پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن کے بعد آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز یعنی پی آئی اے کی نجکاری کا عمل بالآخر کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے اور 135 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی کے ساتھ عارف حبیب کنسورشیئم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص حاصل کر لیے ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت برسوں سے خسارے میں چلنے والے قومی اداروں سے نجات حاصل کرنے اور معیشت پر بوجھ کم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ اس نجکاری کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پی آئی اے کو نجی شعبے کے تحت کس انداز میں چلایا جائے گا اور کیا یہ ادارہ واقعی ایک منافع بخش ایئر لائن میں تبدیل ہو سکے گا۔
پی آئی اے کی نجکاری اس لیے ناگزیر ہو گئی تھی کہ یہ ادارہ گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل خسارے میں چل رہا تھا۔ قومی ایئر لائن پر مجموعی قرضوں کا حجم وقت کے ساتھ بڑھتا رہا اور ایک مرحلے پر یہ قرضے 800 ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔ ان قرضوں پر سود کی ادائیگی بھی قومی خزانے سے کی جاتی رہی جس سے حکومت کو ہر سال اربوں روپے کا اضافی مالی دباؤ برداشت کرنا پڑتا تھا۔ اسی پس منظر میں حکومت نے فیصلہ کیا کہ ایئر لائن کو نجی شعبے کے حوالے کر کے اسے پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلایا جائے۔
گزشتہ سال پی آئی اے کی نجکاری کی پہلی کوشش ناکام ہونے کے بعد حکومت نے پی آئی اے کی بیلنس شیٹ کو بہتر بنانے کے لیے بڑے اقدامات کیے۔ ساڑھے چھ سو ارب روپے سے زائد قرضے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیے گئے، ٹیکس واجبات میں نرمی دی گئی، جہازوں کی لیز پر عائد جنرل سیلز ٹیکس میں چھوٹ فراہم کی گئی اور انتظامی اخراجات میں کمی کی گئی۔ انہی اصلاحات کے نتیجے میں پی آئی اے نے 21 سال بعد پہلی مرتبہ منافع ظاہر کیا، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔
نجکاری کے حتمی مرحلے میں تین فریق میدان میں تھے، جن میں لکی گروپ کنسورشیئم، نجی ایئر لائن ایئر بلیو اور عارف حبیب کنسورشیئم شامل تھے۔ اوپن بڈنگ کے بعد عارف حبیب کنسورشیئم نے 135 ارب روپے کی بولی دے کر پی آئی اے کے 75 فیصد حصص حاصل کر لیے۔ عارف حبیب کنسورشیئم مختلف شعبوں میں مضبوط بنیاد رکھنے والے کاروباری گروپس پر مشتمل ہے۔ اس کنسورشیئم کی قیادت معروف سرمایہ کار اور صنعتکار عارف حبیب کر رہے ہیں، جو عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کے چیئرمین ہیں اور ماضی میں کراچی اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔
کنسورشیئم میں شامل عارف حبیب لمیٹڈ ملک کی بڑی سیکیورٹیز بروکریج اور انویسٹمنٹ بینکنگ کمپنی ہے جو کیپٹل مارکیٹس میں گہرے تجربے کی حامل سمجھی جاتی ہے۔
فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ بھی اس کنسورشیم کا حصہ ہے اور اس کے مالک معروف بزنس مین فواد مختار ہیں۔ یہ کمپنی ملک میں یوریا کھاد کی بڑی پیدا کنندہ ہے۔ کنسورشیئم میں شامل سٹی سکول پاکستان کے سب سے بڑے نجی تعلیمی نیٹ ورکس میں شمار ہوتا ہے، جس کی بنیاد عمران میر نے رکھی تھی اور جو اس وقت ملک اور بیرون ملک سینکڑوں تعلیمی ادارے چلا رہا ہے۔ تعلیمی شعبے میں طویل تجربے کی بدولت سٹی اسکول انتظامی نظم و نسق اور بڑے ادارے چلانے کا عملی تجربہ رکھتا ہے۔ اسی طرح لیک سٹی ہولڈنگز بھی عارف حبیب کنسورشیئم کا حصہ ہے۔ لیک سٹی ایک بڑے ریئل اسٹیٹ اور اربن ڈویلپمنٹ منصوبے کے طور پر جانی جاتی ہے جسکے مالک معروف بزنس مین گوہر اعجاز ہیں۔
کنسورشیئم کے سربراہ عارف حبیب کا کہنا ہے کہ انہیں پی آئی اے کو کامیابی سے چلانے کا یقین اس لیے ہے کہ یہ ادارہ بنیادی طور پر ایک مضبوط قومی برانڈ ہے جس کے پاس قیمتی بین الاقوامی لینڈنگ رائٹس، تربیت یافتہ انسانی وسائل اور دہائیوں پر محیط آپریشنل تجربہ موجود ہے۔ ان کے مطابق پی آئی اے کا اصل مسئلہ صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ ناقص گورننس اور مالی بوجھ تھا، جو اب بڑی حد تک کم ہو چکا ہے۔ عارف حبیب گروپ کا مؤقف ہے کہ وہ پہلے ہی بینکاری، صنعت، تعلیم اور رئیل اسٹیٹ جیسے شعبوں میں بڑے اور پیچیدہ ادارے کامیابی سے چلا رہا ہے، اس لیے پی آئی اے جیسے ادارے کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلانا ان کے لیے ایک قابلِ عمل ہدف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلیٹ کی توسیع، جہازوں کی دستیابی میں اضافہ، منافع بخش روٹس پر توجہ، اخراجات پر کنٹرول اور سروس کوالٹی میں بہتری ان کی اولین ترجیحات ہوں گی۔
نجکاری کے معاہدے کے مطابق کامیاب بولی دہندہ بولی یعنی عارف حبیب کنسورشیم 135 ارب روپے کی رقم کا بڑا حصہ ابتدائی 90 دن میں ادا کرے گا، جس کے بعد انتظامی کنٹرول اس کے حوالے کر دیا جائے گا، جبکہ باقی رقم ایک سال کے اندر ادا کی جائے گی۔ اس دوران پی آئی اے کے ملازمین کو ایک سال تک ملازمت کا تحفظ حاصل رہے گا اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن و دیگر واجبات ہولڈنگ کمپنی ادا کرے گی۔
پی آئی اے کی نجکاری ملکی معیشت پہ بڑھتا ہوا اعتماد ہے : خواجہ آصف
معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ حکومت کو اس نجکاری سے براہ راست ملنے والی رقم محدود ہے، تاہم اس فیصلے سے حکومت کو ہر سال اربوں روپے کے خسارے سے نجات ملے گی۔ اب پی آئی اے کا مستقبل نجی شعبے کی سرمایہ کاری، انتظامی مہارت اور فیصلوں سے جڑا ہوگا، اور اگر عارف حبیب کنسورشیئم اپنے وعدوں کے مطابق اصلاحات نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو قومی ایئر لائن ایک بار پھر خطے کی ایک مضبوط اور منافع بخش ایئر لائن بن سکتی ہے۔
