فضل الرحمان اور پی ٹی آئی میں کیا طے پایا؟اندرونی کہانی سامنے آ گئی

جے یو آئی کے سربراہ مولانافضل الرحمان اور پاکستان تحریک انصاف کے  وفد  کے مابین گزشتہ رات ہونے والی ملاقات میں کیا طے پایا؟اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹرگوہر کی زیرقیادت وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں آئینی ترامیم پرگفتگو ہوئی اور آئینی عدالت کے قیام سے متعلق مولانانے تفصیلات بتائیں۔

مولانا فضل الرحمان نے مشورہ دیا کہ حکومت کے مقابلے میں پی ٹی آئی اور اپوزیشن کو اپنی ترامیم لانی چاہییں، آپ اپنی ترامیم لائیں اور اتفاق رائے سے آگے بڑھیں۔پی ٹی آئی وفد کا مؤقف تھاکہ ہم نے بل ابھی تک نہیں دیکھا کیسے آگے بڑھیں؟

ذرائع کے مطابق مولانافضل الرحمان نے بتایاکہ آپ اپنی پارٹی کی تجاویز آئینی ترمیم میں مشترکہ طورپر شامل کریں۔

پی ٹی آئی وفد  نے کہا کہ ہم توسیع یا ججز تعداد کی کسی تجویزیاترمیم کی حمایت نہیں کرینگے۔

فضل الرحمان  کا کہنا تھاکہ حکومتی تجاویز اور ترامیم کے ساتھ آپ بھی تجویزدیں اورمشترکہ قانون سازی ہو۔ اس پر وفد کا کہنا تھاکہ ہم نے بل کا مسودہ تک نہیں دیکھا، تفصیلات سامنے آنے پر حتمی فیصلہ ہوگا۔

یاد رہے کہ گزشتہ رات دیر گئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کی رہائشگاہ پر جاکر ملاقات کی تھی اور پھر واپسی پر صحافیوں کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترامیم میں حمایت سے متعلق سوال پر وکٹری کا نشان بنا کر چلے گئے تھے۔

واضح رہے کہ ججز کی مدت ملازمت میں توسیع سمیت مختلف جوڈیشل ریفارمز کے حوالے سے آئینی ترمیم کی راہ ہموار ہو گئی۔حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

حکومتی رہنماؤں کے مطابق مولانا فضل الرحمان آئینی ترمیم سے متعلق حکومت کا ساتھ دیں گے، آئینی ترمیم ایک جامع پیکج ہے جس میں آئینی عدالت بنائی جائے گی، آئینی عدالت کے لیے ججز کی تقرری کا بھی طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق آئینی عدالت کے لیے نئے سرے سے ججز کی تقرری ہو گی، آئینی عدالت بنانے کا مقصد عام سائلین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات ہونے والی ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے اختلافی معاملات کو سلجھایا جس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترمیم آج پیش کیے جانے کا امکان ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومت کے نمبر پورے ہیں، منحرف ارکان کے ووٹ سے متعلق بھی ترامیم کی جا رہی ہیں جبکہ آئین کے آرٹیکل 63 اے میں ترمیم کے لیے بھی مسودہ تیار ہے۔حکومتی ذرائع نے سینیٹ میں بھی آئینی ترامیم کے لیے نمبر گیم مکمل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔اس سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی طارق فضل چوہدری نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے حکومت کے نمبر پورے ہیں۔

دریں اثناء ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی جس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور مجوزہ آئینی ترامیم سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ان کے چیمبر میں ملاقات کی۔

Back to top button