پاکستان کو بنگلہ دیش کی ترقی سے کیا کیا سبق سیکھنا ہوں گے

معروف تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ ہمیں 1971ء میں پاکستان سے الگ ہونے کے بعد ترقی کی دوڑ میں خود سے آگے نکل جانے والے بنگلہ دیش سے سبق سیکھنا ہوگا۔ ان کے بقول دونوں ملکوں کی معاشی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بنگلہ دیشی ٹکا آج 2 روپے 30 پیسے پاکستانی روپوں کے برابر ہے، جو خطے میں معاشی استحکام اور کرنسی کی قدر کا واضح اشارہ ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی عموماً ماضی سے سبق نہیں سیکھتے، تاہم وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے چھوٹے بھائی سے کچھ مثبت باتیں مستعار لے کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ ان کے مطابق 1971ء میں پاکستان سے علیحدہ ہونے کے بعد بنگلہ دیش نے ترقی و خوشحالی کی جس رفتار سے سفر طے کیا، وہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ ان کا مقصد محض اعداد و شمار کا ڈھیر لگانا نہیں بلکہ ان عوامل کی نشاندہی کرنا ہے جنہوں نے بنگلہ دیش کو آگے بڑھنے میں مدد دی۔
ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں بنگلہ دیش کی برتری کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ یہ حقیقت سب کے سامنے ہے، مگر ان کے مطابق ڈھاکہ میں اسلام پسندی تو دکھائی دی لیکن شدت پسندی کا رجحان نمایاں نہیں تھا۔ انکا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی نتائج کو بالغ نظری سے تسلیم کرنا بھی قابل تقلید ہے۔ بلال غوری نے خاص طور پر بنگلہ دیش میں ذرائع ابلاغ کی اہمیت اور حکومتی پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ حرفِ مطبوعہ ان کا پہلا عشق ہے، مگر دنیا بھر میں مطبوعہ صحافت زوال کا شکار ہے۔ انہوں نے دنیا کے کئی تاریخی اخباروں کا حوالہ دیا جو اب صدیوں کی اشاعت کے بعد بند ہو چکے ہیں۔
تاہم بلال غوری کے مطابق اس عالمی رجحان کے برعکس بنگلہ دیش میں مطبوعہ صحافت اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق محکمہ فلم و مطبوعات میں 584 اخبارات رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 284 صرف ڈھاکہ سے شائع ہوتے ہیں۔ اگرچہ سرکاری سطح پر یومیہ اشاعت 18.5 ملین بتائی جاتی ہے، تاہم مبصرین کے مطابق حقیقی سرکولیشن اس سے کم ہے کیونکہ سرکاری اشتہارات کے نرخ اخبارات کی اشاعت کے حساب سے طے کیے جاتے ہیں اور اکثر ادارے اپنی تعداد میں مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں۔
پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کو اچانک بریک کیوں لگ گئی؟
بلال غوری کے مطابق بنگلہ دیشی اخبارات کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ منفرد اور تحقیقی مواد کی اشاعت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں عموماً وہی خبریں شائع کی جاتی ہیں جو گزشتہ 24 گھنٹوں میں سماجی ذرائع ابلاغ یا برقی ذرائع ابلاغ کی زینت بن چکی ہوتی ہیں، جبکہ بنگلہ دیش میں ایسے موضوعات کو ترجیح دی جاتی ہے جو کہیں اور دستیاب نہیں ہوتے۔ انہوں نے 13ویں پارلیمانی انتخابات کی کوریج کو مثال کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ تحقیقاتی صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی نے ذرائع ابلاغ کو مضبوط بنایا ہے۔ اگرچہ بعض ادوار میں، خصوصاً حسینہ واجد کے دور حکومت میں، اظہارِ رائے پر کچھ قدغنیں رہیں، تاہم مجموعی طور پر وہاں کے صحافیوں کو وہ مسائل درپیش نہیں جو خطے کے دیگر ممالک میں دیکھے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر میں مقامی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے اداروں کے لیے الگ جگہیں مختص کی گئی تھیں۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد وہاں میلے کا سماں تھا اور اخبارات و ٹی وی چینلز کو انٹرنیٹ سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی گئی تھیں تاکہ براہِ راست نشریات اور رپورٹنگ ممکن ہو سکے۔
بلال غوری نے زور دیا کہ ہمارے ہاں بڑوں سے سیکھنے کا رواج کم ہے، چہ جائیکہ چھوٹوں سے سیکھا جائے، مگر وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے اخبارات، الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتیں، حکومتیں اور ریاستی ادارے بنگلہ دیش کے تجربات سے سبق حاصل کریں تاکہ جمہوری عمل، ذرائع ابلاغ کی آزادی اور معاشی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
