انڈیا اور پاکستان کی جنگ چھڑی تو کون سا بڑا سانحہ ہو سکتا ہے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا یے کہ جنگوں کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا۔ تاریخ میں آج تک کسی بھی جنگ کا کوئی خوشگوار نتیجہ نہیں نکلا، لہذا خدشہ ہے کہ کچھ بڑا اور برا نہ ہو جائے۔ انکے مطابق پاک بھارت جھڑپیں کھیل کھیل میں شروع ہوئی ہیں، ایک طرف ہندوتوا کا مہاویر مودی ہے جو اپنے اندھے عقیدت مندوں کے سامنے ہندو بالا دستی کا جھنڈا گاڑنا چاہتا ہے، دوسری طرف ہم پاکستانی بھی بہادروں کی قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور مودی سرکار کو پاکستان پر حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گویا دونوں طرف گھوڑے اور ہاتھی تیار ہیں، لہذا دیکھنا یہ ہے کہ بھارتی حملوں اور پاکستان کے جوابی حملوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے مابین کہیں اس خطے کی پہلی نیوکلیئر جنگ تو شروع نہیں ہو جائے گی۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین سرجیکل سٹرائیکس کے بعد اب ایٹمی میزائل تک چلانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ دنیا کو اس صورت حال پر تشویش ہے مگر بھارتی اور پاکستانی جانباز مسلسل میدان جنگ کو گرمانے کی تیاری میں ہیں۔ کوئی دلیل، کوئی عقل و منطق کی بات، کوئی امن کا مشورہ کام نہیں آ رہا۔ ایسے میں نتیجہ لازمی طور پر برا اور بڑا ہی نکلے گا، لیکن تب پچھتائے کیا ہووت جب چڑیاں چگ جائیں کھیت!!

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مجھے اعتراف ہے کہ میں انتہائی بزدل ہوں اور میرے ارد گرد سارے لوگ بہت بہادر اور دلیر ہیں۔ دوسری طرف ہمارا دشمن بھی کینہ پرور اور ظالم ہے۔ دونوں اطراف جنگ کے شادیانے بجا کر خطے کو خود سے جلانے، تباہ کرنے اور خود اپنے ہاتھوں مرنے کی تیاری دھوم دھام سے کی جا رہی ہے۔ سینیئر صحافی کے مطابق انہیں لگتا ہے کہ جیسے اس خطے کے لوگوں کے ڈی این اے میں عقل کی نمایاں کمی ہے۔ اسی لئے کبھی افغان اور کبھی انگریز یہاں اقابض ہو کر کامیابی سے حکومت کرتے رہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس خطے کے لوگوں کو مل بیٹھنا نہیں، آتا یہ گھروں میں لڑتے ہیں، محلوں میں لڑتے ہیں، یہاں شہر والے شہر والوں سے لڑتے ہیں، صوبے والے صوبوں سے لڑتے ہیں اور یہاں کے ملک اپنے ہمسایہ ملکوں سے لڑتے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کو سندھ طاس معاہدہ کرنا ہو تو ورلڈ بینک کے پاس جانا پڑتا ہے، وہ خود سے صرف ایک شملہ معاہدہ ہی کر پائے لیکن یہ پرامن معاہدہ کرنے والے دونوں حکمرانوں یعنی ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کو پرتشدد اموات کا شکار ہونا پڑا۔ باقی تقسیم ہند ہو یا آپسی جنگیں، انہیں امریکہ یا روس نے ہی رکوایا ہے، وگرنہ یہ ہمیشہ دست وگریبان ہی رہتے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مودی جی اس خطے کے ایک بڑے ملک کے پردھان ہیں۔ ایسے میں اگر کچھ بڑا یا برا ہوا تو دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑے مجرم بھی وہی ہوں گے، تاریخ مودی جی سے سوال کرئے گی کہ جنرل باجوہ کے زمانے سے پاکستان نے بھارت کے خلاف تمام آپریشنز بند کر رکھے تھے، پاکستان نے کشمیر کی آزادی کی حامی تمام جہادی تنظیموں کو غیر موثر کر رکھا تھا لیکن مودی جی نے اس فاختائی اشارے پر توجہ ہی نہ دی۔ جنرل باجوہ بھارت سے اچھے تعلقات کے خواہاں تھے لیکن مودی جی نے گہری سرد مہری جاری رکھی۔ انہوں نے عمران خان، آصف زرداری اور شہباز شریف کہ اقتدار میں انے کے باوجود ان میں سے کسی کے ساتھ بھی دوستی اور مفاہمت کا راستہ نہیں کھولا۔ اسی طرح جنرل اشفاق کیانی، جنرل راحیل شریف، جنرل باجوہ اور اب جنرل عاصم منیر کے دور میں بھی نہ صرف نریندرا مودی کا معاندانہ رویہ برقرار رہا بلکہ انہوں نے طالبان اور بی ایل اے کے ذریعے پاکستان کے خلاف مسلسل جنگ جاری رکھی، سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جتنا جانی نقصان بھارت کی مدد سے یہاں ہونے والی دہشتگردی کی وارداتوں میں ہوا ہے، اتنا تو اعلانیہ جنگوں میں بھی نہیں ہوا۔ لیخن اسی پر بس نہیں، بھارت کے تخریب کاروں نے پاکستان کے اندر 21 نمایاں جہادی لیڈرز کو بھی قتل کیا ہے، لاہور میں جوہر ٹاؤن کے علاقے میں حافظ محمد سعید کے گھر پر ہونے والا خودکش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اگر جعفر ایکسپریس کے حملے میں بھارتی ہاتھ تھا تو پھر تو حالیہ بحران کے سب سے بڑے ذمہ دار مودی جی خود ہیں، لیکن بہرحال تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، اگر فضائی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے مابین باقاعدہ جنگ شروع ہو گئی تو دوسرا فریق پاکستان ہو گا اور تاریخ ہمیں اس جنگ کی ذمہ داری سے کبھی مبرا قرار نہیں دے گی۔ظالم ہو یا مظلوم، جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں امریکہ اور جاپان دونوں کی وجہ سے تاریخ کا سب سے بڑا انسانی المیہ رونما ہوا تھا۔ لہازا ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ جنگ اپنے زخم چھوڑے بغیر رخصت نہیں ہوتی، ہر جنگ کے نفسیاتی، سیاسی اور معاشی اثرات ہوتے ہیں۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ نے بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کا بستہ گول کر دیا اور وہ شکست کے خوف سے تاشقند میں ہی وفات پا گئے۔ پاکستان کے معاشی زوال کا سفر 1965ء کی جنگ سے شروع ہوا جس کے لیے جنرل ایوب خان برابر کے ذمہ دار تھے۔ اس جنگ سے پہلے پاکستان دنیا میں معاشی ترقی کا ماڈل تھا۔ 1971ء میں پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں جنرل یحییٰ خان کو ذلت کا سامنا کرتے ہوئے اقتدار سے رخصت ہونا پڑا، کارگل کی لڑائی پر اختلافات کے نتیجے میں نواز شریف کو گھر جانا پڑا اور جنرل مشرف برسراقتدار آ گئے ۔مودی جی آج ہندوتواکے نعرے پر برسر اقتدار ہیں لیکن اگر جنگ میں ان سے کوئی چوک ہو گئی، جس کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا، تو ان کی انتہا پسندانہ مقبولیت ان کے ہی گلے میں پڑ جائے گی اور ان کا اقتدار میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ اسی طرح پاکستان کو بھی جنگ سے سیاسی ،معاشی اور نفسیاتی جھٹکے لگیں گے۔ ایسے میں دعا یہی ہے کہ کاش کچھ بڑا اور برا نہ ہو، کاش دونوں ملک ہوش کے ناخن لیکر یورپ کی طرح جنوبی ایشیا کو تجارت کا مرکز بنائیں۔ کاش بھارت اور پاکستان ماضی سے سبق سیکھیں، کیونکہ برصغیر میں جب بھی لڑائیاں ہوئیں تو معاشی بدحالی پھیلی، لیکن جب بھی خطے میں امن ہوا، یہاں معاشی ترقی اور خوش حالی آئی۔ مودی آج تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں، اگر وہ امن کی تالی بجائیں تو تاریخ کا رخ بدل دیں گے اور اگر بدلہ لینے پر آئیں گے توخون خرابے کو جنم دیں گے، برصغیر کے لوگ پرامن ہیں، وہ پانی پت میں لڑائی کر کے اسے وہیں ختم کر دیتے تھے، لہازا انڈیا اور پاکستان بھی اپنی سرحدوں پرشوشا کر لیں، لیکن اگر یہ دونوں نیوکلیئر ہمسائے برصغیر کے مزاج کے خلاف بڑی جنگ میں پڑے تو پھر اسکی کوئی حد نہیں ہو گی۔

Back to top button