فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ٹرمپ پر کون سا جادو کیا ہے؟

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے جس انداز میں پاکستانی فوجی سربراہ کی تعریفوں کے پل باندھے ہیں اس کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر انہوں نے ایسا کیا جادو چلایا ہے کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کا صدر بھی ان کا گرویدہ ہو گیا ہے۔ یہ یقینا حیرانی کی بات ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنرل عاصم منیر سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی بلکہ انہیں بھرپور پروٹوکول دینے کے بعد مسلسل انکی تعریفیں بھی کرتے رہے ۔

معروف لکھاری اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا اپنے تازہ تجزیے میں اس حوالے سے کہتے ہیں کہ انڈیا کی پاکستان کے ہاتھوں شکست نے ٹرمپ کی نظر میں اس کی قدر و قیمت میں اضافہ کر دیا ہے اور وہ اسکی اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس ملاقات سے پہلے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو امریکی کانگرس اور اسکے سینیٹرز سے بے شمار شکایتیں تھیں جو پاکستان میں رجیم کی تبدیلی تک کی قراردادیں پیش کر رہے تھے۔ مگر اب ایک ہی ہلّے میں ٹرمپ نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سب شکایتیں دور کر دی ہیں۔ اگرچہ اسٹیبلشمنٹ اور ریاست کیلئے یہ ملاقات خوش کن ہے‘ تاہم صدر نکسن کے بعد یہ پہلی دفعہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کسی امریکی صدر نے پاکستان کو اتنی اہمیت دی ہے۔ اگرچہ بہت سارے لوگ جنرل ایوب خان‘ جنرل ضیا یا جنرل پرویز مشرف کا حوالہ دیں گے لیکن ان کا پس منظر کچھ مختلف ہے۔ آرمی چیف عاصم منیر کا فیلڈ مارشل کی وردی میں امریکی صدر سے ملنا ان تینوں سابق آرمی جرنیلوں سے مختلف ہے۔

سینیئر صحافی بتاتے ہیں کہ جنرل ایوب‘ جنرل ضیا اور جنرل مشرف سیاسی حکومتوں کا تختہ الٹ کر ملک پر قابض ہوئے تھے، بعد میں ان بد بختوں نے دھاندلی زدہ ریفرنڈم یا ڈنڈے کے زور پر صدر کی سویلین وردی اوڑھ لی تھی۔ اس لیے صدر کینیڈی ہوں‘ صدر ریگن یا صدر بش‘ انہیں پاکستانی جرنیلوں سے ملنے کا بہانہ مل گیا کیونکہ ان تینوں سے امریکی صدور یا وہاں کی فوجی قیادت نے بہت کام لینے تھے۔ کلاسرا بتاتے ہیں کہ جنرل ضیا اور جنرل مشرف امریکہ سے پیسے بھی لیتے رہے اور ڈبل گیم کھیلتے ہوئے ان کے مفادات کے خلاف چھپ کر کام بھی کرتے رہے، لیکن عاصم منیر ایسا نہیں کر رہے، وہ جو وعدہ کرتے ہیں سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور اسے پوری ایمان داری سے پورا بھی کرتے ہیں۔

رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ 2022 تک حکومت اور ریاستِ پاکستان افغان طالبان کیساتھ کھڑی تھی اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کابل کی ‘فتح‘ کے دو دن بعد ہوٹل کی لابی میں کھڑے چائے پی کر پوری قوم کو یقین دلا رہے تھے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن نہ طالبان کا ‘کچھ‘ ٹھیک ہوا اور نہ جنرل فیض کا اپنا ‘کچھ‘ ٹھیک ہوا۔ اقتدار میں آنے کے بعد طالبان نے پاکستان سے لڑائی شروع کر دی، لہٰذا اب جنرل فیض حمید کورٹ مارشل کا سامنا کر رہے ہیں اور شنید ہے کہ انھیں چودہ برس کی قید کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ لیکن آرمی چیف جنرل عاصم نے طالبان کے خلاف پہلے دن سے جو مؤقف رکھا وہ اس پر قائم ہیں کہ طالبان سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی‘ چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ہو۔

