں ہی صدر ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ امن بورڈ کا حصہ بن چکے ہیں، جسے مبصرین پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نازک موڑ قرار دے رہے ہیں۔
اس سے پہلے پاکستانی دفترِ خارجہ کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو دی گئی دعوت کے جواب میں، پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ کے لیے اپنی کوششوں کو موثر بنانے کے لیے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔‘ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو امید ہے کہ اس فریم ورک کے ذریعے مستقل جنگ بندی کے نفاذ، فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد میں اضافے اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات ممکن ہو سکیں گے۔
عرب ممالک کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعو ت کاخیرمقدم
ترجمان کے مطابق پاکستان اس امید کا بھی اظہار کرتا ہے کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کا ذریعہ بنیں گی اور ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کے ذریعے 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خود مختار اور جغرافیائی طور پر متصل ریاستِ فلسطین کے قیام کی راہ ہموار ہو گی، جس کا دارالحکومت القدس ہو گا۔
