جنرل باجوہ کے احتساب کے ن لیگی مطالبے کے پیچھے کیا ہے؟

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے فیض حمید کو 14 سال قید با مشقت کی سزا کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کے احتساب کے مطالبے نے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جسے مبصرین مسلم لیگ (ن) کے آئندہ سیاسی بیانیے سے جوڑنے کوشش میں کنفیوزڈ ہوتے نظر آتے ہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ خواجہ آصف کا یہ مطالبہ ایک ایسے وقت سامنے آیا جب فضا میں پہلے ہی نواز شریف کے وہ بیانات گونج رہے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ فیض حمید کے بعد اُن تمام کرداروں کا بھی احتساب ہونا چاہیے جنہوں نے انہیں سیاست میں متعارف کرایا اور تقویت دی۔ سیاسی حلقوں میں خواجہ آصف اور نواز شریف کے ان بیانات کو باہم جوڑ کر دیکھا گیا، جس سے یہ تاثر ابھرا کہ مستقبل میں ن لیگ کی سیاسی تان اسی سمت میں باندھی جا سکتی ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ خواجہ آصف پاکستانی سیاست اور صحافت دونوں کی رونق سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اکثر ایسے بیانات دیتے ہیں جو سیاسی سکوت میں ارتعاش پیدا کر دیتے ہیں۔ وڑائچ کے مطابق خواجہ آصف مزاجاً مہم جو اور نڈر سیاستدان ہیں، جن کی شخصیت میں سیالکوٹ کی ثقافتی بے باکی جھلکتی ہے۔ جس طرح وہ عمر کے اس حصے میں بھی بے خوف نہر میں چھلانگ لگاتے ہیں، سیاست میں ان کے تبصرے بھی اسی جرات اور بے تکلفی کا مظہر ہوتے ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے احتساب کا مطالبہ بھی خواجہ آصف کی ایسی ہی چھلانگ ہے، جس نے اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی۔
انکا کہنا ہے کہ فیض حمید کے کورٹ مارشل کے ساتھ ہی جنرل باجوہ کے احتساب کا مطالبہ سامنے آنا محض اتفاق نہیں سمجھا گیا۔ اگرچہ بعض حلقوں نے اسے سیاسی شغل قرار دیا، تاہم اس مطالبے کی گونج ماضی تک جا پہنچی اور اسے اس مفہوم میں لیا گیا کہ سیاست میں مداخلت کرنے والے ہر کردار کو کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ تاہم سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ طاقت کے مراکز کا تجربہ یہ رہا ہے کہ سب کے احتساب کا نعرہ عملاً اکثر کسی کے بھی احتساب پر منتج نہیں ہوتا۔ دلیل دی جاتی ہے کہ جب سب کو مورد الزام ٹھہرایا جائے تو کسی مخصوص فرد کے خلاف کارروائی بھی مشکل دکھائی دینے لگتی ہے، کیونکہ عمومی تاثر یہ بنتا ہے کہ اصل قصوروار بہت سارے لوگ تھے مگر سزا ایک ہی فرد کو ملی۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے خواجہ آصف کے قمر باجوہ کے احتساب کے مطالبے کے بعد سرکاری وضاحت سامنے آئی کہ جنرل باجوہ کے خلاف نہ تو کوئی کیس درج کرنے پر غور ہو رہا ہے اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ اس وضاحت کو بعض حلقوں میں اس ثبوت کے طور پر دیکھا گیا کہ فیض حمید کی غیرقانونی سرگرمیوں میں جنرل باجوہ شریک نہیں تھے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ خواجہ آصف مسلم لیگ (ن) کے اُن چند رہنماؤں میں شامل تھے جو عمران خان کے دور حکومت میں جنرل باجوہ اور ان کے سسر جنرل (ر) اعجاز امجد سے مسلسل رابطے میں رہے۔ یہی نہیں بلکہ ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کو جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے نواز شریف کے فیصلے سے آگاہ کرنے اور اس کے جواز پیش کرنے کا کردار بھی خواجہ آصف نے ادا کیا تھا۔
سینیئر صحافی کے مطابق خواجہ آصف ایک غیر متوقع سیاستدان ہیں جو نشانہ لے کر تیر چلاتے ہیں، مگر کبھی کبھار وہ تیر اپنی ہی صفوں میں جا لگتا ہے۔ وہ کبھی فوج کو ناراض کر دیتے ہیں تو کبھی اپنی ہی حکومت کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ ہائبرڈ نظام سے متعلق ان کے بیانات ہوں یا ماضی کی غلطیوں پر کھلے تبصرے، ہر بیان کسی نہ کسی حلقے میں اضطراب پیدا کرتا ہے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ کے احتساب کا مطالبہ اگر کسی اور ن لیگی رہنما کی جانب سے آتا تو شاید اس کی اہمیت کم ہوتی، مگر یہ مطالبہ جنرل باجوہ کے پرانے رابطہ کار اور نامہ بر خواجہ آصف کی جانب سے آیا، جس نے سیاسی ڈوریاں ہلا دیں۔
اسی پس منظر میں بعض حلقوں نے حرکت میں آ کر حکومت اور سیاستدانوں کو یہ باور کرایا کہ ایسے بیانات نہ صرف فوج میں بے چینی پیدا کر سکتے ہیں بلکہ نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان موجود مفاہمت کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ خواجہ آصف کے بیان کی گونج ابھی باقی تھی کہ ان کی آواز دب گئی اور معاملہ وقتی طور پر ٹھنڈا ہو گیا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ محض ایک وقتی چھال تھی یا نون لیگ کے بیانیے میں کسی بڑی تبدیلی کا ابتدائی اشارہ۔
تجزیہ کار کے مطابق خواجہ آصف کی جارحانہ سیاست وزیراعظم شہباز شریف کے محتاط اور مفاہمتی طرزِ حکمرانی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ شہباز شریف نے نہ صرف اتحادیوں کے اختلافات بلکہ اپنی کابینہ کے اندرونی تضادات پر بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور وہ مسلسل معاملات کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فیض حمید کو سزا خونی بھیڑیے کا انجام کیوں قرار پائی؟
سہیل وڑائچ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ خواجہ آصف سیاست کے شطرنجی کھلاڑی ہوں یا نہ ہوں، مگر وہ چالیں خوب چلتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کی حالیہ چھلانگ محض ایک انفرادی جست تھی یا آنے والے دنوں میں پاکستانی سیاست میں کسی بڑی بساط کے الٹ پلٹ ہونے کا پیش خیمہ تھی۔
