بسنت پر گرفتاری سے بچنے کے لیے کیا احتیاط کرنا ضروری ہے

دو دہائیوں بعد لاہور کی فضا ایک بار پھر بسنت کے رنگوں سے جگمگانے جا رہی ہے، تاہم حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والی گورنمنٹ سپانسرڈ کنٹرولڈ بسنت کے لیے سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان قواعد کے تحت 6 سے 8 فروری کے دوران نہ ہر سائز کی پتنگ اڑانے کی اجازت ہو گی اور نہ ہر قسم کی ڈور استعمال کی جا سکے گی۔ حکام کے مطابق بسنت کے لیے طے شدہ ضوابط کی خلاف ورزی پر نہ صرف لاکھوں روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا بلکہ سنگین صورت میں طویل قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب میں بسنت کے دوران کتنی بڑی پتنگ اڑانے کی اجازت ہو گی؟ کون سی ڈور استعمال کی جا سکے گی اور کن چیزوں پر مکمل پابندی عائد ہو گی؟
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے مطابق 6 سے 8 فروری تک پنجاب میں منائے جانے والےبسنت کے تہوار کے دوران صرف 35 انچ کی پتنگ اور 40 انچ کا گڈا اڑانے کی اجازت ہو گی، جبکہ مقررہ سائز سے بڑی پتنگ یا گڈا اڑانے پر مکمل پابندی عائدہو گی۔ بسنت کے موقع پر شہریوں کی حفاظت کے لیے ستھرا پنجاب کے ورکروں کے علاوہ چار ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ بسنت کے دوران ڈور کی چرخی مکمل طور پر ممنوع ہو گی اور صرف پنا استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ پتنگ بازی کے لیے صرف کاٹن کے نو دھاگوں پر مشتمل ڈور استعمال کی جا سکے گی، جبکہ نائیلون یا دھاتی تار پر مشتمل ڈور پر مکمل پابندی ہو گی۔
حکومتی فیصلے کے بعد لاہور میں ایک نئی صورت حال جنم لے چکی ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں بعض شہریوں نے بسنت سے قبل ہی پتنگ بازی شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران دو افراد ڈور سے زخمی بھی ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے غیرمعمولی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سیف سٹی اتھارٹی کے ڈرون کیمرے دن رات فضائی نگرانی کر رہے ہیں اور بسنت سے قبل پتنگ بازی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کر کے گرفتاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔
خیال رہے کہ بسنت کے موقع پرپتنگ اور ڈور کی تیاری اور فروخت کے لیے لائسنس کا ہونا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ پولیس نے لاہور اور اس کے گردونواح میں غیرقانونی طور پر پتنگ اور ڈور بنانے اور فروخت کرنے والے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جس کے باعث شہر میں چوہے بلی کا کھیل جاری ہے۔ ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران کے مطابق یہ تمام اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ بسنت کے لیے مقرر کی گئی قانونی حدود پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف وہی افراد پتنگ اور ڈور کا کاروبار کر سکتے ہیں جنہوں نے ضلعی حکومت سے مشروط اجازت نامے حاصل کر رکھے ہیں، اور یہ اجازت نامے صرف لاہور کی حدود کے لیے مؤثر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بسنت کی اجازت صرف 6 سے 8 فروری تک تین دن کے لیے دی گئی ہے اور اس کے علاوہ کسی بھی دن پتنگ بازی مکمل طور پر غیرقانونی ہو گی۔
شیخ روحیل اصغر نے انصار عباسی کو بیمار ذہن کیوں قرار دیا؟
حکومت کی کنٹرولڈ بسنت پالیسی کے باعث شہر میں پتنگ اور ڈور نایاب ہو چکے ہیں اور ان کی قیمتیں آسمان کو چھوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ شہری گڈے اور ڈور کے حصول کے لیے سفارشوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ لائسنس یافتہ تاجر محمد علی کے مطابق اگر مارکیٹ میں گڈے اور پتنگ دستیاب ہی نہ ہوں تو بسنت منانے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ لاہور کی حدود تک جو لائسنس دیے گئے ہیں وہ تو شہر کے ایک ٹاؤن کی کھپت کو پورا نہیں کر سکتے پوری آبادی کے لئے گُڈوں کا انتظام تو بڑی دور کی بات ہے۔‘ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت سخت چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ دوسرے شہروں سے مال آنے کی اجازت دے تاکہ صرف منظور شدہ سائز اور لائسنس یافتہ تاجروں کے ذریعے ہی فروخت ممکن ہو۔ تاہم اگر حکومت نےصرف سختی پر انحصار کیا اور بیرون شہر سے ڈور اور گڈے لاہور لانے کی اجازت نہ دی تو اس بار بسنت صرف امیر طبقے تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔
