عمران کو نکالنے کیلئے نمبرز گیم کا حساب کتاب کیا بنتا ہے؟

اپوزیشن جماعتوں کو وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے دس مزید ووٹ درکار ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہو جانے کے دعووں کے بعد بظاہر کوئی مشکل ٹاسک نہیں۔ اپوزیشن ذرائع کا دعوی ہے کہ وہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہے ہیں اور دس اراکین قومی اسمبلی کی بجائے کم از کم تیس مذید ممبران کی حمایت حاصل کرنے کے بعد تحریک عدم اعتماد داخل کریں گے تاکہ ناکامی کا چانس ہو جائے۔ لہذا اس وقت اہم ترین معاملہ قومی اسمبلی میں نمبرز گیم کا ہے۔
قومی اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد 342 ہوتی ہے۔ تاہم این اے 33 ہنگو سے تحریک انصاف کے رکن اسمبلی خیال زمان اورکزئی کے انتقال کے بعد اب اراکین کی تعداد 341 رہ گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے اس وقت اپوزیشن جماعتوں کم از کم 172 ارکان کی حمایت درکار ہے۔
تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کے اراکین کی کل تعداد 179 بنتی ہے، جبکہ اپوزیشن کے پاس 162 ارکان کی حمایت موجود ہے۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 155، مسلم لیگ ق کے 5، ایم کیو ایم کے 7، جی ڈی اے کے 3، آل پاکستان مسلم لیگ کا 1، بلوچستان عوامی پارٹی کے 5 اور شاہ زین بگٹی کی ایک نشست ہے۔ قومی اسمبلی میں کل 4 آزاد امیدوار ہیں، جن میں سے دو حکومت کے ساتھ ہیں ۔
یکم مارچ سے پٹرول کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ
دوسری جانب اپوزیشن میں مسلم لیگ ن کے پاس 84 اور پیپلزپارٹی کے پاس 56 قومی اسمبلی کی سیٹیں ہیں جبکہ ایم ایم اے کے پاس 15 سیٹیں ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے پاس ایک نشست موجود ہے جبکہ دو آزاد امیدوار بھی اپوزیشن کے ساتھ ہیں، یوں عمران مخالف اپوزیشن ارکان کی کل تعداد 162 بنتی ہے، اپوزیشن کا ایک رکن علی وزیر اس وقت جیل میں ہے جسے تحریک عدم اعتماد کے لیے پروڈکشن آرڈر کے ذریعے اسمبلی بلایا جا سکتا ہے۔
ایسے میں حکومتی اتحاد سے منسلک ممبران قومی اسمبلی کی تعداد 179 بنتی ہے جبکہ اپوزیشن اور اسکے اتحادیوں کی تعداد 162 بنتی ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں اپوزیشن کو اپنی تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے قومی اسمبلی میں 172 اراکین کی حمایت دکھانا درکار ہے۔ ایسے میں اگر 5 نشستیں رکھنے والی قاف لیگ اور 7 سیٹوں والی ایم کیو ایم کی حمایت مل جائے تو اسکی مطلوبہ نمبرز گیم پوری ہو جاتی ہے۔
لیکن اپوزیشن کا موقف ہے کہ وہ اپنی کامیابی سو فیصد یقینی بنانے کے لئے کم از کم 30 اراکین اسمبلی کو ساتھ ملانے کے بعد تحریک عدم اعتماد داخل کرے گی تاکہ اس کے حمایتی اراکین کی تعداد 192 تک ہو جائے اور عمران کے بچنے کا امکان صفر ہو جائے۔
چناچہ بتایا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر ایک فارورڈ بنانے کی تیاریاں بھی جاری ہیں جبکہ جہانگیر خان ترین پہلے ہی علیحدہ دھڑا بنا چکے ہیں۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایم کیو ایم اور قاف لیگ کپتان کا ساتھ چھوڑ کر ان کے ساتھ شامل ہو جائیں تو نہ صرف حکومت کی بقیہ دو اتحادی جماعتیں یعنی باپ پارٹی اور جی ڈی اے، بھی ان کے ساتھ مل جائیں گی بلکہ جہانگیر خان ترین گروپ اور تحریک انصاف کا فارورڈ بلاک بھی کھل کر ان کے ساتھ آ جائے گا اور یوں انہیں 200 سے زیادہ اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہو جائے گی جس کے بعد عمران خان کا بچنا ناممکن ہو جائے گا۔
