عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کے الزام کی حقیقت کیا ہے؟

عمران خان کی زندگی اور ان کی صحت بارے پھیلائی جانے والی سوشل میڈیا افواہوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دینے کے باوجود، ان کے اہلِ خانہ مسلسل اصرار کر رہے ہیں کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے کیونکہ تین ہفتے گزر جانے کے باوجود انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں میں اتنے لمبے وقفے نے ان کے شبہات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
عمران خان کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ ممکن ہے انہیں قیدِ تنہائی میں رکھ کر حکومت ان پر کسی ڈیل کے لیے دباؤ ڈال رہی ہو۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف کی سٹریٹ پاور ختم ہو چکی ہے، لہٰذا حکومت پر عمران کے ساتھ کوئی ڈیل کرنے کے لیے کسی قسم کا دباؤ نہیں۔ ان کے مطابق ڈیل کی کوششیں عمران خان کی جانب سے کی جا رہی تھیں، جو اسٹیبلشمنٹ کے انکار کے باعث ناکام ہو چکی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر ڈیل کے لیے دباؤ بڑھانے کی غرض سے اپنے اہلِ خانہ اور پارٹی رہنماؤں کے ذریعے جیل ملاقاتوں میں ایسے پیغامات باہر بھجواتے تھے جن میں فوجی قیادت کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ اسی طرزِ عمل کے باعث بانیِ تحریکِ انصاف کی جیل میں اپنے اہل خانہ اور پارٹی قائدین سے ہونے والی ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں کسی بھی سزا یافتہ سیاستدان، بشمول آصف زرداری اور نواز شریف، کو اس قدر فراخ دلانہ ملاقاتوں کی اجازت نہیں رہی لیکن عمران خان نے ان مواقع کا استعمال کرتے ہوئے اپنا فوج مخالف بیانیہ آگے بڑھانے کو کوشش کی جس کا راستہ اب روک دیا گیا ہے۔
ادھر سابق وزیرِ اعظم کے بیٹے قاسم خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستانی حکام ان کے والد کی صحت کے حوالے سے کوئی ناقابلِ تلافی حقیقت چھپا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں سے عمران خان کے زندہ ہونے کا کوئی قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا۔ عدالتی حکم کے باوجود ملاقات کی اجازت نہ ملنے اور ممکنہ طور پر اڈیالہ جیل سے منتقلی کی افواہوں کے تناظر میں قاسم خان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ خاندان کا ان سے کوئی براہِ راست یا بالواسطہ رابطہ نہیں ہو سکا۔
ادھر عمران خان کی بہن علیمہ خانم نے کہا ہے کہ تمام تر دباؤ کے باوجود عمران کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کے بقول آٹھ بائی دس فٹ کے جیل سیل میں ڈھائی سال قید کاٹنے کے باوجود عمران خان قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کی پاسداری اور آزاد انتخابات کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران تمام تر دباؤ کے باوجود کسی ڈیل کے خواہش مند نہیں۔ علیمہ خان نے بتایا کہ وہ عمران خان کی خیریت بارے اور ان کے ساتھ کیے جانے والے برتاؤ پر پریشان ہیں، جبکہ حکام اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں جس میں منگل اور جمعرات کو عمران سے جیل میں ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔
ادھر وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے اہلِ خانہ اور پارٹی رہنما قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر چکے ہیں اور فیصلہ آنا باقی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ عمران جیل میں بالکل خیریت سے ہیں اور دیسی مرغی اور مٹن پلاؤ کے مزے لے رہے ہیں، لہٰذا ان کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں کا واحد مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔
واضح رہے کہ اپریل 2022 میں قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد کی منظوری کے بعد عمران خان کی حکومت ختم ہو گئی تھی، جبکہ اگست 2023 سے وہ توشہ خانہ کرپشن کیس میں سزا پانے کے بعد اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی سمیت چودہ سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ تاہم عمران کا مؤقف ہے کہ انہیں سیاست سے باہر رکھنے کے لیے ملک کی طاقتور فوج نے ان پر جھوٹے مقدمات قائم کروائے۔
عمران خان کے قریبی ساتھی اور پاکستان سے لندن فرار ہو جانے والے پی ٹی آئی رہنما ذوالفقار بخاری نے کا کہنا ہے کہ کہ پورا ملک یہ پوچھ رہا ہے کہ عمران خان کہاں ہیں؟ ان کے مطابق عمران خان کی غیر قانونی قیدِ تنہائی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا خوف ظاہر کرتی ہے۔ بخاری کا کہنا تھا کہ غیر قانونی آئینی ترامیم اور عسکری عہدوں میں توسیع کے پس منظر میں عمران خان کی جانب سے جیل ملاقات کے دوران کوئی بڑا بیان سامنے آنے کا خدشہ تھا، اسی لیے انہیں اہلِ خانہ سے دور رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ہائبرڈ نظام کی ’فاشسٹ آمریت‘ ہر گزرتے روز مزید سخت ہوتی جا رہی ہے۔
اس تمام صورتحال کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر #WHEREISIMRANKHAN ٹرینڈ کر رہا ہے۔ جیل قواعد کے مطابق عمران کو ہفتے میں کم از کم ایک ملاقات کی اجازت ہے، تاہم حکام ضرورت پڑنے پر یہ ملاقات بھی معطل کر سکتے ہیں۔ اسی دوران مقامی میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ 73 سالہ عمران خان کو ممکنہ طور پر سخت سکیورٹی والی جیل میں منتقل کیا جا سکتا ہے، تاہم وزارتِ داخلہ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف عمران کی صحت بارے اڑنے والی افواہوں کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہے، جبکہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب عمران خان کی بہن علیمہ خانم اور نورین نیازی نے اڈیالہ جیل میں ان کی ممکنہ وفات کے حوالے سے پھیلنے والی افواہوں پر تشویش ظاہر کی۔
وزیرِ داخلہ طلال چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی عمران خان کی صورتحال کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ ماضی میں بھی ان کی صحت کے بارے میں بے شمار افواہیں گردش کرتی رہی ہیں۔ بیماری یا کسی بگڑتی ہوئی حالت کے دعوے سیاسی چالوں کے سوا کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بالکل صحت مند ہیں۔ ہم پی ٹی آئی کے حامیوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ جھوٹی افواہوں کا حصہ نہ بنیں اور ان کے لیے دعائیں کریں۔
