شہبازشریف کی فراغت اورقومی حکومت کاکتناامکان ہے؟

ملکی سیاست میں شہباز شریف حکومت کے خاتمے، قومی حکومت کی تشکیل اور نام نہاد ’ونڈر بوائے‘ کے حوالے سے افواہیں زوروں پر ہیں، تاہم سینئر تجزیہ کار اور معروف صحافی مجیب الرحمٰن شامی کا ان تمام قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، اس لئے موجودہ سیاسی حالات میں وزیراعظم سمیت حکومت کی تبدیلی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ قومی حکومت کی تشکیل اور ’ونڈر بوائے‘ سے متعلق باتیں محض بے بنیاد افواہیں ہیں جنہیں جان بوجھ کر ہوا دی جا رہی ہے۔ ’ونڈر بوائے‘ کو جس نے تخلیق کیا ہے، وہی بہتر طور پر بتا سکتے ہیں کہ وہ دراصل ہے کون۔

خیال رہے کہ حکومتی اور عسکری حلقوں کی جانب سے جھوٹ کا پلندہ قرار دیے جانے کے باوجود اسلام آباد میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک قومی حکومت اور ایک ’ونڈر بوائے‘ کے روشن مستقبل سے متعلق افواہیں بدستور زور و شور سے گردش کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا، ٹی وی ٹاک شوز اور سیاسی تجزیوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ قومی حکومت کی صورت میں جلد ہی ایک نیا سیاسی سیٹ اپ لایا جا سکتا ہے جس میں مرکزی کردار کسی غیر معمولی صلاحیت کے حامل ونڈر بوائے کو حاصل ہوگا۔ تاہم اس ’ونڈر بوائے‘ کی شناخت اب تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔دوسری جانب حکومتی اور عسکری ذرائع ان تمام قیاس آرائیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں ٹیکنوکریٹ حکومت یا غیر منتخب قومی حکومت کا سیٹ اپ دیوانے کا خواب ہے جسکے پیچھے تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈ متحرک ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ان خبروں کا اصل مقصد ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے تا کہ موجودہ نظام چلانے والوں پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

اس بحث کا آغاز معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے ایک تجزیے سے ہوا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں اب بھی چوہے بلی کا کھیل جاری ہے اور قومی حکومت کے قیام کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ انکے مطابق ممکنہ نئے سیاسی سیٹ اپ میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے علاوہ تحریک انصاف کا ایک دھڑا بھی شامل ہو سکتا ہے، جبکہ اس بندوبست میں ایک ’ونڈر بوائے‘ کا کردار مرکزی حیثیت کا حامل ہو گا۔ اس تجزیے کے منظرعام پر آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا واقعی پاکستان ایک بار پھر سیاستدانوں کے بجائے ٹیکنوکریٹس کے ذریعے چلانے کی طرف بڑھ رہا ہے یا نہیں۔ اس دوران مختلف نام بھی سامنے آنا شروع ہو گئے جنہیں ممکنہ ٹیکنوکریٹ وزیراعظم یا وزیر خزانہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق ملک میں فوری طور پر کوئی بڑی حکومتی یا سیاسی تبدیلی آنے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں، معیشت بہتری کی جانب گامزن ہیں ایسے میں مقتدر حلقے کبھی بھی کوئی نیا تجربہ کرنے کا رسک نہیں لیں گے اس لیے شہبازحکومت کو آئندہ کچھ عرصے تک کسی بڑے خطرے کا سامنا دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری جانب نواز شریف خوش ہیں کہ ان کی بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں، بھائی وزیراعظم پاکستان ہیں، جبکہ خود وہ پارٹی کے صدر ہیں۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان اور تحریک انصاف بارے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ عمران خان کا مستقبل تو کوئی ’نجومی‘ ہی بتا سکتا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں ہے، عمران خان پر مشکلات اس وجہ سے ہیں کہ انہوں نے شورش کی سیاست شروع کردی ہے۔ اگر وہ نارمل طریقے سے سیاست کرتے رہتے تو صورت حال مختلف ہوتی، اب بھی اگر وہ اپنے سینیئر لوگوں کو فری ہینڈ دے دیں تو کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔ شامی کے مطابق جب کسی پر آفت آتی ہے تو وہ اپنی حکمت عملی بناتا ہے، عمران خان بھی کوئی ایسی حکمت عملی بنائیں جس کے ذریعے وہ اس مشکل سے نکل آئیں۔ مجیب الرحمٰن شامی کے بقول عمران خان کو سیاست سے مائنس نہیں کیا جاسکتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسمبلیوں میں بھی ہیں اور عوام میں بھی ان کی مقبولیت تاحال قائم ہے۔ ان کی پارٹی کے لوگ پچھلے دو ڈھائی سالوں سے جیلوں میں ہیں، جو کوتاہی ہونا تھی وہ ہوگئی، اب ہمیں قوم کو متحد بھی تو کرنا ہے، آگے بھی تو بڑھنا ہے۔ مجیب الرحمان شامی کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان وزیراعظم بن کر کیا کریں گے، ان کو چاہیے کہ وہ قوم کو متحد کریں، محاذ آرائی کی سیاست ختم کریں اور اس بات کو سمجھیں کہ اقتدار سے باہر رہ کر بھی قوم کی خدمت کی جاسکتی ہے، ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ  مریم نواز اور بلاول بھٹو دونوں میں وزیراعظم بننے کی صلاحیت ہے، اب دیکھیں موقع کس کو ملتا ہے۔

نوازشریف نے مشرف کو شہباز کی وجہ سے کیوں برطرف کیا؟

دوسری جانب تجزیہ کاروں کی اکثریت بھی ملک میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل قومی حکومت کی تشکیل کی افواہوں کو زمینی حقائق کے برعکس قرار دیتی ہے۔ معروف تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق ٹیکنوکریٹ حکومت بارے قیاس آرائیوں کی عملی سیاست میں کوئی واضح گنجائش نظر نہیں آتی۔ موجودہ نظام میں زیادہ سے زیادہ دو یا تین وزارتیں ٹیکنوکریٹس کو دی جا سکتی ہیں جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے، تاہم وزیراعظم کے طور پر کسی ٹیکنوکریٹ کی تعیناتی فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ سینیئر صحافی طلعت حسین کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی عملی طور پر ٹیکنوکریٹس ہی ریاستی امور چلا رہے ہیں کیونکہ خزانہ، خارجہ، دفاع اور داخلہ جیسے اہم شعبے انہی کے کنٹرول میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار ہوں، اورنگزیب ہوں، محسن نقوی ہوں یا خواجہ آصف، یہ سب بنیادی طور پر ٹیکنوکریٹس ہیں لہٰذا اس صورتحال میں ٹیکنوکریٹک نظام کے نفاذ کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔

Back to top button