عمران خان نے پاکستان کو کس پسوڑی میں مبتلا کر دیا ہے؟

 

 

 

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ جیل میں بند عمران خان کی وجہ سے پاکستانی سیاست ایک پسوڑی میں مبتلا ہو چکی ہے جس سے نکلنے کا کوئی سیدھا اور آسان راستہ نظر نہیں آرہا۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سیاسی لڑائی شخصی بنیادوں پر شروع ہوئی تھی، عمران خان نے میاں نواز شریف اور آصف زرداری کو کرپٹ کہنا شروع کیا۔ فوج بھی انکے ساتھ تھی، اس بیانیے نے عروج پایا اور عمران خان کے انصافیے چور چور کے نعرے لگانے لگے۔ لیکن جب پراجیکٹ خان کھڑا کرنے والوں کا عمران سے جھگڑا ہو گیا تو اس نے یہی فارمولہ جنرل قمر جاوید باجوہ پر لاگو کر کے انہیں میر جعفر اور میر صادق کے خطابات سے نوازنا شروع کر دیا۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ نواز شریف کو عمران کی وزارت عظمی کے دوران ہر طرح کی تکلیف پہنچائی گئی، لہٰذا وہ عمران کی جانب سے اپنے خلاف ہر حد پار کرنے کو نہیں بھول پائے اور نہ ہی معاف کرنے کو تیا رہیں۔ دوسری طرف عمران خان بھی نواز شریف اور پیپلز پارٹی سے کسی مصالحت کی بجائے انہیں زندہ دفن کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی کہ نون لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ،مصالحت یا اتفاق رائے کا کوئی امکان نہیں۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق پسوڑی کا دوسرا پہلو عمران اور ان کی جماعت کی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی ہے، پہلے انصافیوں کی جانب سے جنرل باجوہ کو معتوب کیا گیا اور پھر جنرل عاصم منیر پر تیر اندازی کی گئی۔ اس گولہ باری نے راستے کے تمام پل تباہ کر دیئے، لہذا اب فوج اور عمران خان کی پسوڑی مکمل ڈیڈلاک کا شکار ہے۔ ادھر ریاست سمجھتی یے کہ آئین میں کچھ ایسے مسائل موجود ہیں جن کی وجہ سے اسے بہتر گورننس، کنٹرول اور اختیار حاصل نہیں، اسی لئے گاہے گاہے ترامیم کی پسوڑی پڑ رہی ہے تا کہ ریاستی حکمرانی کے راستے میں حائل ہر پسوڑی کو ختم کر دیا جائے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ 26 ویں اور 27ویں ترمیم کا مقصد عدلیہ کے بڑھتے ہوئے سیاسی کردار کو کم کرنا تھا۔ ان ترامیم کے بعد دیو قامت پاکستانی عدلیہ اب پست اختیارات کی حامل بن چکی ہے۔ تاحیات استثناء اور فوج کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کا مقصد شخصی تحفظ کے علاوہ طویل مدتی منصوبہ بندی میں حائل پسوڑیوں کو ختم کرنا ہے، اسٹیبلشمنٹ اور اس کی اتحادی حکومت 27 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد سے مضبوط، محفوظ اور بالاتر تو ہو گئی لیکن  اسکے نتیجے میں ریاست کے باقی ستون کمزور اور شکستہ لگنے لگے ہیں۔ ریاست کی عمارت کا ایک ستون طاقت ور اور آہنی ہو بھی جائے اور باقی کھمبے شکستہ محسوس کریں تو یا تو ریاست ایک طرف جھک جاتی ہے یا پھر کمزور کھمبے سہارا دینے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔

 

سہیل وڑائچ کے بقول پاکستان کی پسوڑیاں نظریاتی بھی ہیں اور عملی بھی۔ سوا سو سال سے اس خطّے میں جمہوریت کو آئیڈیل کے طور پر اپنایا گیا مگر آج کل پھر سے بحث جاری ہے کہ جمہوریت کی پسوڑی سے جان چھڑائی جائے تاکہ اختلاف کی کِل کِل ختم ہو۔ یہ پسوڑی بھی موجودہے کہ روشن خیالی ضروری ہے یا ملک کا مذہبی اور نظریاتی تشخص اسے بقا دے سکتا ہے۔ یہ پسوڑی بھی آئے روز زیربحث رہتی ہے کہ اصل مسئلہ صوبوں کا بڑا ہونا ہے یاصوبے زیادہ ہوں تو طرز حکمرانی موثر ہو سکتا ہے۔ اس پسوڑی سے نمٹنے پر بھی کام جاری ہے۔ ایک اور پسوڑی سول اور خاکی کے درمیان ہے۔ فوجی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ وہ زیادہ منظم، زیادہ ذمہ دار اور زیادہ ایماندار ہے جبکہ سویلین قیادت کا خیال ہے کہ فوج کے لوگ ڈسپلنڈ تو ہیں لیکن انہیں زمینی حقائق کا ادراک نہیں۔

