ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی گرفتاری، اصل مسئلہ کیا ہے ؟

جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والی معروف انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کی گرفتاری سوشل میڈیا اور وکلا برادری کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ یاد رہے کہ دونوں میاں بیوی گرفتاری سے بچنے کے لیے تین راتیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں گزارنے پر مجبور رہے، تاہم جمعہ کی صبح عدالت کے احاطے سے نکلنے کے فوراً بعد پولیس نے انھیں حراست میں لے لیا۔
ناقدین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف عدالتی تحفظ کے تصور پر سوالیہ نشان ہے بلکہ اسے ریاستی اداروں کی جانب سے اختلافِ رائے کو دبانے کی ایک بھونڈی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے، تاہم تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انھیں کس مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے ایمان مزاری کی والدہ اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دعویٰ کیا کہ ایمان اور ہادی کو بغیر کسی ایف آئی آر دکھائے گرفتار کر کے الگ الگ گاڑیوں میں نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق اسلام آباد بار اس تمام صورتحال میں بے بس نظر آئی، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل ’فسطائیت کے عروج‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
وکلا کے مطابق جمعے کے روز ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وین میں سوار ہو کر سپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں ایک متنازع ٹویٹ کے مقدمے میں پیشی کے لیے جا رہے تھے کہ سرینا ہوٹل کے قریب پولیس نے ان کی گاڑی کو روک لیا اور دونوں کو حراست میں لے لیا۔
اس وقت گاڑی میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکریٹری بھی موجود تھے، جس کے باوجود گرفتاری عمل میں آنا وکلا برادری کے لیے غیر معمولی تشویش کا باعث بنا۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ چند روز قبل سپیشل جج سینٹرل کی جانب سے جاری کیے گئے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر چکی تھی۔ اس سے قبل جسٹس اعظم خان نے تھانہ کوہسار میں درج ایک مقدمے میں دونوں کو ایک دن کی حفاظتی ضمانت بھی دی تھی۔ اس کے باوجود ہائی کورٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی اور اسی دوران ان کے خلاف ایک اور مقدمے کی تفصیلات سامنے آتی رہیں۔
صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار واجد گیلانی نے اس گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وکلا برادری سے مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی گرفتاری کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جہاں صحافیوں، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے لکھا کہ اگر بار کے عہدیداران اپنی موجودگی میں بھی وکلا کو تحفظ فراہم نہ کر سکیں تو یہ پوری وکلا برادری کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ صحافی ماریانا بابر نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بغیر ایف آئی آر کے گرفتاری نے قانونی تقاضوں کو پامال کر دیا ہے۔
پس منظر میں دیکھا جائے تو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی کے ایک سب انسپکٹر کی مدعیت میں 22 اگست کو ایمان مزاری، ہادی علی چھٹہ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ وہ سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں اور عوام کے ریاستی اداروں پر اعتماد کو مجروح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پانچ دسمبر کو اسی مقدمے کی سماعت کے دوران ایمان مزاری نے ٹرائل کورٹ میں کہا تھا کہ انھیں علم ہے کہ کیس یکطرفہ طور پر چلایا جا رہا ہے اور ممکنہ طور پر انھیں سات سال قید کی سزا دی جائے گی، تاہم وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ ایمان کے شوہر ہادی علی چھٹہ نے عدالت سے دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرانے اور صفائی میں گواہ پیش کرنے کی اجازت مانگی تھی، جن میں لاپتہ افراد سے منسلک معروف صحافیوں اور سیاسی شخصیات کے نام شامل تھے۔
انسانی حقوق کے حلقوں کے مطابق ایمان مزاری کی گرفتاری کو ریاستی جبر اس لیے قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ برسوں سے جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں کی قانونی نمائندگی کر رہی ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای پہاڑوں کے نیچے بنکر میں کیوں؟
یاد رہے کہ پاکستان میں جبری گمشدگیاں ایک حساس اور متنازع مسئلہ ہیں، جہاں شہریوں کو بغیر کسی عدالتی حکم یا ایف آئی آر کے حراست میں لے کر طویل عرصے تک لاپتہ رکھا جاتا ہے۔ ایسے کیسز میں اکثر ریاستی اداروں پر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں، مگر شفاف تحقیقات اور جوابدہی کا فقدان برقرار ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری جیسے وکلا کی گرفتاری دراصل ان آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہے جو ریاستی اختیارات کے غیر قانونی استعمال پر سوال اٹھاتی ہیں۔ عدالت کے احاطے میں پناہ لینے کے باوجود گرفتاری، وارنٹس کی منسوخی کے بعد دوبارہ حراست، اور ایف آئی آر کے بغیر کارروائی جیسے عوامل اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ یہ معاملہ محض قانونی نہیں بلکہ طاقت اور اختلافِ رائے کے تصادم کی ایک مثال ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی گرفتاری محض ایک عدالتی کیس نہیں رہی بلکہ یہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی، عدالتی تحفظ اور انسانی حقوق کی جدوجہد پر ایک بڑے سوالیہ نشان کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
