ضلع کرم کے فسادات میں ملوث جنگجو گروپ زینبیون بریگیڈ کیا ہے؟

پاک افغان سرحد کے قریب واقع ضلع کرم میں حالیہ شیعہ سنی فسادات میں تحریک طالبان، داعش، سپاہ صحابہ، سپاہ محمد اور لشکر جھنگوی کے علاوہ جس شیعہ جنگجو تنظیم نے سب سے ذیادہ توجہ حاصل کی یے اس کا نام زینبیون بریگیڈ ہے جسے مبینہ طور پر ایرانی حمایت حاصل ہے۔
یاد رہے کہ ضلع کُرم کا علاقہ پاڑہ چنار افغانستان کے دارالحکومت کابُل سے تقریباً 100 کلومیٹر دور ہے اور جب نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر چڑھائی کی تو وہاں سے لوگوں نے کُرم میں بھی نقل مکانی کی۔ جب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں 2000 کے وسط میں ٹی ٹی پی کا قیام عمل میں آیا تو ان علاقوں میں فرقہ وارانہ جنگ میں اضافہ یوا۔ ضلع کرم کا شمار پاکستان کے قدیم ترین قبائلی علاقوں میں ہوتا ہے جسے غیر منقسم ہندوستان میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران 1890 کی دہائی میں باقاعدہ طور پر آباد کیا گیا۔ اس کے بعد یہاں زمینوں کی تقسیم شروع ہوئی اور اس ساتھ ہی مقامی قبائل میں تنازعات کا بھی آغاز ہوا۔
اگرچہ خیبر پختونخوا کے کُرم میں مقامی قبائل کے درمیان تنازعات کی تاریخ ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے لیکن رواں برس جولائی سے یہ علاقہ وقفے وقفے سے ہونے والی خونریز جھڑپوں اور شیعی سنی فرقہ وارانہ حملوں کی وجہ سے مسلسل خبروں میں رہا ہے۔صرف 2024 میں ضلع کرم کے مختلف علاقوں میں پیش آئے پرتشدد واقعات میں 200 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
امن و امان کی یہ خراب صورتحال مزید گمبھیر ہوتی ہوئی اُس وقت نظر آتی ہے جب حکام کی جانب سے اس تنازع میں ایسی شدت پسند تنظیموں اور افراد کے ملوث ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں جو پاکستان سے باہر کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ کرّم میں مسافر گاڑیوں کے قافلے پر حملے اور پھر قبائلی لشکر کی جانب سے متعدد مقامات پر لشکر کشی اور آتشزنی کے واقعات کے بعد جہاں پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف یہ کہتے نظر آئے کہ ’یہ فرقہ وارانہ جھگڑا پاڑہ چنار سے باہر آ رہا ہے، جس کی افغانستان سے باقاعدہ پشت پناہی ہو رہی ہے اور طالبان سرحد پار کر رہے ہیں۔‘ وہیں سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئیں جن میں ایک چیک پوسٹ پر پاکستان کے پرچم کی جگہ کالعدم تنظیم زینبیون بریگیڈ کا پرچم نصب کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ ضلع کُرم میں 21 نومبر کو گاڑیوں کے قافلے پر ہوئے ایک حملے میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے بیشتر کا تعلق شیعہ مکتبہِ فکر سے تھا۔ اس سے قبل اکتوبر میں کُرم میں سُنّی قبائل سے منسلک مسافروں کے قافلے پر بھی حملہ کیا گیا تھا، جس میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 21 نومبر کو پیش آئے واقعے کے اگلے روز مسلح لشکر نے ضلع کُرم میں سُنی آبادی والے علاقے بگن پر حملہ کیا جہاں سینکڑوں دُکانیں اور مکانات نظرِ آتش کر دیے گئے۔ اس حملے میں 32 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق شیعہ سنی فریقین کی صفوں میں شدت پسند تنظیموں کے ایسے جنگجو بھی شامل ہیں جو کہ غیرملکی تنازعات کا بھی حصہ رہے ہیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ کُرم میں جاری تنازع میں ٹی ٹی پی، داعش، لشکرِ جھنگوی، سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد سے جُڑے عناصر کے علاوہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ جنگجو تنظیم ذینبیون بریگیڈ بھی ملوث ہیں جس نے جدید ترین ہتھیاروں کا نہایت مہارت سے استعمال کیا۔ ایسے میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ زینبیون بریگیڈ کیا ہے اور کیا کرم فسادات میں اس کا کیا کردار ہے؟
