سابق شامی صدر بشار الاسد اور ان کے خاندان کا مستقبل کیا ہے؟

شام میں حکومت کے خاتمے کے بعد صدر بشار الاسد نے اپنے خاندان سمیت روس میں وقتی طور پر پناہ تو حاصل کر لی ہے لیکن ان کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو چکا ہے۔ اب جب کہ شام میں اسلامی جہادی گروپ ہیئت تحریر الشام حکومت سازی کا کام آگے بڑھا رہا ہے تو شام کے معزول ہونے والے صدر، ان کی اہلیہ اور ان کے تین بچوں کے مستقبل کے بارے میں بھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایسے میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا؟

یاد رہے کہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے سے نہ صرف ان کے 24 سالہ دور اقتدار کا خاتمہ ہو گیا بلکہ ان کے خاندان کی ملک پر نصف صدی سے زائد حکمرانی بھی اختتام کو پہنچی کیونکہ 2000 میں مسند اقتدار پر براجمان ہونے سے قبل بشار کے والد اسد بھی تین دہائیوں تک شام کے صدر تھے۔ بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2011 میں شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دنوں میں روس بشار الاسد کا اہم اتحادی بن کر سامنے آیا تھا جس کے شام میں دو فوجی اڈے بھی موجود ہیں۔

سال 2015 میں روس نے بشار الاسد کی حمایت میں باغیوں کے خلاف فضائی حملے شروع کیے جس سے ملک میں جاری جنگ کا حتمی نتیجہ بشار الاسد کے حق میں نکلا اور انکے خلاف برسرپیکار گروپوں کو پے در پے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ روس کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں میں نو برس میں 21,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں 8,700 عام شہری بھی شامل تھے۔ تاہم اس مرتبہ روس کی توجہ یوکرین جنگ پر ہونے کی وجہ سے وہ بشار الاسد کے مخالف باغیوں کے حملے روکنے کی پوزیشن میں نہیں تھا لہذا باغی جیت گئے۔

باغی فورسز کی جانب سے دمشق کا کنٹرول سنبھالنے کے چند گھنٹے بعد روس کے سرکاری میڈیا نے یہ خبر دی کہ بشار الاسد اپنے خاندان سمیت روس آ گئے ہیں اور انھیں انسانی بنیادوں پر پناہ دی جائے گی۔ مگر جب کریملن کے ترجمان سے بشار الاسد کو پناہ دینے کے متعلق صحافیوں نے سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ ‘میرے پاس ابھی اس بارے آپ کو بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ یقیناً پناہ سے متعلق فیصلہ ریاست کے سربراہ کی اجازت کے بغیر نہیں لیا جا سکتا۔ یہ ان کا فیصلہ ہے۔’

اس گول مول بیان کی وجہ شاید یہ ہو کہ شام کی نئی حکومت روس سے بشار الاسد کی حوالگی کا مطالبہ نہ کر دے۔ یاد ریے کہ شام سے اسد خاندان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل نے شامیوں کو ‘انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایک ہولناک یا ریکارڈ قرار دیا ہے جنھیں اسد خاندان کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بے شمار تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں کیمائی ہتھیاروں اور بیرل بم سے حملے اور دیگر جنگی جرائم شامل ہیں۔ جرائم کی اس فہرست میں قتل، تشدد، جبری گمشدگیاں اور غارت گری شامل ہیں جو انسانیت کے خلاف سنگین جرائم ہیں۔ انھوں نے عالمی برادری سے یہ کہا ہے کہ جن لوگوں نے عالمی قانون کو توڑا اور دیگر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں ان کی تحقیقات ہونی چاہیں اور جرائم کی پاداش میں ان پر مقدمہ چلنا چاہیے۔

Back to top button