پاکستان سے UAE جانے والے مسافروں کے لیے نیا معاہدہ کیا ہے؟

پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے مسافروں کے لیے سفر کو مزید آسان بنانے کے لیے ’پری امیگریشن کلیئرنس‘ یا پیشگی امیگریشن نظام نافذ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس نظام کے تحت پاکستان سے یو اے ای جانے والے مسافروں کی امیگریشن اور کسٹمز کلیئرنس روانگی سے قبل پاکستان ہی میں مکمل کر لی جائے گی، جس کے بعد یو اے ای پہنچنے پر انہیں دوبارہ امیگریشن کے مرحلے سے نہیں گزرنا پڑے گا۔
وزارت داخلہ کے مطابق یہ نظام سعودی عرب کے ’روڈ ٹو مکہ‘ پراجیکٹ کی طرز پر متعارف کرایا جا رہا ہے، تاہم یہ صرف حج مسافروں تک محدود نہیں ہو گا بلکہ عمومی مسافروں کو بھی اس سے فائدہ پہنچانے کا امکان ہے۔ نئے امیگریشن نظام کے تحت پاکستان سے جانے والے مسافروں کو یو اے ای پہنچنے پر امیگریشن کاؤنٹرز پر طویل قطاروں میں کھڑا نہیں ہونا پڑے گا۔ پاکستانی مسافروں کی امیگریشن اور کسٹمز کلیئرنس روانگی سے قبل پاکستان ہی میں مکمل کر لی جائے گی، جس کے بعد وہ یو اے ای ایئرپورٹ پر مقامی مسافروں کی طرح براہ راست اپنا سامان وصول کر کے ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔ اس سسٹم سے نہ صرف وقت کی بچت ہو گی بلکہ سفر کا مجموعی تجربہ بھی زیادہ آرام دہ ہو جائے گا۔
وزارت داخلہ کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کی حالیہ ملاقات کے دوران یو اے ای کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کیساتھ یہ طے پایا کہ دونوں ممالک اس نظام کے نفاذ کے لیے باضابطہ معاہدے پر دستخط کریں گے۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اس نظام کو پائلٹ بنیادوں پر شروع کیا جائے گا اور اس کے لیے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو پہلی لوکیشن کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ اگر یہ پائلٹ منصوبہ کامیاب رہا تو اسے بعد ازاں ملک کے دیگر ایئرپورٹس تک توسیع دی جائے گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق اس نظام کے تحت امیگریشن اور اس سے متعلق تمام کلیئرنس پاکستان میں ہی انجام دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے یو اے ای جانے والے مسافروں کو امیگریشن کے طویل اور پیچیدہ عمل سے نجات ملے گی اور وہ براہ راست ایئرپورٹ سے باہر نکل سکیں گے۔ ان کے بقول یہ اقدام سفر کو آسان بنانے، وقت بچانے اور مسافروں کے لیے بہتر سہولت فراہم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحیج ال فلاسی کی سربراہی میں آنے والے وفد اور پاکستانی حکام کے درمیان اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے پائلٹ پراجیکٹ کے انتظامی اور تکنیکی ڈھانچے کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطے سے کام کریں گے۔ یاد رہے کہ امیگریشن پری کلیئرنس نظام دنیا کے کئی ممالک میں پہلے سے نافذ ہے، جن میں امریکہ اور کینیڈا نمایاں ہیں۔ اس نظام کے تحت کسی ملک کے امیگریشن اور کسٹمز حکام دوسرے ملک کے مخصوص ایئرپورٹس پر تعینات ہوتے ہیں اور وہاں سے سفر کرنے والے مسافروں کی مکمل امیگریشن کارروائی روانگی سے قبل ہی مکمل کر لیتے ہیں۔ اس میں پاسپورٹ اور ویزا کی جانچ، سفر کے مقصد کی تصدیق اور سامان کی کسٹمز کلیئرنس شامل ہوتی ہے۔
اسی طرز پر سعودی عرب کا ’روڈ ٹو مکہ‘ منصوبہ بھی پاکستان سمیت چند ممالک میں نافذ ہے، جس کے تحت عازمین حج کی امیگریشن پاکستان ہی میں مکمل کی جاتی ہے۔ عرب نیوز کے مطابق گزشتہ برس کراچی اور اسلام آباد سے تقریباً پچاس ہزار پاکستانی عازمین حج نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا، جس کے باعث انہیں سعودی عرب پہنچنے پر طویل قطاروں میں انتظار نہیں کرنا پڑا اور وہ براہ راست اپنی رہائش گاہوں کی طرف روانہ ہو گئے۔
پاکستانی حکام کے مطابق یو اے ای کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا نظام متعارف کرانے کا ارادہ ہے، تاہم یہ منصوبہ حج تک محدود نہیں ہو گا۔ وزارت داخلہ کے مطابق اس وقت یہ منصوبہ ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے خدوخال، تکنیکی تفصیلات اور مسافروں کے دائرہ کار کا تعین دونوں ممالک کے درمیان مشاورت سے کیا جائے گا۔ پاکستان میں امیگریشن کے ایک سینئر افسر کے مطابق اس نظام کے تحت یو اے ای کے امیگریشن اور کسٹمز حکام پاکستان کے منتخب ایئرپورٹس پر تعینات ہوں گے۔ مسافروں کو سفر سے قبل ایک آن لائن فارم پُر کرنا ہو گا جس میں امیگریشن سے متعلق سوالات شامل ہوں گے، اور ایئرپورٹ پر انہی معلومات کی بنیاد پر ان کے سفر کی تصدیق کی جائے گی۔
حکام کے مطابق اس بندوبست کی ضرورت اس لیے بھی محسوس کی گئی کیونکہ حالیہ برسوں میں یو اے ای کے ویزوں کے اجرا سے متعلق پاکستانی شہریوں کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ یہ معاملہ پارلیمان میں بھی زیر بحث آیا اور حکام نے تسلیم کیا کہ ایک موقع پر پاکستانی پاسپورٹ پر سخت پابندیوں کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، تاہم بعد ازاں اعلیٰ سطحی روابط کے نتیجے میں صورت حال میں بہتری آئی۔ دوسری جانب پاکستانی ایئرپورٹس پر انسانی سمگلنگ اور جعلی دستاویزات کے خلاف سخت کارروائیوں کے باعث بڑی تعداد میں مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا۔ امیگریشن حکام کے مطابق کئی کیسز میں لوگ جعلی ویزے، جعلی ملازمت کے معاہدے یا جعلی پروٹیکٹر مہروں کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے نہ صرف انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ پاکستان کے پاسپورٹ کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
پاکستان امریکی امیگرنٹ ویزا پابندیوں کی زد میں کیوں آ گیا؟
امیگریشن افسران کا کہنا ہے کہ نئے پری کلیئرنس نظام کے ذریعے ان تمام معاملات سے پاکستان کے اندر ہی نمٹا جا سکے گا۔ اس سے ایک طرف درست اور قانونی طریقے سے سفر کرنے والے مسافروں کو سہولت ملے گی اور دوسری جانب جعلی اور غیر قانونی طریقوں کی حوصلہ شکنی ہو گی، جس سے مجموعی طور پر پاکستانی مسافروں اور پاسپورٹ دونوں کی ساکھ بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
