آفریدی پنجاب کے ناکام دورے کے بعد سندھ کیوں جا رہے ہیں ؟

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوار سہیل آفریدی نے پارٹی ورکرز کو عمران خان کی رہائی کے لیے متحرک کرنے کے لیے دورہ لاہور کے بعد اب کراچی کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ رمضان المبارک کے بعد باقاعدہ سٹریٹ موومنٹ کا آغاز کر دیا جائے تاہم اس سٹریٹ موومنٹ کے انجام کا اندازہ ان کے دورہ لاہور کے مایوس کن نتائج سے ہی ہو جاتا ہے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے سندھ کے دورے کے حوالے سے سینئر صحافی مظہر عباس کا روزنامہ جنگ کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کو جب علی امین گنڈا پور کی جگہ وزیر اعلیٰ بنایا گیا تو خیال تھا وہ جذباتی انداز میں کوئی 26؍ نومبر، والا ایڈونچر کردیں گے مگر انہوں نے ماسوائے چند جذباتی تقاریر کے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے۔ سندھ کے دورے سے قبل وہ پنجاب کے دورے پر بھی گئے جہاں وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی حکومت نے ریاست کے روایتی حربے استعمال کر کے، اس دورے کو آفریدی کیلئے مشکل کردیا۔ کچھ نا خوشگوار واقعات بھی ہوئے جس پر خود وزیر اعلیٰ کے پی کو معذرت بھی کرنی پڑی۔ تاہم صوفیوں کی سرزمین سندھ کے دورے کے حوالے سے اُنہیں انتہائی مثبت پیغام ملا۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طرف سے نہ صرف ان کے دورے کا خیر مقدم کیا گیا بلکہ انھیں ملاقات کی بھی ’دعوت‘ دے دی گئی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سہیل آفریدی کا دورہ سندھ پی پی پی، اور پی ٹی آئی کے درمیان خلیج کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتاہے؟۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مظہر عباس کا کہنا ہے کہ پی پی پی اور پی ٹی آئی میں ایک قدرِ مشترک ہے کہ دونوں فارم۔47 کی پیداوار نہیں۔ پی پی پی سے لوگوں کا لاکھ اختلاف سہی مگر وہ اس بات کے ہمیشہ سے معترف رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی رہنماؤں اور پارٹی اپروچ میں کمال کی برداشت ہے۔ مظہر عباس کے مطابق کراچی کی ایک تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید کے درمیان خوشگوارجملوں کا تبادلہ ہوا اور شاہ صاحب نے سلمان راجہ کو سہیل آفریدی کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ ہاؤس میں کھانے کی دعوت بھی دی جس کے جواب میں پی ٹی آئی کے رہنما نے پی پی پی اور سندھ حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ سہیل آفریدی کے دورہ سندھ کے دوران کوئی بڑا’بریک تھرو‘ ہوتا ہے یا نہیں مگر کم از کم اِن رویوں سے بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ضرور ملے گی۔
مظہر عباس کے مطابق پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی میں دوسری قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں جماعتیں پچھلے تین انتخابات سے اپنے اپنے صوبوں میں الیکشن جیتتی آ رہی ہیں اور حکومت میں ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے تو کے پی کی روایتی سیاست کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ 2013کے الیکشن سے پہلےکےپی میں ہر الیکشن کے بعد کوئی نئی جماعت یا اتحاد حکومت بناتاتھا۔ تاہم 2013 سے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اقتدار پر براجمان ہے۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی ہے کہ دیگر بڑی جماعتوں نے خیبرپختونخوا میں اُس طرح سیاسی کام کرنا چھوڑدیا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہ آ تی تو تحریکِ انصاف کیلئے خیبرپختونخوا میں معاملات سیاسی طور پر سنبھالنا بہت مشکل ہوتا مگر ’غیر سیاسی‘ لوگوں کے غیر سیاسی فیصلے اکثر خود اُن کیلئے مشکلات کھڑی کردیتے ہیں۔
مظہر عباس کا مزید کہنا ہے کہ 1970سے لے کر پیپلز پارٹی سندھ میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہی ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی گزشتہ 17سال سے مسلسل حکومت میں ہے تاہم سندھ کی سیاست کے پی سے ذرا مختلف ہے۔ یہاں دیہی اور شہری سندھ کی تقسیم نے سیاست کو بھی تقسیم کر رکھا ہے۔ تاہم دیہی سندھ میں تا حال پی پی پی کو کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں رہا کیونکہ نہ مسلم لیگ نے نہ ایم کیو ایم نے نہ ہی خود پی ٹی آئی نے یہاں سیاسی کام کیے جبکہ ماضی میں شہری سندھ کےنتائج مختلف آتے رہے ہیں کبھی شہر جماعتِ اسلامی کے پاس گئے تو کبھی ایم کیو ایم کے اور اب عملی طور پرسندھ کے شہری علاقوں میں’’ووٹ‘‘ کی حد تک پی ٹی آئی مضبوط ترین جماعت نظر آتی ہے۔ مظہر عباس کے مطابق سہیل آفریدی کے ممکنہ دورے سے پی ٹی آئی کی تنظیمی صورتحال کھل کر سامنے آ جائے گی۔
پی ٹی آئی سے مذاکرات پر نون لیگی قیادت اختلافات کا شکار
مظہر عباس کے مطابق بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سندھ کے دورے کے دوران کسی عوامی تحریک کے آغاز سے پہلے زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔ تاہم اگر سندھ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے ممکنہ جلسے جلوسوں میں کوئی بڑی رکاوٹ کھڑی نہ کی گئی اور پاکستان پیپلز پارٹی کسی دباؤ کے تحت آفریدی کے لیے پنجاب جیسی صورتحال پیدا کرنے سے گریز کرتی رہی تو آگے چل کر ان جماعتوں کے درمیان مسلم لیگ (ن) کو مائنس کر کے کسی سیاسی اتحاد کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ البتہ اس دورے کے نتیجے میں کراچی اور حیدرآباد میں پی ٹی آئی، ایم کیو ایم (پاکستان) اور جماعتِ اسلامی کے لیے سیاسی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
