عمران نے بسنت پر مریم نواز کے لیے کونسی پریشانی کھڑی کر دی؟

تحریک انصاف کے لیے ہمدردی رکھنے والے معروف تجزیہ کار کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی حکومت کی جانب سے بسنت پر سیاستدانوں کی تصاویر والی پتنگوں پر پابندی اس خدشے کے تحت لگائی گئی ہے کہ کہیں قیدی نمبر 804 لاہور کی فضاؤں میں پرواز کرتا نظر نہ آ جائے۔ اپنے سیاسی تجزیے میں ایاز امیر کہتے ہیں کہ بسنت کے تہوار سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ بظاہر ایک ثقافتی قدم یے، تاہم حکومت خود ہی اپنے فیصلے کے نتائج سے خوفزدہ ہو کر عین وقت پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس معاملے کو خود ہی متنازع بنا رہی ہے۔

ایاز امیر سرکاری حکم نامے میں دیے گے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ کیا پتنگوں پر سیاسی شخصیات کی تصاویر لگانے سے مذہبی جذبات مجروح ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بسنت کی تاریخ میں ایسی کوئی روایت نہیں ملتی۔ مریم حکومت کی اصل تشویش سیاسی علامتوں کے عوامی اظہار کے حوالے سے تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی شخصیات کی تصویروں والی پتنگوں پر پابندی کا سرکاری حکم نامہ دراصل اسی خدشے کی نشاندہی کرتا ہے کہ لاہور کی فضاؤں میں اگر کسی خاص تصویر نے جگہ بنا لی تو وہ عوامی احتجاج کی صورت بھی اختیار کر سکتا تھا۔

ایاز امیر نے حکومت پنجاب کی جانب سے بسنت کے موقع پر نافذ کی گئی سخت سزاؤں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انکے مطابق کمسن بچوں کے لیے بسنت قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے، والدین سے ان جرمانوں کی زبردستی وصولی اور تحصیلداروں کے ذریعے ریکوری جیسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ مریم نواز کی حکومت خوف کی بنیاد پر فیصلے کر رہی ہے۔ ان کے بقول بالغ افراد کے خلاف فوری فوجداری مقدمات درج کرنے کی ہدایات بھی اسی بوکھلاہٹ کا اظہار ہیں، جس میں ریاست شہریوں کو شریک کرنے کے بجائے انہیں سزا کے ذریعے قابو میں رکھنا چاہتی ہے۔

ایاز امیر فروری 2024 کے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انتخابی مہم کے دوران ہر ممکن پابندی کے باوجود عوامی فیصلہ حکومت کے حق میں نہ آ سکا۔ ان کے مطابق نتائج سامنے آتے ہی فارم 47 کے ذریعے انتخابی نقشہ بدلا گیا اور یہی وجہ ہے کہ آج اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے چہرے عوامی مینڈیٹ کے بجائے ایک انتظامی سہارے کے مرہونِ منت دکھائی دیتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت کو ملک کے اصل فیصلہ سازوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کیونکہ اگر یہ انتظام نہ ہوتا تو اقتدار کی کرسیوں پر براجمان لوگ اج اپوزیشن میں بیٹھے ہوتے اور ان کا احتساب ہو رہا ہوتا۔

ایاز امیر مریم نواز کی پنجاب حکومت پر مزید تنقید کرتے ہوئے اس سنگین اور دل دہلا دینے والے واقعے کا حوالہ دیتے ہیں جس میں داتا دربار کے قریب پیش ایک کمسن بچی اپنی ماں سمیت کھلے گٹر میں گر کر اپنی جان گنوا بیٹھی۔ انکا کہنا یے کہ یہ سانحہ کسی اچانک آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ انتظامی غفلت، ناقص شہری منصوبہ بندی اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بدحالی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کے بقول لاہور جیسے بڑے شہر میں کھلے گٹروں کی موجودگی خود ریاستی ناکامی کا اعلان ہے۔ ایاز امیر اس افسوسناک واقعے وہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری کی جانب سے ابتدا میں “فیک نیوز” قرار دیے جانے کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

ان کے مطابق بغیر تحقیق کے ایسے واحیات بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ مریم نواز کی حکومت حقائق جاننے سے زیادہ بیانیہ کنٹرول کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انکا کہنا یے کہ اگر یہ واقعہ واقعی جھوٹا ہوتا تو متاثرہ خاندان، عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے شواہد اس کو رد نہ کرتے۔ ایاز امیر پولیس کے کردار پر بھی سخت سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس سانحے کے بعد جب بچی کے والد غلام مرتضیٰ جائے وقوعہ پر پہنچے تو انہیں ہمدردی یا انصاف کی یقین دہانی دینے کے بجائے حراست میں لے لیا گیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ تھانہ بھاٹی گیٹ میں غلام مرتضیٰ پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ یہ اعتراف کرے کہ اس نے خود اپنی بیوی اور بچی کو گٹر میں دھکیلا۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر یہ معاملہ سوشل میڈیا پر نہ آتا تو روایتی طور پر ایک اعترافی بیان تیار کر لیا جاتا، جیسا کہ ماضی میں کئی مقدمات میں ہوتا رہا ہے۔

ایاز امیر کے بقول جب یہ کیس میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا تو مریم نواز حکومت کا بیانیہ بھی فوری بدل گیا، جب ماں اور بیٹی کی لاشیں گندے نالے سے مل گئیں تو حکومت کی جانب سے تحقیقات کے اعلانات  شروع ہو گے۔ ان کے مطابق اصل ذمہ داری حادثے کے بعد کے حکومتی بیانات نہیں بلکہ حادثے سے پہلے کے حفاظتی اقدامات تھے، جو مکمل طور پر نظرانداز کیے گئے۔ ایاز امیر پنجاب حکومت کے گڈ گورننس کے دعوؤں پر طنزیہ وار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک طرف حکومت بسنت کے موقع پر پتنگوں، گانوں اور نعروں سے خوفزدہ ہو کر پابندیاں عائد کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف شہریوں کی جانوں کو لاحق حقیقی خطرات، جیسے کھلے گٹر، اس کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

Back to top button