بی بی سی اردو کے مطابق زینبیون بریگیڈ مسلح گروہ شیعہ پاکستانی جنگجوؤں پر مشتمل ہے جو شام میں خانہ جنگی کے دوران ایران کے اتحادی بشار الاسد کی حمایت میں لڑ رہا تھا اور انھیں عراق اور شام میں مقدس مقامات کی حفاظت کی ذمہ داری سوپنی گئی تھی۔
دوسری جانب ایران بھی زینبیون بریگیڈ سے اپنے تعلق کو خفیہ نہیں رکھتا۔ ایرانی سرکاری میڈیا بشمول پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی بھی شام اور عراق میں مارے جانے والے پاکستانی جنگجوؤں کی خبریں اور کہانیاں نشر کرتا رہتا ہے۔ کُرم کے علاقے باگزئی کے بلدیاتی نمائندے محمد ریاض کا کہنا ہے کہ ’زینبیون بھی طالبان کی طرح کالعدم تنظیم ہے لیکن پھر بھی اسکے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ ان لوگوں کے پاس ایسا جدید اسلحہ موجود ہے جو شاید پولیس کے پاس بھی نہ ہو۔
کُرم سے تعلق رکھنے والے سابق رُکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری کہتے ہیں کہ ’ماضی میں ہمارے علاقے کے لڑکے شام میں داعش کے خلاف لڑنے جاتے رہے ہیں اور وہ سب مقامی افراد ہیں۔ یہاں کوئی عربی یا فارسی شہری موجود نہیں۔ تاہم وہ کُرم میں زینبیون بریگیڈ کی منظم موجودگی کی تردید کرتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ’زینبیون بریگیڈ اب بھی متحرک ہے، تاہم اس کی جانب سے اب سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے کھل کر لوگوں کو بھرتی نہیں کیا جا رہا۔ لیکن اس تنظیم کے لیے ایران میں رہنے والے پاکستانی شیعہ افراد اب بھی بھرتی کیے جا رہے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ زینبیون بریگیڈ کبھی پانچ ہزار افراد سے زیادہ لوگوں پر مشتمل نہیں رہا، تاہم اب اس کے جنگجوؤں کی تعداد کم ہو کر چار ہزار تک آ گئی ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ زینبیون بریگیڈ کا پہلا مقصد شام میں داعش یا دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنا تھا، لیکن ’جب یہ لوگ پاکستان واپس آنا شروع ہوئے تو ان میں سے بہت سے لوگ پنجاب اور کراچی میں پکڑ لیے گے، لیکن پاڑہ چنار سے تعلق رکھنے والے جنگجو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریڈار پر نہیں آئے اور گرفتاریوں سے بچ گئے۔ اب یہی لوگ کرم میں ہونے والے فسادات میں ملوث پائے گے ہیں۔ یس درہے کہ پاکستان میں شیعہ برادری پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ماضی میں داعش کی خراسان شاخ قبول کرتی رہی ہے۔ تب یہ دعوی کیا کرتی تھی کہ یہ حملے شام اور عراق میں پاکستانیوں پر مشتمل زینبیون بریگیڈ کی خونی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اگست 2021 کے بعد داعش اور پاکستانی سُنّی تنظیموں نے ایک بار پھر پاکستان میں اپنی کارروائیاں تیز کی ہیں جس کے سبب زینبیون بریگیڈ نے بھی ملک میں اپنا محاذ سنبھال لیا ہے۔ اُن کے مطابق ’ضلع کرم وہ علاقہ جو کہ چاروں اطراف سے ان سُنّی انتہاپسند تنظیموں کے نرغے میں ہے، اسی لیے زینبیون نے بھی اپنا رخ ضلع کُرم کی طرف کر لیا ہے۔
