شہباز شریف کی کابینہ میں رد و بدل کا اصل مقصد کیا ہے؟

وفاقی حکومت جہاں ایک طرف مختلف محکمے بند کر کے رائٹ سائزنگ کے تحت اخراجات میں کمی کے بلند و بانگ دعوے کر تی دکھائی دیتی ہے وہیں دوسر ی جانب شہباز شریف نے حکومتی دعوؤں کے برعکس اپنوں کو نوازنے کیلئے وفاقی کا بینہ میں مزید 10افراد کی شمولیت کا عندیہ دے دیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کئی کئی وزارتیں سنبھالے بیٹھے وزراء سے ایک سےزائد وزارتیں واپس لے کر وفاقی کابینہ میں تو سیع کا فیصلہ کر لیا ہے۔تاکہ زیادہ سے زیادہ پارٹی رہنماؤں کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔ وفاقی کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے پارٹی قائد نواز شریف سے مشاورت کے علاوہ دیگر قریبی رفقاء سے ضروری صلاح مشورے مکمل کرلئے ہیں جبکہ شہباز شریف نے اس نے اس بارے میں حکومتی حلیف جماعتو ں کی قیادت کو بھی اعتماد میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں توسیع کے فیصلے پر آئند ہ ماہ عملدرآمد ہو جائیگا
خیال رہے کہ وفاقی کابینہ فی الوقت 18 ارکان پر مشتمل ہے جبکہ حکومت کے قلم دانوں کی مجموعی تعداد 33 ہے۔کئی وزراء کو ایک سے زیادہ قلمدان تفویض کئے گئے ہیں تاہم وفاقی حکومت نے اب کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے،ذرائع کے مطابق کابینہ میں مزید 10ارکان کو شامل کیا جائیگا جس کے بعد کابینہ کے ارکان کی تعداد 18 سے بڑھ کر 28ہو جائیگی۔ تاہم وفاقی کابینہ میں توسیع سے قبل وزراء کے محکمہ جات تبدیل کئے جائیں گے جبکہ کئی وزراء سے قلمدان واپس لینے کے حوالے سے بھی مشارت کا سلسلہ جاری ہے
ذرائع کے مطابق کابینہ میں دو وزرائے مملکت، تین خصوصی معاونین اور ایک مشیر وفاقی حکومت کا حصہ بننے جا رہےہیں تاہم کابینہ میں اہم ترین شمولیت وزیراعظم کے سابق پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر سید توقیر شاہ کا اضافہ ہوگا۔جو ان دنوں عالمی بینک میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، انہیں گزشتہ سال نومبر میں چار سال کے لیے اس منصب پر مقرر کیا گیا تھا اور سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ان کا استعفیٰ منظور کرکے واشنگٹن میں عالمی بینک کی ذمہ داری قبول کرنے کی اجازت دیدی تھی۔ڈاکٹر سید توقیر شاہ وفاقی کابینہ میں مکمل وزیر کے درجے پر فائز ہوں گے انہیں وزیراعظم کامعاون خصوصی مقرر کیا جائے گا، ڈاکٹر توقیر شاہ کی وزیر اعظم سے جلد ملاقات متوقع جس میں ان کی ذمہ داریوں اور عہدے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
ذرائع نے مزید بتایا ہے کابینہ کے اہم قلمدانوں میں زیادہ ردوبدل کی توقع نہیں تا ہم چار سے پانچ وزرائے مملکت کو ذمہ داریاں سونپے جانے کا امکان ہے جن ارکان پارلیمنٹ کے نام ان ذمہ داریوں کیلئے سامنے آئے ہیں ان میں بیرسٹر عقیل ملک، سینیٹر طلال چوہدری، اقلیتی سینیٹر خلیل طاہر سندھو، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اورحنیف عباسی شامل ہیں۔
ٰیاد رہے کہ گزشتہ مارچ میں شہباز شریف کی زیر قیادت موجودہ مخلوط حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وفاقی کابینہ میں یہ پہلی بڑی توسیع ہوگی، اس دوران پتہ چلا ہے مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف کی ہدایت پر وزیراعظم نے طے کیا ہے کہ وفاقی کابینہ کے ارکان کی کارکرد گی اور کابینہ کی مجموعی استعداد کے باقاعدگی سے جائزے کا نظام بھی قائم کیا جائیگا جس کے بعد ایوان وزیراعظم سہ ماہی بنیادوں پر وزراء کی کارکردگی کے حوالے سے اپنا جائزہ مرتب کریگا، اس ضمن میں وفاقی وزیر اقتصادی امور سینیٹر احد چیمہ جو اسٹیبلشمنٹ کے امور کے نگران بھی ہیں انہیں خصوصی ٹاسک سونپا جائیگا جس کیلئے باقاعدہ سیل قائم کیا جا رہا ہے۔