اسی لیے ٹرمپ جیسا صدر انہیں وائٹ ہائوس میں مدعو کر کے پروٹوکول دے رہا ہے‘ جس پر پورا بھارت اور مودی بہت سیخ پا ہیں۔ صدر ٹرمپ اور امریکہ سمیت دنیا کے شاید کسی ملک کے سان گمان میں نہیں ہو گا کہ پاکستان بھارت جیسی فوجی قوت سے نہ صرف ٹکرا جائے گا بلکہ اس کے چھ سات جہاز گرا کر اسے دھول بھی چٹا دے گا۔ لہٰذا بھارت سمیت پوری دنیا اس پر سکتے میں ہے کہ یہ چمتکار کیسے ہوا۔ بھارت کو جو پشیمانی اٹھانا پڑی اس کا کوئی جواب نہیں۔ شاید یہی شکست مودی کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بنے۔ ٹرمپ سمیت پوری دنیا نے پاکستان کو بڑے عرصے بعد تعریفی نظروں سے دیکھا ہے‘ جس نے بھارتی غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔ پاکستان کی عزت دنیا بھر میں بڑھی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے ٹرمپ کے کہنے پر نہ صرف فوری سیز فائر کر لیا بلکہ سارا کریڈٹ ہی ٹرمپ کو دے دیا جبکہ بھارت اور مودی اب تک اس سے انکاری ہیں۔ یوں فطری طور پر ٹرمپ کا جھکائو پاکستان کی طرف ہوا۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ شاید صدر نکسن اور اندرا گاندھی دور کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکہ اور بھارت میں دوریاں پیدا ہوئی ہیں‘ جس کا فائدہ یقینا پاکستان کو ہو رہا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ پھر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واشنگٹن میں امریکن پاکستانیوں سے خطاب میں اپنا ٹرمپ کارڈ شو کیا کہ امریکہ یوکرین سے چار‘ پانچ سو ارب ڈالر کے منرلز کے ٹھیکے چاہتا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ایک ٹریلین ڈالر کے منرلز موجود ہیں۔ امریکہ ہم سے سرمایہ کاری کے معاہدے کرے۔ امریکہ بھی منافع کمائے اور پاکستان بھی ڈالرز کمائے۔ اسکے علاوہ پاکستان کرپٹو کرنسی میں ٹریڈ اور تعاون کے معاہدے کر رہا ہے۔ امریکہ کو اچانک لگ رہا ہے کہ پاکستان تو امریکہ کو تجارت میں بھی فائدے دے سکتا ہے۔ وار آن ٹیرر کے علاوہ بھی بہت سارے مشترکہ عوامل ہیں اور یہی وہ ماریو پوزو کے ناول ”دی گاڈ فادر‘‘ والی بات ہے کہ میں اپنے مخالف کو وہ پیشکش کروں گا کہ وہ انکار نہ کر سکے۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ یہی وہ پیشکش ہے جو آرمی چیف نے امریکہ کو کی ہے۔

رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا ہمیں ٹرمپ اور امریکہ کو اپنی طرف رکھنا ہو گا۔ ہماری پشت پر ایک طرف چین تو دوسری طرف امریکہ ہے۔ اس سے پاکستان کے تحفظ اور ترقی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چین کے پاکستان کے ساتھ جہاں سٹرٹیجک مفادات ہیں وہیں معاشی مفادات بھی ہیں۔ اب تک امریکہ سے ہمارے مفادات دہشت گردی یا علاقائی جغرافیائی نوعیت کے رہے ہیں مگر اب چین کی طرح ہمیں امریکہ سے سرمایہ کاری اور معاشی مفادات بھی درکار ہیں۔ آرمی چیف نے ایران‘ اسرائیل جنگ میں بھی صدر ٹرمپ کو اپنا اِن پٹ دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بہت تنقید ہو رہی کہ یہ سب کام سیاسی قیادت کو کرنے چاہئیں لیکن کیا کریں! جب سیاسی قیادت اپنی سپیس اور اختیار کو بھول کر عسکری قیادت کو سیلوٹ مار رہی ہو تو پھر گلہ کیسا۔ یہ قانونِ قدرت ہے کہ جو جگہ خالی ہو گی‘ کوئی اور اسے پُر کرے گا۔ آپ کو کوئی اختیار یا طاقت نہیں دیتا‘ سب کچھ لینا پڑتا ہے۔ اگر پاکستانی سیاسی قوتیں اپنا قد کاٹھ بڑا نہیں کر سکیں تو اس میں ان کا اپنا قصور ہے۔ وہ تو سیلوٹ مار کر ہی مطمئن اور خوش ہیں۔

Back to top button