بغاوت کے بعد عمران کے پاس اب کیا آپشنز باقی بچی ہیں؟

حکمران جماعت تحریک انصاف کے دو درجن اراکین قومی اسمبلی کی بغاوت کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے والے وزیراعظم عمران خان کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اب اپنے مخالفین کو کسی صورت نہ چھوڑنے اور ان کا پیچھا کرنے کی دھمکیاں دینے والے کپتان کے پاس کیا آپشنز باقی بچی ہیں؟
یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان ماضی میں ہمیشہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کے خلاف کوئی تحریک عدم اعتماد آ نہیں سکتی اور اگر آ بھی جائے تو کامیاب نہیں ہو سکتی، مگر اپوزیشن نے ان کے اس دعوے کی قلعی کھول دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اب بھی یقین دلایا جا رہا ہے کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں ہو پائے گی کیونکہ ماضی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے خلاف دائر ہونے والی تحاریک عدم اعتماد بھی ناکام رہی تھیں۔ تاہم کپتان کو جھوٹی تسلیاں دینے والے شاید بھول چکے ہیں کہ جب نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے خلاف تحاریک عدم اعتماد داخل ہوئیں تو ان کی جماعتیں اور اتحادی ڈٹ کر ان کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے جبکہ کپتان کی جماعت تحریک دائر ہونے کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ لہذا اس مرتبہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کا واضح امکان موجود ہے۔
موجودہ سیاسی صورتحال پر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے سینئر صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پچھلے برس قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ میری جماعت کے جو اراکین اسمبلی میرے خلاف ووٹ دیں گے میں ان کی ذیادہ عزت کروں گا کیونکہ وہ سچ کہنے کا حوصلہ دکھائیں گے۔ لیکن اب جب ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے باغی اراکین سامنے آگئے ہیں تو خان صاحب نے ان پر ضمیر فروشی اور ہارس ٹریڈنگ کرنے کے الزامات عائد کر دیے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں جب 2018 کے الیکشن سے پہلے یہی اراکین اسمبلی اپنی جماعتیں چھوڑ کر پی ٹی آئی میں آئے تھے تو کہا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق فیصلہ کیا ہے، لہذا آج جب وہی لوگ پی ٹی آئی چھوڑ کر جا رہے ہیں تو انہیں ضمیر فروش کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
سہیل وڑائچ نے کہا کہ حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والی باغی اراکین اسمبلی کو سامنے لا کر کم از کم اپوزیشن نے یہ تو ثابت کر دیا کہ عمران خان پارلیمنٹ میں اکثریت کھو چکے ہیں۔ اپوزیشن کی عددی برتری سے اتفاق کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’یہ تو ثابت ہو گیا کہ اپوزیشن کے پاس گنتی پوری ہو چکی ہے اور وہ عمران مخالف تحریک عدم اعتماد کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے۔کہا۔کہ اب یہ کام وہ بغیر اتحادیوں کے بھی کر سکتے ہیں۔ اب اگر ھکومتی اتحادی ان سے ملتے ہیں تو پھر عمران خان کی فراغت ایک رسمی کارروائی ہی رہ جائے گی۔
تاہم سہیل وڑائچ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اب سیاست میں ایک نہایت منفی ہلچل ہو گی اور شورش اس قدر بڑھ سکتی ہے کہ کسی تیسرے فریق کو بیچ میں آنا پڑے گا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق ’پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک میں یہ کام آئین یا قانون کے مطابق نہیں ہو سکتا، اس لیے ڈر ہے کہ یہ معاملہ لڑائی جھگڑے اور شورش تک جائے گا اور اس میں کسی تیسرے فریق کی نوبت اور مداخلت کا موقع ملے گا اور یہ تیسرا فریق عدالت بھی ہو سکتی ہے اور فوج بھی۔‘ ان کے مطابق فوج اُس وقت دخل دے سکتی ہے جب حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے اور سیاسی جماعتوں کو اس پر قائل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے کہ سب قانون کے مطابق ہو۔
سینئر صحافی سلیم بخاری نے پی ٹی آئی کے باغی اراکین کے ٹی وی پر چلنے والے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سب نے پیسے لینے کے الزامات کو رد کیا ہے البتہ ان سب نے مشترکہ طور پر یہ کہا کہ انھیں عمران خان کی پالیسیوں سے اختلاف ہے اور خراب طرز حکمرانی کے باعث اپنے حلقوں میں شرمندگی ہے اس لیے وہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منظر نامہ کسی اچھی صورتحال کی جانب اشارہ نہیں کرتا اور اگر حکومت کی جارحیت پسندی اسی طرح جاری رہی جیسے انھوں نے پارلیمنٹ لاجز میں کیا اور اب بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی ایجنسیوں کو ایم این ایز کے پیچھے لگا دیا ہے، تو یہ پاکستان کی سیاست میں اچھا شگون نہیں۔
الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کو دورہ ملاکنڈ سے روک دیا
ایک سوال پر سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن کی عددی برتری ظاہر کرنے کے بعد تین چار آپشنز کی بات ہوتی رہی ہے جس میں ایک یہ کہ وہ ملک میں ایمرجنسی لگا دیں گے جس کے بعد ہر چیز رُک جائے گی لیکن ایسا کرنے کی صورت میں ایمرجنسی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر پہلی ہی سماعت پر یہ فیصلہ واپس ہو جائے گا۔‘
بخاری کہتے ہیں کہ دوسری طرف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد عمران کے پاس اسمبلیاں توڑنے کا آپشن بھی ختم ہو گیا، آخری آپشن ان کے پاس یہ ہے کہ وہ خود استعفیٰ دے دیں اور نئے انتخابات کا اعلان کروا دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تینوں صورتوں میں عمران خان کا نقصان ہونے جا رہا ہے۔
سہیل وڑائچ نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ جلسوں سے نہیں ہو سکتا بلکہ اس میں کامیابی کے لیے آپ کو ایوان کے اندر اپنی اکثریت ثابت کرنا ہوتی ہے جو عمران خان بظاہر کھو چکے ہیں اور اسی لیے اسمبلی سے باہر طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عمران خان کے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ وہ اسی قانونی طریقے سے اس تحریک عدم اعتماد کا سامنا کریں جو آئین کے مطابق ہے بجائے کہ کوئی غیر آئینی حرکت کرنے کا سوچیں۔
What options does Imran have now after the coup? Urdu News
