کیا پی ٹی آئی اورفوج کےرابطےبحال ہونے کی خبر سچی ہے؟

حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مذاکراتی عمل شروع ہونے کے بعد اقتدار کی راہداریوں میں افواہوں کا بازار گرم ہے۔ اب سیاست کے ایوانوں میں افواہیں زیر گردش ہیں کہ پی ٹی آئی کے ایک بار پھر مقتدر قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ سے خفیہ رابطے بحال ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی حلقوں کا دعوی ہے کہ بیک چینل بحال ہونے کے بعد ہی حکومت کو تحریک انصاف سے مذاکرات آگے بڑھانے کا گرین سگنل ملا ہے اور حکومت ایک بار پھر پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھنے پر آمادہ ہوئی ہے۔ تاہم سیکورٹی ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ سیاسی مذاکراتی عمل کا نہ تو حصہ ہے اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کو تحریک انصاف کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں کوئی دلچسپی ہے۔ تاہم بیک چینل رابطوں بارے سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے جارحانہ طرز سیاست اور الزام تراشیوں کی وجہ سے معطل ہونے والے بیک چینل مذاکرات دوبارہ شروع ہو چکے ہیں تاہم اگر عمران خان کی جانب سے کشیدگی کی سیاست، فوج پر تنقید اور معیشت کو نقصان پہنچانے کے اقدامات جاری رہے تو تحریک انصاف کو مشکلات کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

 انصار عباسی کے مطابق ’’حکومت‘‘ اور تحریک انصاف کے درمیان بیک چینل مذاکرات، جو دونوں فریقوں کے درمیان باضابطہ بات چیت کے عمل پر توجہ مرکوز کرنے کے درمیان چند ہفتے پہلے رک گئے تھے، دوبارہ بحال ہو کر ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ ایک باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کے دو رہنما بیرسٹر گوہر اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے تین بیحد اہم شخصیات سے خصوصی ملاقات کی۔

انصار عباسی کے مطابق اس بیک چینل میٹنگ کی کوئی باضابطہ تصدیق ہوئی ہے اور نہ پی ٹی آئی نے اس بارے کوئی وضاحت کی ہے۔ تاہم، ذریعے کا اصرار ہے کہ یہ ملاقات بہت ہی اہم رہی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بیک چینل ملاقاتیں جاری رہیں گی۔ آئندہ ملاقات میں ایک وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کی طرف سے دو اہم شخصیات شامل ہوں گی۔ تاہم، ان ملاقاتوں کا نتیجہ تحریک انصاف کی مستقبل کی پالیسیوں اور اس کے طرز سیاست پر منحصر ہے۔ اسے نظام کو قبول کرنا ہوگا اور کشیدگی اور تصادم کی سیاست سے دوری اختیار کرنا ہوگی۔

انصار عباسی کے مطابق اس تازہ ترین بیک چینل میٹنگ سے قبل، پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما نے دسمبر کے تیسرے ہفتے میں ایک وفاقی وزیر اور ایک اہم عہدیدار سے ملاقات کی تھی۔ جس میں تحریک انصاف کو پیغام دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنی کشیدگی، تشدد اور فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت پر تنقید اور معیشت کو نقصان پہنچانے کی پالیسی جاری رکھے گی تو مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ لیکن اگر پارٹی مفاہمت کا انتخاب کرتی ہے تو اسے اپنی پالیسی میں واضح تبدیلی لانا ہوگی اور گزشتہ چند برسوں کے طرز سیاست سے علیحدگی اختیار کرنا ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ بنیادی طور پر عمران خان کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر پی ٹی آئی سیاسی مقام چاہتی ہے اور معمول کی سیاست کی طرف لوٹنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اسے فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ محاذ آرائی کو روکنا ہوگا اور کسی بھی طرح ایسی سیاست نہیں کرنا ہوگی جس سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچے۔ ذرائع کے مطابق،اگر پی ٹی آئی کی جانب سے کشیدگی کی سیاست، فوج پر تنقید اور معیشت کو نقصان پہنچانے کے اقدامات جاری رہے تو تحریک انصاف کو مشکلات کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

مذاکرات سے عمران کو رعایت تو مل سکتی ہے لیکن رہائی کا امکان نہیں

انصار عباسی کے مطابق شہباز شریف کے اقتدار سنبھالنے کھ بعد بھی کئی مواقع پر پی ٹی آئی اور مقتدر قوتوں کے مابین بیک چینل رابطے ہو چکے ہیں۔ ماضی قریب میں بیک چینل رابطے اس وقت متحرک ہوئے جب پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو اسلام آباد مارچ کی آخری کال کا اعلان کیا۔ انہی بیک چینل مذاکرات کی بنیاد پر پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں بشمول علی امین گنڈا پور، بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملی لیکن اس وقت عمران خان نے اپنی جیل سے فوری رہائی پر اصرار کیا جبکہ عمران خان نے سنگجانی میں احتجاج روکنے کیلئے حکومت کی تجویز سے بھی اتفاق کیا تھا۔ تاہم، بشریٰ بی بی نے ڈی چوک تک مارچ کی قیادت کی اور یہ سب 26 نومبر کے واقعہ پر منتج ہوا۔ 26 نومبر کے واقعات ان بیک چینل مذاکرات کیلئے زبردست جھٹکا ثابت ہوئے، جنہیں بعد ازاں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رسمی بات چیت کے آغاز کے دوران روک دیا گیا تھا۔

Back to top button