IMF کو باہر سے پاکستان آنے والی رقم سے کیا تکلیف ہے؟

 

 

 

 

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے ایک بار پھر پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کر دیا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرتے ہوئے ترسیلات زر پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے، نئے ٹیکسز کے نفاذ کے علاوہ 11 سخت ترین شرائط عائد کر دیں۔ جس کے بعد آنے والے دنوں میں پاکستانیوں پر نیا ٹیکس بم گرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حاصل مراعات میں مزید کمی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

 

معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب کمرشل بینکوں اور منی ٹرانسفر کمپنیوں کو 100 ارب روپے سے زائد کمیشن کی ادائیگی پر سوال اٹھاتے ہوئے ترسیلاتِ زر کے نظام اور اس پر آنے والی لاگت کا مکمل جائزہ لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے مختلف اسکیموں کے ذریعے قانونی چینلز سے ترسیلاتِ زر میں اضافہ تو کیا، مگر اس پر دی جانے والی سبسڈی اور کمیشن اس کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کو قرض پروگرام جاری رکھنے کیلئے ترسیلاتِ زر کی لاگت کم کرنے، سبسڈی کے نظام میں شفافیت لانے اور اس پروگرام میں اصلاحات کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا حکم دے دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق آئی ایم ایف کو خدشہ ہے کہ پاکستان کی ترسیلات زر کی لاگت آئندہ چند برسوں میں ڈیڑھ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے کیونکہ پاکستان نے گذشتہ مالی سال کے دوران ترسیلات زر حاصل کرنے کے لیے کی گئی ادائیگیوں کی مد میں 100 ارب روپے کمرشل بینکوں اور بیرون ملک موجود منی ٹرانسفر کمپنیوں کو کمیشن کی مد میں دئیے ہیں۔

 

خیال رہے کہ ملکی معیشت میں ریڑی کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی ترسیلاتِ زر پاکستان کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہیں کیونکہ موجودہ ملکی معاشی و سیاسی حالات اور مختلف وجوہات کی بنا پر غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں جبکہ پاکستان کو کبھی گندم تو کبھی چینی جیسی بنیادی کھانے پینے کی اشیا بھی دوسرے ممالک سے خریدنی پڑتی ہیں جس کی ادائیگی کے لیے ڈالر چاہیے ہوتے ہیں۔ برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول کیلئے ترسیلاتِ زر پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی مد میں 38 ارب 30 کروڑ ڈالر موصول ہوئے جبکہ اس دوران پاکستان کی برآمدات 32 ارب ڈالر رہیں۔یعنی ترسیلات زر کی مد میں پاکستان میں برآمدات سے زیادی زر مبادلہ آیا ہے تاہم اب آئی ایم ایف نے اس پر بھی قدغن لگانا شروع کر دی ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مختلف سکیموں اور مراعات کے سبب قانونی یا بینکنگ چینلز سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ چند برسوں میں ملکی حالات کے سبب بڑی تعداد میں پاکستانی ہنر مند افراد ملک سے باہر گئے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے قانونی چینلز سے رقوم بھجوانے کے لیے کیے گئے اقدامات اور پاکستانی روپے کی مستحکم قدر کی وجہ سے لوگوں کا بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ذریعے پیسے پاکستان بھجوانے کے طریقہ کار پر اعتماد بڑھا ہے جس نے ترسیلاتِ زر کو پاکستان کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول کا اہم ترین ذریعہ بنا دیا ہے۔ پاکستان میں ملکی پیدوار یا جی ڈی پی میں ترسیلاتِ زر کا تناسب نو فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔

آسٹریلین حملہ آور پاکستانی کی بجائے بھارتی شہری نکلے

تاہم اب آئی ایم ایف نے ترسیلات زر پر آنے والی لاگت پر سوالات اٹھا دئیے ہیں اور پاکستان سے ترسیلات زر کی مد میں مختلف ممالک کو کی جانے والی ادائیگیوں کے نظام کا جائزہ لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ آئی ایم ایف سے قبل ترسیلاتِ زر پر آنے والی لاگت کے بارے میں سینیٹ کی کمیٹی برائے خزانہ بھی تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ کمیٹی ممبران کے مطابق موجودہ حکومتی پالیسی کے تحت ملک میں ترسیلات زر لانے والی کمپنیوں اور بینکوں کو ہر ٹرانزیکشن پر کمیشن دیا جا رہا ہے۔ اس سے رقم بھیجنے والے فرد کی بجائے بینکوں اور کمپنیوں کو زیادہ فائدہ ہونے ہو رہا ہے۔ تاہم اس میں قابل اعتراض بات یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے بیرون ممالک میں موجود ایجنٹس کو کمیشن کی مد میں فراہم کرنے والی رقم کا منظور کردہ بجٹ میں کہیں ذکر نہیں۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف کا اعتراض بھی یہ ہے کہ بجٹ میں کمیشن کی ادائیگی کیلئے کوئی رقم مختص نہیں کی جاتی بلکہ بعد میں خاموشی سے رقم جاری کر دی جاتی ہے۔ یعنی پروگرام کی مالیاتی لاگت ہی آئی ایم ایف کا مسئلہ ہے۔

 

واضح رہے کہ 2023 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ہنڈی اور حوالے کے مقابلے میں قانونی راستوں سے اپنے پاکستانی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے رقم ٹرانسفر کرنے کے لیے فوری اور سادہ ڈیجیٹل ٹرانسفرز نظام متعارف کروایا گیاتھا۔ نئے پروگرام کے تحت رقوم بھجوانے پر نہ صرف فیس ختم کی گئی تھی بلکہ زیادہ اور بار بار رقم بھجوانے والوں کو ریوارڈ یا انعامی پوائنٹس دینے کا سسٹم بھی متعارف کروایا گیاہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک موجود منی ٹرانسفر کمپنیز اور کمرشل بینکوں کو بھی ہر ٹرانزکشن کے عوض رقم ادا کی جاتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے تحت پاکستان کو زرمبادلہ سے حاصل ہونے والے ایک ڈالر کے عوض حکومت 20 سے 25 روپے ادا کرتی ہے۔کمرشل بینکوں کو یہ رقم سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے دی جاتی ہے جس کی ادائیگی وزارتِ خزانہ کرتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان نے گذشتہ مالی سال کے دوران ریمیٹنس کاسٹ کی مد میں کمرشل بینکوں کو 100 ارب روپے کی ادائیگی کی ہے تاہم اب آئی ایم ایف نے اس پورے نظام میں شفافیت لانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

Back to top button