مولانا اور حکومت کے مابین دینی مدارس کی رجسٹریشن کا تنازع کیا ہے؟

وفاقی حکومت اور مولانا فضل الرحمن کے مابین دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر تنازع نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے جس کے بعد مولانا فضل الرحمن نے ملک گیر حکومت مخالف تحریک چلانے کی دھمکی بھی دے ڈالی ہے۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2024 کے آخری ہفتے میں جب پارلیمان نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تو اُس موقع پر جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ’دینی حلقوں کے دو اہم مطالبات‘ پارلیمان سے منظور کروانے پر ملک کے مذہبی حلقوں اور گروہوں کی جانب سے خراج تحسین پیش کی گیا تھا۔ اُن دو مطالبات میں ایک تو پاکستان سے سود کے نظام کا بتدریج خاتمہ تھا جبکہ دوسرا اہم مطالبہ ملک میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو محکمہ تعلیم کی بجائے پرانے سوسائیٹیز ایکٹ 1860کے ماتحت لانا تھا۔
تاہم دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل جب پارلیمان سے منظوری کے بعد فائنل منظوری کے لیے ایوانِ صدر پہنچا تو صدر آصف علی زرداری نے اس کے مسودے پر اعتراض لگا کر اسے واپس پارلیمان کو بھیج دیا۔ یہیں سے اس معاملے کی ابتدا ہوئی جس کے پس منظر میں جے یو آئی ف کے سربراہ کی جانب سے مطالبات کی منظوری کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ‘ کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں مولانا نے حکمراں اتحاد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’علما کو تقسیم کرنے کی سازش‘ پر عمل پیرا ہے۔ مولانا حالیہ دنوں میں یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ ان کی جماعت حکومت کی جانب سے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملات میں مداخلت کو قبول نہیں کرے گی۔
یہاں اہم سوالات یہ ہیں کہ آخر دینی مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ ہے کیا؟ نئے ترمیمی بِل میں رجسٹریشن سے متعلق کیا بات کی گئی ہے اور آخر اس معاملے نے حکومت کے اتحادی مولانا فضل الرحمان کو حکمراں اتحاد کے سامنے کیوں کھڑا کر دیا ہے؟یاد رہے کہ پاکستان میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ ہمیشہ سے ایک پیچیدہ موضوع رہا ہے۔ ماضی میں ملک کے طول و عرض میں پھیلے مدارس کی رجسٹریشن ’سوسائیٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860‘ کے تحت ہوتی تھی، اور مدارس کی انتظامیہ کو اس کام کے لیے متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر جانا پڑتا تھا۔
حکومت کا موقف ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن کا کوئی مرکزی نظام نہ ہونے کے سبب نہ تو ان کے نصاب پر کوئی حکومتی کنٹرول تھا اور نہ ہی اُن کو ملنے والی فنڈنگ پر کوئی نظر رکھنے والا تھا۔
جنرل مشرف کے دور اقتدار میں جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہوا تو مدارس کے نظام میں اصلاحات پر بات چیت کا آغاز ہوا۔ تاہم حکومت کی جانب سے پیش کردہ تجاویز ہمیشہ تنازعات کا شکار رہیں۔ اس دور میں جہاں ایک جانب مجوزہ اصلاحات کو ’مذہبی معاملات میں مداخلت اور مدارس پر حکومتی کنٹرول‘ کی کوشش قرار دیا گیا تو دوسری جانب حکومت نے انھیں ’پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر‘ قرار دیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام مدارس میں تو شدت پسندی یا انتہا پسندی کی تعلیم نہیں دی گئی تاہم مدارس کی ایک بڑی تعداد ایسی رہی ہے جو انتہاپسندانہ سوچ اور مذہبی فرقہ واریت کی سوچ کو پروان چڑھاتے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ تحریک طالبان، القاعدہ اور ان جیسے دیگر شدت پسند گروہوں کے کئی اراکین پاکستان میں قائم دینی مدارس سے منسلک رہے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر پہلے جنرل مشرف، اُسکے بعد پیپلز پارٹی کے دور حکومت اور بعدازاں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ترتیب دیے گئے نیشنل ایکشن پلان میں دینی مدارس کے نظام میں إصلاحات کو ناگزیر قرار دیا گیا۔
بالآخر اکتوبر 2019 میں تحریک انصاف کے دورِ اقتدار میں حکومت نے وزارت داخلہ، سیکیورٹی ایجنسیوں، صوبوں، اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ پانچ سال سے زائد طویل مشاورت کے بعد دینی مدارس کو ’تعلیمی ادارے‘ سمجھتے ہوئے انھیں محکمہ تعلیم کے تحت ریگولیٹ کرنے کا چند مذہبی گروہوں کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔ 2019 میں پی ٹی آئی حکومت کے اس فیصلے کا چاروں مرکزی اسلامی مسالک کی نمائندہ تنظیموں یا بورڈز نے خیر مقدم کیا۔ اُسی کے تحت رجسٹریشن کے لیے وفاقی محکمہ تعلیم کے تحت ایک نیا ڈائریکٹوریٹ قائم کیا گیا جس کا نام ڈائریکٹوریٹ آف ریلیجیس ایجوکیشن ہے اور اس کی سربراہی اِس وقت سابق میجر جنرل غلام قمر کر رہے ہیں۔ محکمہ ریلیجیس ایجوکیشن کے افسران کے مطابق اس ڈائریکٹوریٹ کے تحت مدارس تعلیمی ادارے سمجھتے ہوئے ان کی رجسٹریشن بھی وزارت تعلیم میں ہوتی ہے، اس کے علاوہ ان کا سالانہ آڈٹ ہو تا ہے اور ان کے نصاب میں مرحلہ وار جدید علوم کو بھی شامل کیا جا رہا ہے، اس محکمے کے تحت مدارس میں طلبا کو گرانٹس بھی دی جاتی ہیں جبکہ غیرملکی طلبا کو ویزا ایشو کیا جاتے ہیں اور مدارس کو بینک اکاونٹس کھولنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔
اس ڈائریکٹوریٹ کے ملک بھر میں 16 دفاتر قائم ہیں جہاں مدارس کی رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ ملک میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق 18 ہزار مدارس اسی ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے رجسٹرڈ ہیں، جن میں ان مدارس کے مطابق 20 لاکھ سے زائد طلبا زیرتعلیم ہیں۔ لیکن تب پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ شدید سیاسی اختلافات کی وجہ سے جمیعت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدارس نے دینی مدارس کو محکمہ تعلیم کے ماتحت رکھنے اور مذہبی مدارس میں عمومی تعلیم شامل کرنے کی مخالفت کی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان سمیت کئی دیگر مسالک کے مدارس ان نئے نظام کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہیں اور اب وہ ایک بار پھر سوسائیٹز ایکٹ 1860کے تحت مدارس کی رجسٹریشن کروانا چاہتے ہیں جیسا کہ ماضی میں ہو رہا تھا، تاہم اس کے ساتھ انھوں نے ایک ترمیم بھی تجویز کی ہے۔
یہ ترمیمی بل 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت کے معاہدے کا حصہ تھا، جو اکتوبر 2024 میں جمیعت علمائے اسلام (ف) اور حکومت کے درمیان طے پایا تھا۔ سوسائٹیز رجسٹریشن (ترمیمی) ایکٹ 2024 دراصل مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 میں ہی ایک ترمیم ہے۔ سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے مطابق دینی مدارس کی رجسٹریشن کرنے کا ذمہ دار متعلقہ ڈپٹی کمشنرز ہونے چاہییں ناکہ وزارت تعلیم۔ نئے ترمیمی بل کی بعض دیگر شقوں کے مطابق اگر کسی مدرسے کے ایک سے زیادہ کیمپس ہوں تو انھیں صرف ایک رجسٹریشن کی ضرورت ہو گی، نہ کہ ہر کیمپس کے لیے علیحدہ رجسٹریشن ہو۔ ہر مدرسے کو اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی سالانہ رپورٹ رجسٹرار کے پاس جمع کروانی ہو گی۔ ہر مدرسے کے کھاتوں کا آڈٹ ایک آڈیٹر سے کروانا اور آڈٹ رپورٹ رجسٹرار آفس کو جمع کروانا لازمی ہو گا۔
