عمران خان کس سیاسی کشمکش میں پھنسے ہوئے ہیں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اپنے قائد عمران خان سمیت ابھی تک اس مخمصے کا شکار ہے کہ اسے حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہییں یا حکومت مخالف سٹریٹ موومنٹ شروع کرنی چاہیے۔ اس کنفیوژن کا ایک واضح ثبوت تب ملا جب تحریک انصاف نے اپنی اتحادی تحریکِ تحفظ آئین کی جانب سے حکومت کیساتھ مذاکرات کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔
روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے تحریک تحفظ آئین کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے یہ اعلان کردیا کہ جو بھی حکومت سے بات چیت کرے گا وہ ہم میں نہیں ہو گا۔ تاہم یہ اعلان کرتے ہوئے علیمہ بھول گئیں کہ وہ ماضی قریب میں خود بھی حکومت سے مذاکرات کے لیے منتیں ترلے کرتی رہی ہیں۔ ویسے بھی تحریک تحفظ آئین عمران خان کے ایما ہر تشکیل پائی تھی اور اس کا بنیادی مقصد حکومت سے مذاکرات کے ذریعے سیاسی اسیران کو رہا کروانا تھا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے معتدل رہنما اور تحریکِ تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی پر امید ہیں کہ حکومت کے ساتھ بات چیت کا کوئی درمیانی راستہ ضرور نکلے گا۔ ایسی ہی خواہش مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے کچھ سنجیدہ لوگوں کی بھی ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات میں رکاوٹ کہاں ہے؟۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ تحریک انصاف کا گالی گلوچ بریگیڈ ہے جس نے نہ صرف پاکستانی سیاست کو پراگندہ کر دیا ہے بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور کر دیا ہے کہ تحریک انصاف باقاعدہ ملک دشمنی پر اتر چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت اور اُسکے اتحادیوں کا اپنا مخمصہ ہے ،جنکی سیاست کا محور اس وقت ’مائنس عمران خان’ ہے۔ ہماری سیاست اسوقت انہی دو مخمصوں کے درمیان پھنسی ہوئی نظر آرہی ہے۔ حکمرانوں کا ’زعم‘ کہیں یا ’گھمنڈ‘ کیونکہ اُن کو ’طاقت ور ترین تیسری قوت‘ کی حمایت حاصل ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن سمجھتی ہے کہ عوام اُس کے ساتھ ہیں، اور وہ ’سٹریٹ پاور‘ سے حکومت کو اپنے مطالبات کی منظوری پر مجبور کر سکتے ہیں جس میں سرِفہرست عمران کی رہائی اور 8؍فروری، 2024 کے مینڈیٹ کی واپسی ہے۔
ادھر حکومت اپوزیشن کے ساتھ ’غیر مشروط مذاکرات‘ کرنا چاہتی ہے اور اسی لیے اُس نے خود ہی چند شرائط بھی عائد کردی ہیں۔ مثلاً یہ کہ مذاکرات میں 8؍فروری کہ الیکشن کی ساکھ اور عمران کی رہائی پر بات نہیں ہوگی۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ جمہوریت برداشت کا نام ہے جبکہ ہم اس کلچر سے کوسوں دور چلے گئے ہیں۔ ایسے میں آخر درمیانی راستہ کیا ہو سکتا ہے اور کیا کوئی سنجیدہ بھی ہے یہ راستہ نکالنے کیلئے؟۔ اس کشمکش میں سال 2025 ڈیڈ لاک میں گزرا ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق جو ایک معتدل سیاستدان ہیں اب تک قائدِحزبِ اختلاف کا اعلان کرنے میں’اگر مگر‘ کا شکار ہیں۔ اگر اپوزیشن نےسینئر سیاستدان محمود خان اچکزئی کا نام دیا ہوا ہے تو آخر اعلان میں کیا قباحت ہے اور شاید اسی وجہ سے نئے چیف الیکشن کمشنر کا مہینوں گزرنے کے باوجود اعلان تو دور کی بات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ناموں کا بھی تبادلہ نہیں شروع ہوا۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ اپوزیشن کو تو ایک طرف رکھیں اس سال حکومت کے بعض اقدامات نے خود اُن کو بہت کمزور کردیا ہے۔ مگر شاید اس کمزوری کا احساس انہیں اُس وقت ہوگا جب وہ حکومت میں نہیں ہوں گے کیونکہ بہر حال اقتدار کے ایوانوں سے اصل دنیا نظر نہیں آتی۔ میری مراد 26ویں اور پھر 27 ویں ترامیم سے ہے اور 28ویں کو ابھی صرف افواہ کا درجہ حاصل ہے ،حقیقت سے سب بے خبر ہیں۔ آئینی عدالت بن گئی اب یہی عدالت’ آئین کی تشریح‘ کیا کرے گی اور ظاہر ہے ہر دور میں کرے گی۔ ویسے تو ماشاءاللّٰہ اس آئین کی تشریح جس طرح ایوب خان، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے دور میں کی گئی کیا یہ اُس سے مختلف ہوگی؟ اُس کی ہلکی سی جھلک ہمیں نظر آئی جب سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے کچھ ججز نے استعفیٰ دیا۔ لہٰذا اعلیٰ عدلیہ یا آئینی عدالت کے حوالے سے اور اُن کی آزادی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔
فیض کا عمران کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا امکان کیوں نہیں؟
مظہر عباس کے مطابق ایسا ہی کچھ حال یا شاید اس سے بھی بُرا حال ’میڈیا‘ کا ہے جہاں بات سنسر شپ سے نکل کر ’اشاروں‘ کی صحافت تک آ گئی ہے۔ ان کے مطابق اب جیسا اشارہ ہوتا ہے ویسی ہی صحافت کی جا رہی ہے۔ لیکن انکا کہنا ہے کہ مذاکرات‘ ہر حال میں تصادم سے بہتر ہیں کیونکہ تصادم کے نتائج اکثر دونوں فریقوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن ’بات چیت‘ کبھی مشروط نہیں ہوا کرتی۔ اس کی ابتدا اعتماد سازی سے ہوتی ہے جسکی شروعات حکومت کر سکتی ہے۔
