پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میں کس معاملے پر ڈیڈ لاک ہے؟

دو بڑی اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میں وزیراعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کے حوالے سے تو اتفاق ہو چکا ہے لیکن جو معاملہ ابھی طے نہیں ہو پایا وہ یہ ہے کہ اگلی حکومت کو ڈیڑھ برس چلنے دیا جائے یا نئے الیکشن کی طرف جایا جائے۔
اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان سے پہلے اور بعد میں اس معاملے پر دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کے مابین گفتگو ہو چکی ہے لیکن کچھ طے نہیں ہو پایا۔ مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف اب بھی عمران خان کی چھٹی ہونے کی صورت میں فوری نئے انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں۔
دوسری جانب آصف زرداری چاہتے ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ اپنی آئینی مدت پوری کرے اوراسی لئے انہوں نے شہباز شریف کو اگلے سیاسی منظر نامے میں وزارت عظمی کے لئے تجویز کیا ہے۔ بلاول بھٹو بھی یہ خواہش ظاہر کر چکے ہیں کہ عمران کی چھٹی ہونے کے بعد اگلا وزیراعظم اکثریتی جماعت نواز لیگ سے ہو۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں موجودہ اسمبلی کا مستقبل کیا ہوگا اس بارے فیصلہ ابھی ملتوی کر دیا گیا ہے اور یہ طے ہوا ہے کہ ساری توجہ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے پر مرکوز کی جائے۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں الیکشن کے وقت ایکدوسرے کی متحارب ہوں گی لہذا ان میں تعاون صرف عمران خان کو نکالنے کی حد تک محدود ہو گا۔
پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی موقع ملتے ہی بھاگنے کو تیار
لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ہٹانے میں حکومتی اتحادیوں کو ساتھ ملانے میں جس بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے وہ یہ کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی بھی نئے الیکش کے حق میں نہیں ہیں۔ اس مرحلے پر پوزیشن جماعتوں اور حکومتی اتحادیوں کے درمیان اہم مسئلہ یہ ہے کہ کیا عمران حکومت کو گرانے کے فوراً بعد انتخابات کرائے جائی یا اپوزیشن کی آنے والی حکومت اگلے سال کے آخر میں طے شدہ عام انتخابات تک باقی ڈیڑھ سال کی مدت مکمل کرے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ آصف زرداری مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو جلد انتخابات کا مطالبہ ترک کرنے کے لیے قائل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اس سے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے معاملات خراب ہو سکتے ہیں۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کا کوئی بھی اتحادی قلیل مدتی فائدوں کے لیے حکمران اتحاد کو چھوڑ کر اپوزیشن کا ساتھ دینے پر راضی نہیں ہوگا۔
زرداری کا کہنا ہے کہ عمران کی فراغت کے بعد اسمبلیاں تحلیل کرنا غیر دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔ انکا موقف ہے کہ طے شدہ عام انتخابات تک کے عرصے کے دوران نئی حکومت ملکی معیشت ٹھیک کرنے اور گورننس بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ تاہم یہ معاملہ اب تک حل نہیں ہو پایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاملہ لٹکا رہے اور عمران خان کی چھٹی ہو جائے تو پھر وہی ہوگا جو نواز شریف چاہتے ہیں کیونکہ قومی اسمبلی میں اکثریتی جماعت نواز لیگ یے اور اگر وہ وزارت عظمی کے لیے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کرتی تو پیپلز پارٹی اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی لہذا سیاسی ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے صدر کو آئین کے تحت اسمبلیاں تحلیل کرنے کا جواز مل جائے گا جس سے نئے الیکشن کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔
