بنگلہ دیش میں الیکشن سے قبل انڈیا مخالف ہادی کو کس نے قتل کیا؟

بنگلہ دیش میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے والے انڈیا مخالف نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں شدید احتجاج اور ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ ڈھاکہ میں ان کی موت کی خبر سامنے آتے ہی مظاہرے شروع ہو گئے، جن کے دوران میڈیا دفاتر پر حملے اور ایک عمارت کو آگ لگائے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ عبوری حکومت نے شریف عثمان ہادی کے قتل پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فروری میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل شریف عثمان ہادی کا قتل غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک منظم سازش کا حصہ ہو سکتا ہے اور بعض حلقے اسے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی کارروائی قرار دے رہے ہیں، جو نہیں چاہتیں کہ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد مخالف حکومت اقتدار میں آئے۔ سیاسی تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ حسینہ واجد کی سب سے بڑی سیاسی مخالف بیگم خالدہ ضیا پہلے ہی شدید علیل ہیں اور ہسپتال میں وینٹیلیٹر پر موجود ہیں، ایسے میں شریف عثمان ہادی کو ایک ابھرتی ہوئی حسینہ مخالف قیادت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، انکے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ آئندہ سیاسی سیٹ اپ میں کوئی اہم عہدہ حاصل کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ شریف عثمان ہادی کو گزشتہ ہفتے ڈھاکہ میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ چہرہ ڈھانپے ہوئے نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں ایک نجی ہسپتال لے جایا گیا اور تین دن بعد بہتر علاج کی غرض سے سنگاپور منتقل کر دیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جمعرات کو انتقال کر گئے۔ یہ واقعہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے ٹھیک ایک دن بعد پیش آیا۔ شریف عثمان ہادی خود بھی خودمختار امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے تھے، جس نے اس حملے اور بعد ازاں ان کی موت کو مزید سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔
شریف عثمان ہادی پر حملے کے بعد سے ملک کے مختلف حصوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ 32 سالہ شریف عثمان ہادی ’انقلاب مانچا‘ کے نام سے معروف طلبہ تحریک سے وابستہ تھے اور انڈیا کے سخت ناقدین میں شمار ہوتے تھے، جہاں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ہادی نے پہلے ہی دعویٰ کر رکھا تھا کہ انہیں عوامی لیگ کے حامیوں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں، جس کا ذکر انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ہادی نے لکھا تھا کہ انہیں کم از کم 30 مقامی اور غیر ملکی فون نمبرز سے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جن میں ان کے گھر کو نذر آتش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی والدہ، بہن اور اہلیہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی شامل تھیں۔ ہادی نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات سے ڈگری حاصل کر رکھی تھی اور وہ ایک نجی یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔ بریسال سے تعلق رکھنے والے ہادی اس سے قبل ایک مدرسے سے عالم کی ڈگری بھی حاصل کر چکے تھے، جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔
گزشتہ سال شیخ حسینہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران شریف عثمان ہادی نے خاصی شہرت حاصل کی تھی۔ اس دوران انہوں نے عوامی لیگ پر سخت تنقید کی اور شیخ مجیب الرحمان کے تاریخی گھر پر ہونے والے مظاہروں میں بھی بھرپور شرکت کی۔ ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ شریف عثمان ہادی کے قتل میں ملوث عناصر کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس، جو اس وقت عبوری حکومت کے سربراہ ہیں، نے ہادی کی موت کو ’ناقابل تلافی نقصان‘ قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر یونس نے کہا کہ جمہوریت کی جانب سفر کو خوف، دہشت گردی یا خونریزی کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا۔ یاد رہے کہ حملے کے فوری بعد بھی انہوں نے اس واقعے کو ایک سوچا سمجھا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سازش کرنے والوں کا مقصد انتخابات کے عمل کو ڈی ریل کرنا ہے۔
وفاقی حکومت کے مطابق شریف عثمان ہادی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اب تک متعدد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد گزشتہ سال پانچ اگست کو کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے شدید حکومت مخالف مظاہروں کے بعد انڈیا فرار ہو گئی تھیں، جس کے ساتھ ہی ان کا 15 سالہ اقتدار ختم ہو گیا تھا۔ رواں سال نومبر میں انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ عدالتی فیصلے میں انہیں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مہلک طاقت کے استعمال کی اجازت دینے کا مجرم قرار دیا گیا تھا، جن مظاہروں میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
تاہم شیخ حسینہ واجد نے اس فیصلے کو اپنے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی جماعت کو انتخابات سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ براہِ راست فروری میں ہونے والے عام انتخابات پر اثر انداز ہو گا۔
شریف عثمان ہادی کے قتل نے بنگلہ دیش کی پہلے سے کشیدہ سیاسی فضا کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، اور اب سب کی نظریں آنے والے عام انتخابات اور ان سے جڑے سیاسی منظرنامے پر مرکوز ہیں۔
