ہنی مون پیریڈ ختم ہونے کے بعد نون لیگ کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ نون لیگ حکومت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے باوجود اسکا کوئی سیاسی بیانیہ ہی نہیں ہے، اسکی پارٹی تنظیم بہت ہی کمزور ہو چکی ہے، نون لیگ کا ووٹ بینک بھی بکھر چکا ہے، لیکن دوسری طرف عمران خان بدستور پاپولر ہیں اور تحریک انصاف کا ووٹ بینک بھی قائم ہے۔ انکا کہنا ہے کہ نون کا اصل امتحان اس کا ہنی مون پیریڈ ختم ہونے اور پی ٹی آئی پر موجودہ دباؤ کے خاتمے کے بعد ہو گا۔ اس دوران اگر نون کوئی بیانیہ نہ بنا سکی اور صرف معاشی ایجنڈا ہی بیچنے کی کوشش کرتی رہی تو اس کا حشر بھی قاف لیگ سے مختلف نہیں ہو گا۔

روزنامہ جنگ کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سیاسی حکومتوں میں کابینہ کی توسیع ایک پیچیدہ سیاسی معاملہ ہوتا ہے۔ پارلیمان کا ہر رکن کابینہ میں شمولیت کا اہل ہوتا ہے اور اسکی خواہش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح وزارت کا قلمدان مل جائے، تا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کے کام آ سکے اور اس کے مرتبے میں بھی اضافہ ہو، گاڑی پر قومی جھنڈا لگانا سیاست دانوں کا خواب ہوتا ہے۔ انکا کہنا یے کہ وفاقی کابینہ میں حالیہ توسیع سے حکومت کے سیاسی رنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف بھی مضبوط ہوئے ہیں، وہ اپنے کئی وفاداروں کو کابینہ میں شامل کر کے پہلےسے بہتر سیاسی پوزیشن میں آگئے ہیں، لیکن بہتر پوزیشن میں جانے کے ساتھ اس توسیع سے کئی نئے تنازعات جنم لیںنے جا رہے ہیں جن کے اثرات دور تک اور دیر تک محسوس کئے جائیں گے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جو سب سے بڑا تنازع سامنے آنے کا امکان ہے وہ سابق وزیر اعلیٰ اور ماضی میں عمران خان کے دست راست پرویز خٹک کی بطور مشیر برائے داخلہ شمولیت کا ہے۔ پرویز خٹک فوج کے قریب ہیں اور ان کی کابینہ میں شمولیت کی اولین شرط یہی تھی کہ انہیں داخلہ امور ہی کا مشیر بنایا جائے ۔طلال چودھری کی بطور وزیر مملکت کابینہ میں شرکت پر تو وزیر داخلہ محسن نقوی سے باقاعدہ مشاورت کی گئی تھی لیکن پرویز خٹک کے بارے میں نہ تو ان سے مشاورت ہوئی اور نہ ہی ان کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر کوئی باقاعدہ گفت و شنید ہوئی۔ تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کو کامیابی کے ساتھ کاؤنٹر کرنے والے وزیر داخلہ محسن نقوی کو گلہ ہے کہ رانا ثنا اللہ خان اور عظمی بخاری جیسے وفاق اور پنجاب کے وزرا کھلے عام ان پر بیجا تنقید کرتے ہیں اور نون لیگ کی قیادت انہیں روکتی بھی نہیں۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ فوج اس گہری ہوتی خلیج کو سنبھال لے مگر یہ معاملہ محسن نقوی کی ناراضی سے آگے بھی بڑھ سکتا ہے۔ بظاہر پہلے بھی محسن نقوی وزیر داخلہ بننے کیلئے اسی شرط پر تیار ہوئے تھے کہ وہ کرکٹ بورڈ کے سربراہ بھی رہیں گے، لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ وزارت داخلہ سے سبکدوش ہو جائیں، اگر ایسا ہوا تو اس سے حکومت کے اندر اختلافات بڑھ جائیں گے اور سیاسی حکومت میں پہلا بڑا شگاف پڑ جائے گا جسے بھرنا کافی مشکل ہو گا۔ سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک کو مرکز میں مشیر کا عہدہ دے کر علی امین گنڈا پور کے علاوہ خیبر پختونخوا کیلئے بھی متبادل انتظامات کی تیاری شروع کر دی گئی ہے، پچھلے دھرنے کے بعد علی امین گنڈا پور کو یہ واضح پیغام دیا گیا تھا کہ اگر اب وہ کوئی جلوس لیکر صوبے سے باہر نکلے تو انکی حکومت نہیں رہے گی۔ اس سکیم پر کام شروع ہوگیا ہے اور پرویز خٹک شعبہ داخلہ امور میں آکر پولیس اور ایجنسیوں کے تعاون سے یہ کام کریں گے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ شہباز شریف حکومت کا سب سے بڑا المیہ سیاسی بیانیے کا نہ ہونا ہے۔ معاشی ترقی کے بیانیہ کا چرچا تو بہت کیا جارہا ہے مگر یہ تحریک انصاف کے سیاسی قلعے میں ابھی تک کوئی نمایاں شگاف نہیں ڈال سکا۔ کابینہ میں حالیہ توسیع میں سرے سے یہ ترجیح ہی نظر نہیں آ رہی۔ عطاء اللہ تارڑ اپنی مقدور بھر کوشش کر رہے ہیں مگر بیانیہ بنانا کسی ایک وزیر کے بس کی بات نہیں۔ مصدق ملک نون لیگ میں ایک منطقی آواز ہیں مگر انہیں وزارت اطلاعات دینے کی بجائے پٹرولیم منسٹری سے بھی نکال کر موسمیات کی وزارت میں دھکیل دیا گیا ہے۔

حذیفہ رحمان کو کابینہ میں شامل تو کیا گیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ حکومتی بیانیہ بنانے میں کتنے موثر ثابت ہوں گے۔ عبدا لرحمٰن کانجو اپنے ضلع میں فیصلہ کن سیاسی طاقت رکھتے ہیں، انہیں وفاقی وزیر کی بجائے وزیر مملکت بنانا ناانصافی کے مترادف ہے۔ اسی طرح قصور سے ملک رشید جیسے سینئر سیاستدان کو بھی وفاقی وزیر کی بجائے وزیر مملکت بنانا ان کے شملے کو اونچا نہیں کر سکے گا۔ سینیر صحافی کا کہنا ہے کہ کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے وزیر اعظم نے عمر اور تجربے کا سرے سے کوئی لحاظ نہیں رکھا۔ نوجوانوں کو بوڑھوں سے بڑے عہدے دے کر یوتھ کی حوصلہ افزائی تو کی گئی ہے مگر تجربے کی حوصلہ شکنی کی گئی اور بڑھتی عمر کے ساتھ کندن بننے والوں کو نظر انداز کیا گیا۔

سب کو ناراض کرنے والا ٹرمپ پاکستان سے یاری کیوں ڈال رہا ہے؟

جنید انور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انہیں کراچی کے سمندری علاقوں سے متعلق وزارت دے دی گئی جو ان سے قطعاً غیر متعلق ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کراچی کی ترقی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ میں نام کمایا تھا لیکن انہیں صحت کی وزارت دی گئی ہے حالانکہ صحت کا محکمہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے۔ اب سوائے صحت کی پالیسیاں بنانے کے وہ کچھ نہیں کر پائیں گے حالانکہ ان کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت دی جاتی تو بہتر ہوتا۔ اسی طرح چودھری شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین سے وزارت مذہبی امور واپس لے کر دوبارہ سردار یوسف کو دے دی گئی ہے، سالک حسین کے پاس اوورسیز کے علاوہ مذہبی امور کی وزارت کا ایڈیشنل چارج تھا۔ سالک حسین نے اس عبوری ذمہ داری کے دوران خاموشی سے حج کے حوالے سے اہم اور عوامی فیصلے کئے۔ وہ خاصے شرمیلے ہیں اس لئے کبھی خود بھی اپنے کارنامے بیان نہیں کر سکے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ فیصل آباد سے طلال چودھری کا کابینہ میں شامل ہونا، دراصل رانا ثناء اللہ کے لامتناہی اختیارات پر ایک ضرب ہے کیونکہ اب فیصل آباد میں ن لیگ کی اندرونی لڑائی چودھری شیر علی بمقابلہ رانا ثناء اللہ سے بدل کر طلال چودھری بمقابلہ رانا ثناء اللہ بن چکی ہے۔ فی الحال رانا ثناء اللہ کا پلہ بہت بھاری ہے مگر طلال چودھری بھی ادھر ادھر سر مار کر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش میں ہیں۔ سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ مانا کہ ابھی نون لیگ کا ہنی مون پیریڈ چل رہا ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسکی پارٹی تنظیم بہت کمزور ہو چکی ہے اور تحریک انصاف کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ ایسے میں اگر نون کوئی بیانیہ نہ بنا سکی تو اس کا حشر بھی قاف لیگ جیسا ہو گا۔

Back to top button