اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اس وقت کس حال میں ہیں؟

اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینے کے لیے ویڈیو پیغام جاری کرنے کے باوجود اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو بارے سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں اور افواہوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے اس حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ کہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ ایرانی حملوں میں زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ بعض افراد کا دعویٰ ہے کہ وہ سکیورٹی خدشات کے باعث ملک چھوڑ کر بھاگ چکےہیں۔ کچھ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انہیں کسی خفیہ زیرِ زمین محفوظ مقام، یعنی بنکر، میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم اپنی جان کے تحفظ کے لیے زمین کے بجائے فضا میں موجود رہتے ہیں اور سکیورٹی نظام سے لیس اپنے خصوصی سرکاری طیارے “وِنگز آف صیہون” میں زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔ یہاں تک کہ چند انتہائی دعوؤں میں ان کی ہلاکت تک کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں، تاہم ان تمام افواہوں کے جواب میں اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ وزیرِ اعظم مکمل طور پر محفوظ ہیں اور معمول کے مطابق اپنے سرکاری فرائض انجام دے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گردش کرنے والی بیشتر خبریں بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔
مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی حالات کے دوران نیتن یاہو کی طویل عوامی غیر موجودگی اور مسلسل منظرِ عام پر نہ آنا مختلف قیاس آرائیوں اور افواہوں کا سبب بن رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیرِ اعظم نیتن یاہو کئی دنوں سے کسی بڑے عوامی اجتماع، پریس کانفرنس یا نمایاں ویڈیو خطاب میں سامنے نہیں آئے، جس کے باعث عوامی اور سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آیا اس غیر معمولی خاموشی کے پیچھے حفاظتی وجوہات ہیں یا کوئی اور معاملہ۔ وزیرِ اعظم کی غیر موجودگی کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مختلف غیر مصدقہ دعوؤں اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔ تاہم اسرائیلی حکومت مسلسل ایسی افواہوں کی تردید کرتی دکھائی دیتی ہے۔
افواہوں کے بڑھتے ہوئے طوفان کے بعد اتوار کے روز بنیامین نیتن یاہو نے ایک مختصر ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے اپنی موت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا طنزیہ انداز میں مذاق اڑایا۔ ویڈیو میں وہ ایک کیفے میں گرم کافی کا کپ لیتے ہوئے نظر آئے اور ہلکے پھلکے انداز میں کہا: I’m dead for coffee یعنی میں "میں کافی کے لیے مرا جا رہا ہوں” خیال رہے کہ یہ دراصل عبرانی زبان کا ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے کہ کوئی شخص کسی چیز کو بہت زیادہ پسند کرتا ہے۔ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اپنی موت سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔ اسی ویڈیو میں انہوں نے کیمرے کے سامنے ہاتھ ہلاتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا: “کیا آپ میری انگلیاں گننا چاہتے ہیں؟” یہ جملہ دراصل ان قیاس آرائیوں کا جواب تھا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کا حالیہ ٹیلی وژن خطاب مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ بعض افراد نے اس ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک ہاتھ میں ان کی چھ انگلیاں دکھائی دینے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد یہ افواہیں پھیل گئی تھیں کہ نیتن یاہو حقیقت میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر آن کی اے آئی سے بنائی گئی ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو مطمئن کیا جا سکے۔
مبصرین کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے متعلق افواہوں کی تردید کے لیے ویڈیو جاری کرنے کے باوجود بنیامین نیتن یاہو نے کسی بڑے عوامی اجتماع یا پریس کانفرنس میں براہِ راست شرکت نہیں کی۔ انہوں نے صرف ویڈیو بیان جاری کیا، جس کے باعث بعض حلقوں میں شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے ہیں کہ نیتن یاہو اس وقت کہا ہیں اور وہ ایرانی قیادت کی طرح عین جنگی صورتحال میں عوام کے سامنے آنے کی بجائے عوام کا سامنا کرنے سے گریزاں کیوں ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ جنگی حالات میں حفاظتی وجوہات کے باعث رہنماؤں کی نقل و حرکت محدود ہو سکتی ہے، لیکن ایک منتخب وزیرِ اعظم کی طویل غیر موجودگی عوامی سطح پر سوالات کو جنم دیتی ہے۔
ایران پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ کو لینے کے دینے کیوں پڑ گئے؟
دوسری جانب ایران کی طاقتور فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب نے بھی اتوار کے روز نیتن یاہو کے خلاف سخت بیان جاریکرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر “بچوں کے قاتل” نیتن یاہو اب بھی زندہ ہیں تو پاسدارانِ انقلاب انہیں تلاش کر کے مار ڈالیں گے۔ اس بیان نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی دھمکیاں اسرائیلی قیادت کے لیے حفاظتی خطرات کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بنیامین نیتن یاہو کی محدود عوامی موجودگی، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پھیلنے والی افواہیں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس معاملے کو عالمی سطح پر ایک اہم موضوع بنا دیا ہے۔ اگرچہ اسرائیلی حکومت بار بار اس بات پر زور دے رہی ہے کہ وزیرِ اعظم مکمل طور پر محفوظ ہیں، لیکن جب تک وہ باقاعدہ طور پر عوامی سطح پر سرگرم نظر نہیں آتے، تب تک قیاس آرائیوں کا سلسلہ ختم ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
