پاکستان ICC پر انڈین اجارہ داری توڑنے کے لیے کیا کرنے والا ہے؟

بھارتی اور بنگلہ دیشی عوام کی نظریں اس وقت پاکستان پر جمی ہوئی ہیں اور بے چینی سے یہ انتظار کیا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا یا بھارت کی میزبانی کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے ایونٹ کا بائیکاٹ کر دے گا۔ اندر کی خبر رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اصولی طور پر یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں بھارتی اجارہ داری کو توڑنا اب ناگزیر ہو چکا ہے، چنانچہ ورلڈ کپ میں پاکستانی شمولیت کا امکان خاصا معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اگر پاکستان اس ایونٹ میں شامل نہیں ہوتا تو آئی سی سی کے ریونیو شیئر کو ایک بڑا دھچکا لگے گا کیونکہ پاک بھارت میچز ٹورنامنٹ میں دیگر تمام مقابلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آمدن کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاک بھارت کرکٹ کی طویل سرد جنگ اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں محض علامتی احتجاج کی بجائے جارحانہ حکمت عملی اپنانے کی تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک ’آر یا پار‘ والا ذہن بنا کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایک جانب بھارتی کرکٹ بورڈ اربوں ڈالر کے نقصان کو برداشت کرنے کے لیے آمادہ دکھائی دیتا ہے، تو دوسری جانب پاکستان بھی ورلڈ کپ کو اکھاڑنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترنے کا ارادہ کر چکا ہے۔
اس صورتحال میں آئی سی سی، بھارتی اثر و رسوخ کے باعث، غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرنے سے محروم ہے، دیگر رکن ممالک کے بورڈز بھی اس بحران پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ لیکن اب مغربی میڈیا نے بھی بھارتی بورڈ کی سازشوں کو بھانپ لیا ہے۔ آسٹریلوی چینل فاکس سپورٹس، برطانوی اخبار دی گارجین، الجزیرہ، بی بی سی اور سکائی اسپورٹس نے اپنی رپورٹس میں اس صورتحال کو پاکستان کے خلاف جارحیت قرار دیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق بھارتی بورڈ نے آئی سی سی کو پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاکہ پاکستان کو یا تو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بائیکاٹ یا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے پر مجبور کیا جا سکے۔
کرکٹ سے منسلک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دیگر بورڈز کو اس تنازع سے دور رکھنے کے لیے بھارت اپنے مالیاتی تسلط کا بھرپور استعمال کر رہا ہے۔
انکے مطابق پاکستان کرکٹ کو معاشی اور عالمی سطح پر کمزور کرنا دراصل ایک منظم منصوبے کا تسلسل ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کرکٹ بورڈ کے مالیاتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانا ہے۔ جے شاہ کے خیال میں بھارتی براڈکاسٹرز اور آئی سی سی کے فنڈز ہی پاکستان میں انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کے استحکام کی ضمانت ہیں، اور اگر یہ فنڈز بند ہو جائیں تو چند برسوں میں پاکستان کا پورا کرکٹ سٹرکچر زمین بوس ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگر پاکستان نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں حصہ نہ لیا تو جے شاہ آئی سی سی کے پلیٹ فارم سے پی سی بی پر سخت معاشی اور انتظامی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارجین اور آسٹریلوی فاکس سپورٹس کے مطابق آئی سی سی اپنی غیر جانبداری کھو چکا ہے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کر کے سکاٹ لینڈ کو شامل کرنا کرکٹ کی تاریخ کے سیاہ ترین لمحات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ آسٹریلوی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ محض کرکٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے، جہاں وہ اپنی ساکھ کے تحفظ کے لیے مالی تباہی کا خطرہ مول لینے کو تیار دکھائی دیتا ہے۔
برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت مالی طور پر طاقتور ہے، مگر عالمی سطح پر اسے ’کرکٹ فیلڈ کے بدمعاش‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو کھیل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اس طرزِ عمل سے بھارت کے گلوبل سپورٹس حب بننے کے خواب کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
اسئ طرح بی بی سی اور سکائی سپورٹس نے موجودہ صورت حال کو کرکٹ کا دیوالیہ پن قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاک بھارت میچ کی مارکیٹنگ نفرت پر مبنی ہو چکی ہے، جو کھیل کی روح کے منافی ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق اگر پاکستان ورلڈ کپ سے باہر ہوتا ہے تو براڈ کاسٹنگ رائٹس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جس کا اثر انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے بڑے کرکٹ بورڈز کے ریونیو شئیر پر بھی پڑے گا۔ چنانچہ گلف نیوز اور الجزیرہ کے تجزیہ کاروں نے اس صورت حال کو عالمی کرکٹ کی ساکھ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے، یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ آئی سی سی نے بھارت کے لیے چیمپئنز ٹرافی میں ہائبرڈ ماڈل قبول کیا، مگر بنگلہ دیش کی سکیورٹی وجوہات پر بھارت نہ جانے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تو کرکٹ کی دنیا واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو سکتی ہے۔ ایک طرف بھارت اور اس کے اتحادی ہوں گے، جبکہ دوسری جانب وہ ممالک کھڑے ہوں گے جو بھارتی اجارہ داری سے تنگ آ چکے ہیں۔ یہ تقسیم کرکٹ کو اسی نوعیت کے بحران میں دھکیل سکتی ہے جیسا کہ 1970ء کی دہائی میں نسل پرستی کے باعث جنوبی افریقہ کو سامنا کرنا پڑا تھا۔ ادھر بھارتی میڈیا میں پاکستان کے خلاف زہر آلود پراپیگنڈا تیز کر دیا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے بائیکاٹ کا فیصلہ صرف اس لیے مؤخر کیا ہے تاکہ اپنی خفت مٹانے کا کوئی راستہ نکالا جا سکے۔
بھارتی مبصرین تمسخر کے انداز میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کی ہمت نہیں کر پائے گا اور بالآخر پاکستانی کھلاڑی میدان میں بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر محض ایک علامتی احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔
ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارتی میڈیا کے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت دفاعی پوزیشن پر نہیں رہے گا۔ ذرائع کے مطابق جمعہ کو ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ’اینٹ کا جواب پتھر سے‘ دینے کی حکمت عملی زیر غور ہے، جس میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے مکمل دستبرداری یا بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے آپشن سرفہرست ہیں۔ پاکستان اس بار علامتی احتجاج پر اکتفا کرنے کے بجائے آئی سی سی کو ایک بڑے مالیاتی اور انتظامی بحران سے دوچار کرنے کا تہیہ کر چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق متوقع فیصلے میں یہ بات بھی سامنے آ سکتی ہے کہ پاکستان کسی بھی ہائبرڈ ماڈل کو قبول نہیں کرے گا، اور اگر آئی سی سی نے بھارتی جانب داری جاری رکھی تو پاکستان عالمی ایونٹس کے بائیکاٹ کا وہ آپشن استعمال کرے گا جس سے براڈ کاسٹرز اور سپانسرز کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہو سکتا ہے۔
کیا پاکستان بنگلہ دیش کے لیے ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرے گا؟
واضح رہے کہ بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش کو اکسا رہا ہے، جبکہ آئی سی سی چیئرمین جے شاہ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایونٹ کے شیڈول پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا اور بائیکاٹ کی صورت میں پاکستان کو سنگین پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے جواب میں پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے آئی سی سی کے دوہرے معیار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ ایک ملک کی ڈکٹیشن پر چل رہا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ پاکستان اب کسی کی غلامی قبول نہیں کرے گا اور حتمی فیصلہ وزیر اعظم کی واپسی پر تمام سخت آپشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، جن میں ورلڈ کپ کا بائیکاٹ بھی شامل ہے۔