کوئی بھی مدرسہ ایسا مواد نہیں پڑھا سکتا یا شائع نہیں کر سکتا جو شدت پسندی، فرقہ واریت، یا مذہبی نفرت کو فروغ دے۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضی کہتے ہیں کہ ماضی میں سوسائیٹز ایکٹ کے تحت مدارس کو قانونی حیثیت تو مل جاتی تھی مگر ان کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے کوئی مربوط نظام نہ ہونے کے سبب مدارس کو متعدد مسائل کا سامنا رہتا تھا۔ چونکہ اس ایکٹ میں مدارس کے معاملات کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے کوئی وضاحت موجود نہیں تھی، اس لیے مختلف وزارتیں اور محکمے مدارس کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالتے اور اپنی مرضی کے مطابق جوابدہ بناتے۔ کبھی وزارت داخلہ تحقیقات کے لیے آ جاتی، کبھی وزارت تعلیم نصاب کے حوالے سے دخل اندازی کرتی، اور چونکہ یہ ایکٹ وزارت صنعت و تجارت کے دائرہ کار میں آتا ہے، وہ بھی مدارس کو قانونی اور مالی معاملات پر تنگ کرتے تھے۔
2019 میں حکومت نے مدارس کے لیے ایک نیا ڈائریکٹوریٹ قائم کیا تاکہ اُن کی رجسٹریشن اور نگرانی کا منظم نظام بنایا جا سکے تاہم مولانا فضل الرحمان اور ان کے ساتھیوں کو اس نئے ڈائریکٹوریٹ کے تحت رجسٹریشن پر اعتراض ہے۔ مدارس کا یہ مؤقف ہے کہ نئے نظام کے تحت رجسٹر ہونے سے ان کی خودمختاری ختم ہو جائے گی۔ انھیں خدشہ ہے کہ حکومت ان پر نصاب کے حوالے سے دباؤ ڈالے گی اور اپنی مرضی کا تعلیمی مواد نافذ کرے گی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت اپنے تعلیمی ادارے ٹھیک سے نہیں سنبھال پا رہی، تو مدارس پر کیسے قابو پا سکے گی؟ اس کے علاوہ مدارس کے منتظمین سمجھتے ہیں کہ ان کے موجودہ ڈونرز حکومتی کنٹرول کے بعد انھیں چندہ دینا بند کر دیں گے۔
لیکن دوسری طرف ہزاروں مدارس اس نئے نظام کے تحت رجسٹر ہو چکے ہیں اور انکا موقف ہے کہ انھیں اس سے فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ ان کے بینک اکاؤنٹس فعال ہیں، اور حکومتی گرانٹس کی بدولت ان کے تعلیمی معیار میں بہتری آئی ہے۔ ان مدارس کے مطابق نئے ڈائریکٹوریٹ کے تحت ان کے بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ لیکن مولانا فضل الرحمان اور ان کے حمایت یافتہ پانچ مدارس بورڈز اس نئے نظام کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔
لیکن کامران مرتضیٰ کے مطابق ’مدارس قانون سازی کے ذریعے رجسٹریشن، آڈٹ، نصاب میں اضافے، اور اساتذہ و طلبہ کے کوائف کی فراہمی پر تیار ہیں، لیکن وہ کسی بھی حکومتی ادارے کے ماتحت ہونے کو اپنی آزادی پر سمجھوتہ سمجھتے ہیں۔‘ اسی ’خودمختاری اور آزادی‘ کے لیے مولانا فضل الرحمان بورڈز مدارس پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتے ہیں۔ اُن کے بقول اگر کوئی دوسرا نظام آتا ہے تو یہ مدارس کے لیے اختیار کی تقسیم کا باعث بن سکتا ہے، جو اُن کے اثر و رسوخ کو کم کر سکتا ہے۔
کیا مدارس بل پر حکومت مولانا کو قابو کرنے میں کامیاب ہوگی؟
یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) سے وابستہ بہت سے دینی مدارس پاکستان کے طول و عرض میں قائم ہیں۔ اِن مدارس کا تعلق زیادہ تر وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ہے جو دیوبندی مکتبہ فکر کے سب سے بڑے بورڈز میں شامل ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا اپنا مدرسہ، مدرسہ مفتاح العلوم، ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع ہے، جبکہ جامعہ قاسم العلوم ملتان اور جامعہ امداد العلوم جیسے دیگر مدارس بھی جے یو آئی سے وابستہ ہیں۔ ان مدارس میں دیوبندی مکتبہ فکر کا نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ یہ مدارس خاص طور پر خیبر پختونخوا، بلوچستان، اور جنوبی پنجاب میں زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں اور مولانا فضل الرحمان اور اُن کی جماعت کے رہنماؤں کا اُن پر گہرا اثر و رسوخ ہے۔
