عمران کی دوسری اہلیہ ریحام خان کی ریپبلک پارٹی کا مستقبل کیا ہے ؟

عمران خان کی دوسری اہلیہ ریحام خان ‘پاکستان ریپبلک پارٹی’ نامی سیاسی جماعت بنانے کے بعد وہ تیسری پاکستانی خاتون بن گئی ہیں جو ایک سیاسی جماعت کی سربراہ ہیں۔ گذشتہ دو برس کے دوران ریحام کی پارٹی کے علاوہ تین نئی سیاسی جماعتوں کا اعلان بھی ہوا ہے۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی جماعت سیاسی منظر نامے میں اپنی جگہ نہیں بنا پائی۔
ریحام خان کی رپبلک پارٹی سے پہلے پچھلے دو برس میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے’استحکام پارٹی’ لانچ کی تھی جس کی سربراہی عمران خان کے سابق ساتھی جہانگیر خان ترین کو سونپی گئی تھی۔ تاہم 2024 کے الیکشن میں استحکام پاکستان کا دھڑن تختہ ہو گیا اور ترین خود بھی الیکشن ہار کر سیاست سے باہر ہو گئے۔ 2024 کے الیکشن سے پہلے عمران خان کے ایک اور ساتھی سابق وزیر دفاع اور سابق وزیراعلی خیبر پختون خواہ پرویز خٹک نے بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر ’تحریک انصاف پارلیمینٹیرین‘ نامی جماعت لانچ کی تھی لیکن جہانگیر ترین کی طرح پرویز خٹک بھی الیکشن ہار گئے اور ان کی پارٹی بھی غائب ہو گئی۔ تیسری سیاسی جماعت ’عوام پاکستان پارٹی‘ ہے جو نون لیگ کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مفتاح اسماعیل کے ساتھ مل کر لانچ کی لیکن اس کا بھی کوئی پتہ نہیں کہ کہاں سے آئی اور کہاں چلی گئی۔
اب یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم کے پوتے اور میر مرتضیٰ بھٹو کے ہم جنس پرست بیٹے ذوالفقار بھٹو جونیئر بھی جلد ہی اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کریں گے، حالانکہ انکی والدہ غنوی بھٹو پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ بنا کر اپنا سیاست کا شوق پورا کر چکی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کی باگ ڈور انکی بیوہ نصرت بھٹو نے سنبھالی اور ان کی بیٹی بےنظیر بھٹو چیئرپرسن بن گئیں۔ بےنظیر بھٹو اپنی دوسری وزارت عظمیٰ کے وقت پارٹی کی کمان سنبھال کر اس کی سربراہ بن گئیں۔
بےنظیر بھٹو کی بھاوج غنویٰ بھٹو تیسری خاتون تھیں جو سیاسی جماعت کی سربراہ ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کی سربراہ ہیں۔ اس جماعت کی بنیاد ان کے شوہر میر مرتضیٰ بھٹو نے رکھی تھی۔
دراصل فلم سٹار مسرت شاہین وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اپنی سیاسی جماعت ’مساوات تحریک‘ بنائی، تاہم اس جماعت کو پذیرائی نہ مل سکی۔ اب تک ایک صدرِ ملکت، تین وزرائے اعظم، ایک نائب وزیراعظم، تین آرمی چیفس، ایک ایئر مارشل اور ایک سابق چیف جسٹس پاکستان سمیت کئی نامور سیاست دانوں اور شخصیات نے سیاسی جماعتوں کی داغ بیل ڈالی، لیکن وقت کے ساتھ یہ سیاسی جماعتیں تاریخ کے اوراق میں گم ہو گئیں۔
قیامِ پاکستان کے چند ماہ بعد ملک کی خالق جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کا نام تبدیل کر کے پاکستان مسلم لیگ کر دیا گیا تھو۔ پاکستان بننے کے لگ بھگ پہلے 10 برسوں میں چار سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں۔ ان میں پہلی جماعت پیپلز پارٹی آف پاکستان تھی۔ اس کے بعد آزاد پارٹی پاکستان، آل پاکستان جناح عوامی مسلم لیگ اور پھر رپبلکن پارٹی بنیں۔ 1956 میں بننے والی رپبلکن جماعت کو ’کنگز پارٹی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر تو مسلم لیگ ہی وہ جماعت رہی، جس کے ساتھ لاحقہ لگا کر نئی مسلم لیگ کا ظہور ہوا، جیسے جنرل ایوب خان کی مسلم کنونشن، پیر پگاڑا کی مسلم لیگ فنکشنل، اسی دھڑے کے رکن اور سابق وزیر محمد خان جونیجو جب 1985 کے غیر جماعتی الیکشن کے بعد وزیر اعظم بنے تو پھر پاکستان مسلم لیگ وجود میں آئی۔ دراصل اس جماعت کا بانی جنرل ضیاء الحق تھا۔
جنرل ضیا کے ایک طیارہ حادثے میں جہنم رسید ہونے کے بعد اسی مسلم لیگ سے کئی دھڑے بن گے۔ ان میں مسلم لیگ ن، مسلم لیگ (جونیجو)، سابق وزیراعلیٰ منظور وٹو کی مسلم جناح اور جنرل ضیا الحق کے بیٹے اعجازالحق کی مسلم لیگ ضیا سرفہرست ہے۔
اس سے پہلے پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے مسلم لیگ کنونشن کی بنیاد رکھی تو اس کے مدمقابل مسلم لیگ کونسل کا ظہور ہوا۔ کونسل مسلم لیگ کے سربراہ سابق گورنر جنرل اور سابق وزیراعظم خواجہ ناظم الدین تھے۔ اسی جماعت میں جنرل ایوب خان کے سگے بھائی سردار محمد خان بھی شامل تھے۔ خواجہ ناظم الدین پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل اور دوسرے ہی وزیراعظم بنے۔
نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اقتدار پر قابض ہونے والے سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد دو سیاسی جماعتیں بنیں۔ پہلی مسلم لیگ ن سے مسلم لیگ ق، یعنی مسلم لیگ قائداعظم۔ جبکہ دوسری جماعت پیپلز پارٹی نے اپنے خلاف کسی ممکنہ کارروائی کے خدشے پر بنائی اور اسکا نام پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین رکھا۔ چار ’پی‘ والی یہ جماعت سال 2002 سے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کا حصہ ہے کیونکہ یہی الیکشن میں حصہ لیتی ہے۔
2002 میں جہاں پیپلز پارٹی کی جگہ پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین متعارف ہوئی، وہیں اس نے مشرف کے ایما پر فیصل صالح حیات کی زیر قیادت پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کو جنم دیا، لیکن پھر یہ مسلم لیگ ق میں ہی ضم ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کے سابق رہنما اور سابق صدر سردار فاروق احمد خان لغاری نے صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد اپنی جماعت ’ملت پارٹی‘ بنائی تاہم پھر وہ اسے تحلیل کر کے مسلم لیگ قاف کا حصہ بن گئے ۔
جنرل ایوب خان کی طرح جنرل پرویز مشرف نے بھی اپنی سیاسی جماعت متعارف کروائی، جس کا نام آل پاکستان مسلم لیگ رکھا گیا لیکن یہ جماعت کوئی جگہ نہ بنا سکی۔ سابق آرمی چیف جنرل مزرا اسلم بیگ نے پہلے تو مسلم لیگ جونیجو میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں ’عوامی قیادت پارٹی‘ بنائی، جو اب بھی برائے نام ہی ہے۔
کیا امریکی خوشنودی کے لیے پاکستان 18 ارب ڈالرز جرمانہ دے پائے گا ؟
اس سے پہلے ایئر مارشل اصغر خان نے اپنی زندگی میں دو سیاسی جماعتیں بنائیں۔ ’جسٹس پارٹی‘ کو تین سیاسی جماعتوں کے اتحاد میں ضم کر دیا گیا۔ دوسری سیاسی جماعت ’تحریکِ استقلال‘ کی داغ بیل ڈالی۔ یہ اپوزیشن کی مقبول جماعت رہی اور ایک وقت میں سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق وزیر قانون محمود علی قصوری اور ماہر قانون اعتراز احسن بھی اس کا حصہ رہے۔
اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت ’نیشنل عوامی پارٹی‘ پر جب پابندی لگائی گئی تو پھر اس کے سربراہ ولی خان نے ’عوامی نیشنل پارٹی‘ کے نام سے نئی جماعت بنائی۔ کراچی میں الطاف حسین کے ہاتھوں جنم لینے والی ’مہاجر قومی موومنٹ‘ اب ’متحدہ قومی موومنٹ‘ بن چکی ہے۔ اس میں سے ’ایم کیو ایم حقیقی‘ کا ظہور بھی ہوا۔ آج کل ’ایم کیو ایم پاکستان‘ اور ’ایم کیو ایم لندن‘ کے نام سے اس کے دو ڈھرے ہیں۔ اسی طرح سابق چیف جسٹس جسٹس افتخار چوہدری نے پاکستان جسٹس ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد پر رکھی، لیکن یہ بھی سیاسی منظر پر غیر فعال ہی رہی ہے۔
