اڈیالہ جیل میں عمران کی موت کی افواہوں کے پیچھے کیا چل رہا ہے؟

سوشل میڈیا پر ایک بار پھر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور زندگی کے حوالے سے افواہوں کا بازار گرم ہے۔ بھارتی میڈیا میں افغانستان کے کسی غیر معروف ٹی وی کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کی جیل میں پراسرار طور پر موت واقع ہوگئی ہے تاہم حکومت اور اسٹیبلشمنٹ عوامی رد عمل کی وجہ سے اس خبر کو چھپا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کے حوالے سے جھوٹی خبریں تحریک انصاف کے اس سوشل میڈیا بریگیڈ کی جانب سے بھارتی میڈیا کو فیڈ کی جا رہی ہے جو بیرون ملک بیٹھ کر پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ چلا رہا ہے تاہم اڈیالہ جیل انتظامیہ نے ان تمام خبروں کو لغواور بے بنیاد قرار دے دیاہے جیل حکام کے مطابق انڈین میڈیا بانی پی ٹی آئی کی موت کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے جبکہ وہ جیل میں بیٹھے بھنی مچھلی کے ساتھ دیسی مرغ کے سوپ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان مختلف مقدمات کی وجہ سے اگست 2023سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں عمران خان کی صحت اور زندگی کے حوالے سے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں میں اس وقت شدت آئی جب منگل کو عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور نورین نیازی کی قیادت میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ کی جیل میں ملاقات نہ کروائے جانے کے خلاف احتجاجاً اڈیالہ جیل کے باہر کئی گھنٹوں تک دھرنا دیا، تاہم انتظامیہ کی جانب سے آئندہ ہفتے ملاقات کی یقین دہانی کے بعد رات گئے دھرنا ختم کر دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل سے ہی عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی اور صحت سے متعلق افواہیں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں،جسے انڈین میڈیا بھی خوب اجاگر کر رہا تھا تاہم عمران خان کی بہنوں کی ملاقات نہ کروانے کے بعد بھارتی میڈیا میں پراپیگنڈا شروع کر دیا گیا کہ عمران خان کی جیل میں پراسرار موت واقع ہو چکی ہے لیکن اس حوالے سے تمام حقائق کو چھپایا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے اہل خانہ کی عمران خان سے ملاقات بھی نہیں کروائی جا رہی تاکہ حالات کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی مبینہ موت سے معتلق خبریں وائرل ہونے کے بعد پاکستان بھر میں شدید غم و غصے اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے عمران خان کی خیریت سے متعلق انڈین اور افغان میڈیا پر چلنے والی افواہوں کے ردعمل میں حکومت سے اس افواہ کی واضح تردید اور وضاحت کرنے کے ساتھ ساتھ فوری طور پر عمران خان کی ان کے اہل خانہ سے ملاقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری کا سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا ہے کہ ’اگر واقعی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کر دیا گیا ہے تو ان کے خاندان کو فوراً اور بلا رکاوٹ رسائی دی جانا چاہیے۔‘ ’قانونی اور انسانی اصولوں کے تحت کسی بھی قیدی کے اہلِ خانہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کی موجودہ جگہ سے باخبر ہوں اور بلا تاخیر اس سے ملاقات کر سکیں۔‘بقول زلفی بخاری، عمران خان کے مقام سے متعلق کسی بھی قسم کا ’ابہام اور ملاقاتوں سے مسلسل انکار شفافیت، قانونی عمل اور بنیادی حقوق‘ کو مزید نقصان پہنچا رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی شعبہ اطلاعات کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں عمران خان کی صحت، سلامتی اور موجودہ حیثیت کے بارے میں سرکاری سطح پر شفاف اور باضابطہ بیان جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کی خطرناک اور حساس نوعیت کی افواہوں کے پھیلاؤ کے محرکین کی تحقیقات کر کے حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں۔‘ عمران خان کے بارے میں کسی بھی طرح کی غیر یقینی یا ابہام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب اڈیالہ جیل حکام نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل سے منتقلی، صحت اور زندگی سے متعلق افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عمران ’اڈیالہ جیل میں موجود‘ اور ’مکمل طور پر صحت یاب ہیں۔‘بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں۔ ’
جیل ذرائع کے مطابق انڈین میڈیا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جھوٹی موت کا رونا رو رہا ہے جبکہ جیل کی چار دیواری کے اندر بانی پی ٹی آئی دیسی مرغی، مٹن پلاو سے لے کر دیسی گھی اور چھوٹی مکھی کے خالص شہد کے مزے اڑا رہے ہیں۔ عمران خان جیل میں فل عیاشی اور عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں، عمران خان کو کسی نئے سیل یا جیل میں منتقل نہیں کیا گیا وہ بدستور اپنی جگہ پر رہ رہے ہیں اور ورزش اور من پسند غذاؤں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہر خواہش پوری کی جا رہی ہے، تاحال انہیں پر جیل میں کوئی سختی نہیں کی گئی جیل ذرائع کا کہنا ہے واک کرنے کیلئے زیادہ جگہ،ورزش کیلئے ایکسرسائز مشین ،بیٹوں سے بات ،وکیلوں سے ملنے کی اجازت ،ٹی وی ،چارپائی ،میٹرس، کرسی ، میز، اخبار ،کتابیں ،اٹیچ باتھ ، 6ڈاکٹر ،3میل نرس ، ایک مشقتی بھی دیاگیا ہے
عمران خان کی جیل ملاقاتوں پرغیراعلانیہ پابندی کیوں لگ گئی؟
ذرائع کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی جیل مینول کے مطابق فراہم کیا جانے والا کھانابالکل پسند نہیں کرتے۔بانی پی ٹی آئی ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کا منیو خود سیٹ کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کا کھانا الگ کچن میں مشقتی تیار کرتے ہیں۔بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کو جیل منیو کے تحت فراہم کردہ کھانا بالکل اچھا نہیں لگتا، بانی پی ٹی آئی ناشتے میں فریش جوسز، اور ناریل کھانا پسند کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی دن میں 3 مرتبہ کافی پیتے ہیں جبکہ اُن کے کھانے کو تیار ہونے کے بعد ماہر نیوٹریشنٹس چیک کرتے ہیں۔ذرائع کےمطابق عمران خان دیسی گھی میں تیار کردہ دیسی مرغ، مٹن اور پنک سالمن مچھلی شوق سے کھاتے ہیں، بانی پی ٹی آئی دیسی مرغ کی یخنی کا بھی استعمال کرتے ہیں، ہر روز بانی پی ٹی آئی کی چوائس پر جیل میں کھانا تیار ہوتا ہے۔ بھارتی میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں کے برعکس عمران خان بالکل صحت مند ہیں اور اڈیالہ جیل میں فل عیاشی اور آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔
