صدر ٹرمپ نے انڈیا کی آڑ میں پاکستان کو کیا دھمکی دی ہے؟

سینیئر اینکر پرسن اور صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ امریکا نے بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا کر پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ اگر اس نے ایران سے تیل یا گیس خریدنے کی کوشش کی تو اس پر بھی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ اس بیان کے اگلے روز پتہ چلا کہ پاکستان اب امریکا سے مہنگا تیل خریدے گا۔

حامد میر روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 2 اگست کو اپنے دورہ پاکستان کا آغاز ڈاکٹر محمد اقبال لاہوری کے مزار پر حاضری سے اس لیے کیا کہ شاعر مشرق کی پاکستان سے زیادہ تعظیم ایران میں کی جاتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد سے وہاں کے تعلیمی اداروں میں اقبال کی شاعری کو نصاب کا حصہ بنا دیا گیا تھا اور تہران سمیت ایران کی کئی شاہراہوں اور اداروں کو اقبال لاہوری سے موسوم کر دیا گیا تھا۔

حامد میر کہتے ہیں کہ ایرانی صدر کی مزار اقبال پر حاضری کوئی روایتی نہیں تھی بلکہ ایرانی صدر کی آنکھوں میں اقبال کیلئے محبت و عقیدت بڑی واضح نظر آ رہی تھی۔ شائد پاکستانیوں کی بڑی اکثریت کو اہل ایران کی اقبال سے محبت کا اندازہ نہیں ۔ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو اقبال کے دو ہزار سے زائد اشعار زبانی یاد ہیں اور وہ اقبال پر ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں ۔ایران اور عراق کی جنگ کے زمانے میں علی خامنہ ای ایران کے صدر تھے اور اسی زمانے میں انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا ۔ 1986 میں جب وہ پاکستان آئے تو انہوں نے پاکستان سے محبت کی دو بڑی وجوہات بتائیں۔ ایک تو اقبال لاہوری اور دوسری وجہ یہ تھی کہ جب رضا شاہ پہلوی نے انہیں ایران سے جلاوطن کیا تو اُنہوں نے خاموشی سے جن ممالک میں وقت گزارا ان میں پاکستان کا ایک شہر کراچی بھی شامل تھا۔

علی خامنہ ای کی عمر 86 برس ہے۔ وہ 36 سال سے ایران کے سپریم لیڈر اور کمانڈر انچیف ہیں۔ انہوں نے اس طویل عرصے میں صرف ایک سرکاری دورہ کیا اور وہ پاکستان کا تھا۔ 13 جون 2025 کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو پاکستان نے ایران کی بھر پور حمایت کی جس پر ایرانی پارلیمنٹ تشکر پاکستان تشکر پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھی ۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا دورہ دراصل پاکستانی بھائیوں کا شکریہ ادا کرنے کی سعی تھی ۔ مسعود پزشکیان لاہور سے اسلام آباد پہنچے تو وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرا عظم اسحاق ڈار سمیت دیگر ارباب اختیار سے اُنکی اہم ملاقاتیں ہوئیں ۔ ان ملاقاتوں میں بہت سے امور کے علاوہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر بھی بات ہوئی ۔

حامد میر کہتے ہیں کہ اب ایرانی حکومت کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان اس پراجیکٹ کو آگے بڑھانے سے کیوں گریز کر رہا ہے؟ چند دن پہلے امریکا نے چھ بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دی ہیں جو ایران سے تیل خرید رہی تھیں ۔ اسکے علاوہ امریکا نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے اور پاکستان پر 19 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے ۔ بظاہر پاکستان پر ٹیرف کی شرح بھارت کے مقابلے میں کم ہے لیکن پاکستان کی معیشت کے حالات کی روشنی میں یہ ٹیرف کافی زیادہ ہے۔ امریکی صدر نے ایک بیان میں یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور تیل نکالنے کیلئے امریکا کی طرف سے پاکستان کی مدد کی جائے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک دن پاکستان یہ تیل بھارت کو فروخت کرے گا۔

عام خیال یہ ہے کہ اس بیان کے ذریعے ٹرمپ نے بھارت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ،اس بیان کے اگلے دن پتہ چلا کہ پاکستان اب امریکا سے تیل خریدے گا ۔ حامد میر کے بقول امریکا نے بھارت کی کمپنیوں پر پابندیاں لگا کر پاکستان کو پیغام دیا کہ اگر اد نے ایرانی تیل یا گیس خریدنے کی کوشش کی تو اس پر بھی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ ایران حالات کی نزاکت کو اچھی طرح سمجھتا ہے ۔ ایران چاہے تو پاک ایران گیس پائپ لائن مکمل نہ کرنے پر پاکستان کے خلاف قانونی کارروائی سے بھاری جرمانہ عائد کرا سکتا ہے لیکن علی خامنہ ای نے ایرانی صدر کو ہدایت کی کہ پاکستان کے ساتھ قانونی جنگ کی بجائے بات چیت کے ذریعے کوئی راستہ نکالا جائے ۔

پاکستان کو بھی معلوم ہے کہ ٹرمپ نے جن تیل کے ذخائر کا ذکر کیا ہے اُن سے فائدہ اُٹھانے کیلئے ابھی کئی سال انتظار کرنا پڑے گا اور امریکا سے مہنگا تیل خریدنا پاکستان کے فائدے میں نہیں۔ ایران پاک گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر پیدا ہونے والی مشکل سے نکلنے کاراستہ تلاش کرنا ایک ایسا چیلنج ہے جس پر پاکستان بار بار ایران سے وقت مانگ رہا ہے۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات صرف ایک گیس پائپ لائن پرا جیکٹ کے ارد گرد نہیں گھومتے۔ گیس پائپ لائن پراجیکٹ کا کوئی حل نکلے نہ نکلے لیکن پاکستان اور ایران دیگر ممالک کے ساتھ مل کر آپس میں فرقہ وارانہ عداوتوں کو کم کرنے کیلئے بہت سے عملی اقدامات کر سکتے ہیں۔

حامد میر کے بقول اس معاملے میں ایران اور پاکستان کے باہمی تعاون پر کوئی امریکی پابندی عائد نہیں ہو سکتی لہذا دونوں برادر ممالک کو آگے بڑھ کر مسلم ممالک کی مدد سے دشمنانِ اسلام کی سازشوں کو ناکام بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

Back to top button