بلوچستان میں پسنی کی بندرگاہ پر امریکہ کیا کرنے والا ہے؟

معروف برطانوی جریدے فائننشل ٹائمز نے یہ پریشان کن دعویٰ کر دیا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی کی بندرگاہ امریکا کے حوالے کرنے کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔
تاہم پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ امریکا کو پسنی بندرگاہ تک رسائی کی تجویز صرف تجارتی مقاصد کے لیے ابتدائی ریسرچ کا حصہ ہے، تاکہ بندرگاہ کی ممکنہ معاشی افادیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ تاہم ناقدین اس وضاحت سے مطمئن ہوتے نظر نہیں آتے۔
معروف تجزیہ کار زاہد حسین نے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کی تفصیل دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پسنی کی بندرگاہ کو امریکہ کے حوالے کرنے کی تجویز پر کچھ امریکی اور پاکستانی اہلکاروں نے تبادلہ خیال بھی کیا ہے اور وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات سے قبل یہ منصوبہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا تھا۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آرمی چیف کے ’مشیروں‘ نے بحیرہ عرب پر بندرگاہ بنانے اور اس کا انتظام امریکا کے حوالے کرنے کے تصور پر امریکی حکام سے بات چیت کی۔ لیکن دوسری طرف پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کا کوئی سرکاری مشیر نہیں جو ایسی کوئی ملاقات کرے۔
فائننشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت امریکی سرمایہ کار پسنی میں بندرگاہ قائم کرنے کے علاوہ اس کا انتظام بھی سنبھالیں گے، تاکہ پاکستان کے اہم معدنیاتی شعبے تک امریکا کی رسائی آسان بنائی جا سکے۔
امریکی جریدے کی رپورٹ نے بندرگاہ کے منصوبے کو ’جرأت مندانہ‘ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس کی لاگت 1.2 ارب ڈالرز تک ہو گی جسے پاکستانی حکومت اور امریکی ترقیاتی مالیاتی ادارے مل کر فنانس کریں گے۔ اخبار نے یہ دعوی کیا ہے کہ یہ منصوبہ ان مجوزہ پراجیکٹس میں سے ایک ہے جو پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ سے معاشی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے تجویز کیے ہیں۔ تاہم اس رپورٹ پر حکومتِ پاکستان اور دفتر خارجہ کی جانب سے کوئی واضح سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
زاہد حسین کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فاننشل ٹائمز کی رپورٹ کے حوالے سے پاکستان ٹیلی ویژن نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ پسنی کی بندرگاہ کے حوالے سے پاکستان اور امریکہ نجی کمپنیوں کی بات چیت ابتدائی نوعیت کی تھی اور سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ یہ بھی کہا گیا کہ پسنی بندرگاہ یا اس کی سیکیورٹی کسی غیر ملک کے حوالے کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
لیکن زاہد حسین کا کہنا ہے کہ یہ وضاحتیں ابہام کم کرنے کے بجائے بڑھا رہی ہیں۔ اگر یہ ریاستی فیصلہ نہیں تو پھر ایسا حساس رابطہ کس نے کس سے کیا؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس نوعیت کی مشاورت حکومتی منظوری کے بغیر ممکن ہے؟ یہ سوال اب بھی تشنہ ہیں۔
یاد رہے کہ پسنی بلوچستان کا ایک چھوٹا لیکن سٹریٹیجک لحاظ سے اہم ساحلی شہر ہے جہاں بحریہ اور فوج دونوں کی ایئر بیس موجود ہیں۔ یہ بندرگاہ گوادر سے تقریباً 110 کلومیٹر اور پاک ایران سرحد سے 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اگر امریکا کو یہاں بندرگاہ تعمیر کرنے اور اس کا انتظام سنبھالنے کی اجازت دی گئی تو اسکے سنگین جغرافیائی اور علاقائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پسنی کی بندرگاہ میں امریکی دلچسپی کی بڑی وجہ پاکستان کے نایاب زمینی معدنیات کے ذخائر ہیں جو الیکٹرک گاڑیوں، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرانکس اور دفاعی ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتی ہیں۔ حال ہی میں امریکی کمپنی یو ایس سٹریٹجک میٹلز نے ملٹری انجینئرنگ گروپ کے ساتھ مفاہمتی معاہدہ کیا ہے جبکہ پاکستان نے نایاب معدنیات کی پہلی کھیپ اس کمپنی کو بھیجی ہے، جسے پاک امریکا سٹریٹجک پارٹنرشپ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان سے امریکہ بھیجے گئی معدنیاتی کھیپ میں تانبا، اینٹی مونی اور نیو ڈیمیم شامل تھے۔
بلوچستان اور شمالی قبائلی علاقوں میں موجود معدنیات کے بیشتر ذخائر ایسے علاقوں میں واقع ہیں جہاں کئی سالوں سے چینی سرمایہ کاری غالب رہی ہے۔ ایسے میں امریکی کمپنیوں کی ممکنہ موجودگی دو بڑی عالمی طاقتوں یعنی امریکا اور چین کے درمیان تناؤ کو بڑھا سکتی ہے، اور پاکستان کے لیے ایک نیا سفارتی چیلنج پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستان کی چین کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری اب گہرے اقتصادی تعلق میں ڈھل چکی ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ تعلقات تاریخی طور پر غیر مستحکم رہے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کا PTI کو پوری طرح سے ٹھوکنے کا فیصلہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فنانشل ٹائمز کی رپورٹ بے بنیاد ہے تو حکومت اور عسکری قیادت کو اس کی واضح تردید کرنی چاہیے، خصوصاً اس لیے کہ رپورٹ میں مذاکرات میں عسکری شمولیت کا ذکر موجود ہے۔ اس صورتحال میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور سٹریٹجک منصوبوں سے متعلق تمام معاہدے پارلیمنٹ میں پیش کیے جائیں تاکہ مکمل شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور قومی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