 

اسکے علاوہ پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام پر بھی پسوڑی ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی نظام پاکستان میں کارگر کیوں ثابت نہیں ہو رہا؟ طالبان اور مذہبی انتہا پسندوں کی ریاست کے بارے میں مذہبی تشریحات بھی آئے دن پسوڑی کی وجہ بنتی ہیں۔ وکیل عدلیہ کے اختیارات پر پسوڑی ڈالے بیٹھے احتجاج کر رہے ہیں۔ پسوڑی تو یہ بھی ہے کہ نونی قیادت، عمرانی انداز حکمرانی سے اس قدر خفا ہے کہ وہ انصافیوں کو سزا دلانے کیلئے اپنے جائز حقوق بھی سرنڈر کرنے پر تیار ہے۔ لیکن آج کل کی سب سے بڑی پسوڑی اڈیالہ جیل کے باہر پڑی ہوئی ہے، جہاں بانی تحریک انصاف سے ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے۔

 

کبھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی وہاں دھرنا دیتے ہیں اور کبھی علیمہ خان اور ان کی بہنیں وہاں احتجاج کرتی ہیں ۔ یہ منظر جب سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے تو عمران کے بڑے بڑے مخالف بھی نرم ہونے لگتے ہیں۔ عمران خان کے اپنے دور میں حال یہ تھا کہ ان کے سیاسی مخالفین کو گرفتار کر کے بعد جیل میں ڈالا جاتا تو ان کے کمروں سے پنکھے اور ایئر کنڈیشنر بھی اتار دیے جاتے تھے۔ لیکن آج اڈیالہ جیل میں بند عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کر کے کیا اسی دائرے میں سفر کی پسوڑی کو دہرایا نہیں جارہا؟

 

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش سیاسی پسوڑی سے نکلنے کا واحد حل مذاکرات کے ذریعے مفاہمت کا راستہ نکالنا ہے۔ لیکن نہ تو نواز شریف نے یہ تجویز مانی تھی، نہ عمران خان اپنے موقف میں تبدیلی پر تیار ہوئے اور نہ ہی فوج ایسی ڈھیل دینے کو تیار ہے۔ فوجی قیادت شاید درست سمجھتی ہے کہ عمران خان کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ،وہ معافی دیے جانے کے باوجود ہر ایک سے انتقام لے کر رہے گا۔ اس تین طرفہ ڈیڈ لاک سے ملک میں بے اطمینانی کی پسوڑی پھیلی ہوئی ہے اور سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے؟

جنرل فیض حمید کا پیوٹن کی طرح صدر بننے کا اھورا خواب کیا تھا؟

سینیئر صحافی کے مطابق، یہ پسوڑی ایک پہیلی بن گئی ہے جو کسی طرح حل نہیں ہو پا رہی۔بظاہر سب چپ ہیں، بظاہر امن ہے، کنٹرول ہے ، طاقت کا پلّہ بھاری ہے، کوئی چیلنج نہیں، اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں، دور دور تک نظام کو بھی کوئی مسئلہ نہیں، 28ویں، 29ویں اور 30ویں آئینی ترامیم کے راستے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں، بظاہر پاکستان کو مصر، سعودی عرب یا چین بنانے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ، بظاہر فوج نے جنگ جیتنے کے بعد نظام کی تبدیلی کو امرِلازم سمجھ کر قبول کر لیا ہے، بظاہر جتنے مرضی ہتھوڑے لگیں، خنجر مارے جائیں یا تیر برسائے جائیں، بے روح جسم سب قبول کرتے جائیں گے، لیکن اگر اندر کچھ اور ہی پک رہا ہوا تو کیا ہوگا؟

Back to top button