جنرل فیض کا پیوٹن کی طرح صدر بننے کا منصوبہ کیسے فلاپ ہوا؟

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ہر صورت آرمی چیف بننا چاہتے تھے اور اس عہدے کے حصول کے لیے سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ بشریٰ بی بی کے ذریعے آرمی چیف بننے کے بعد عمران خان کو دوسری مرتبہ وزیراعظم بنوا کر ایکسٹینشن لیں گے‘ پھر آئین تبدیل کر کے ملک میں صدارتی نظام لائیں گے‘ چھ سال آرمی چیف رہنے کے بعد حکومت کا تختہ الٹیں گے‘ عمران خان کو نواز شریف اور زرداری فیملی کی طرح زمین میں گاڑھ دیں گے اور پھر روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی طرح تاحیات پاکستان کے صدر بن جائیں گے۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری اپنی تحریر میں سابق آئی ایس آئی چیف کے کارنامے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کی فیض حمید اپنی تمام تر خرابیوں کے باوجود ایسے کاری گر شخص تھے جو سامنے والے شخص کو شیشے میں اتار کر بیچ دیتے تھے اور اسے پتہ بھی نہیں چلتا تھا۔ انکے مطابق فیض کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ خواجہ سرا کو بھی اولاد نرینہ دے کر واپس بھجواتے تھے۔ آپ ان سے ملتے تو وہ آپ کو چاند ہر پہنچا دیتے لیکن جب آپکے رخصت ہوتے ہی آپ کی ساری جڑیں کٹ چکی ہوتی تھیں۔ فیض حمید بے انتہا محنتی اور نتیجہ دینے والے شخص تھے جو تین گھنٹوں سے زیادہ سوتے نہیں تھے۔ وہ جس کام کے پیچھے لگ جاتے یا لگا دیے جاتے تھے وہ اسے کر کے رہتے تھے۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ یہ ساری خوبیاں اپنی جگہ لیکن فیض حمید میں تین خوف ناک خامیاں تھیں جو ان کی تمام خوبیاں نگل گئیں۔ انکی پہلی خامی اوور ایمبیشن over ambition ہونا تھی۔ وہ ہر صورت آرمی چیف بننا چاہتے تھے اور اس کے لیے یہ سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار تھے۔ انکا رول ماڈل روسی صدر پیوٹن تھے اور وہ انہی کی طرح صدارتی نظام حکومت لا کر تاحیات پاکستان کے صدر بننا چاہتے تھے۔ جاوید چوہدری کے مطابق یہ منصوبہ بہت کلیئر تھا اور وہ اس کی تکمیل کے لیے تمام اہم پوزیشنز پر اپنے لوگ تعینات کرا چکے تھے، حتیٰ کہ فیض تحریک انصاف پر بھی عملاً قابض ہو چکے تھے‘ بشریٰ بی بی بھی ان کے مکمل قبضے میں تھیں۔ فیض حمید نے ان کی گفتگو بھی ریکارڈ کر رکھی تھی اور ان کے پاس ویڈیو ریکارڈنگز کا پورا خزانہ بھی موجود تھا‘ عدلیہ مکمل طور پر ان کی جیب میں تھی‘ اسکے علاوہ ججز بھی ان کے اشارے پر فیصلے دینے کے منتظر رہتے تھے۔
جاوید چوہدری کے مطابق فیض حمید صرف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے غیر مطمئن تھے چنانچہ انہوں نے مئی 2019 میں انکے خلاف نا اہلی کا ایک ریفرنس تیار کر کے اپنی طرف سے انہیں بھی راستے سے ہٹا دیا تھا۔ قاضی فائز کے خلاف ریفرنس جنرل فیض حمید نے خود ٹائپ کرایا تھا اور بشریٰ بی بی کے ذریعے اسکی منظوری بھی عمران خان سے کرائی گئی تھی۔ صدر عارف علوی ریفرنس کے خلاف تھے لیکن پھر عمران خان کا حکم آیا اور صدر نے اس پر چپ چاپ دستخط کر دیے‘ فیض حمید کی دوسری خامی مالیاتی بددیانتی تھی‘ وہ بہت جلد بزنس مینوں اور ٹھیکے داروں کے ہتھے چڑھ گئے اور مال بنانا شروع کر دیا‘ موصوف کے پی اور پنجاب میں مختلف ٹھیکے داروں کو بڑے ٹھیکے لے کر دیتے تھے جنکا دس فیصد انکے بھتیجے اور بھانجے وصول کرتے تھے۔
وزیر اعلی محمود خان اور وزیر اعلی عثمان بزدار کے دور کے زیادہ تر منصوبوں میں بھی فیض نے بھاری رقمیں وصول کیں۔ حتیٰ کہ عمران خان دور میں میانوالی میں 200 بیڈز کا مدر اینڈ چائلڈ کیئر ہسپتال اور نرسنگ کالج بنایا گیا تو اس میں بھی فیض کے خاندان کے ایک نوجوان نے دس فیصد وصول کیا۔ چکوال میں فیض کے گھر کی تعمیر بھی ایک ہوش ربا داستان ہے۔ جاوید چوہدری کے مطابق یہ گھر جب مکمل ہوا تو فیض حمید نے اپنے تمام کولیگز کو کھابے کی دعوت دی۔ ان میں جنرل قمر باجوہ بھی شامل تھے‘ جنرل باجوہ نے گھر دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فیاض سے صاف کہا کہ تمہیں یہ گھٹیا حرکت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سکینڈل بھی جنرل فیض کی اس ہوس زر کا نتیجہ تھا‘ اس ہائوسنگ سکیم کی زمین متنازع تھی جو کسی بیوہ عورت کی ملکیت تھی‘ اس پر کنور معیز قابض ہو گیا۔
وہ خاتون بے چاری مختلف ججوں اور وزیروں کے پاس دھکے کھاتی رہی آخر میں اسے جنرل فیض حمید کا بھائی نجف حمید مل گیا‘ دونوں بھائیوں کو موقع نظر آیا۔ چناں چہ جنرل فیض حمید کے حکم پر رینجرز نے کنور معیز کے گھر پر ریڈ کر دی‘ اس معاملے میں فیض حمید نے جنرل باجوہ سے بھی جھوٹ بولا‘ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ٹاپ سٹی کے ملازم بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) حامد بشیر آرمی چیف کے پاس چلے گئے‘ حامد بشیر جنرل باجوہ کے کورس میٹ تھے‘ انہوں نے باجوہ کو حقیقت بتائی‘ آرمی چیف نے ایم آئی کے ذریعے تحقیقات کرائیں تو معاملہ کھل گیا لیکن جنرل فیض اس وقت تک سسٹم کی ضرورت بن چکے تھے لہٰذا ٹاپ سٹی سکینڈل کو دبا دیا گیا۔ لیکن جوں ہی وقت بدلا تو یہ جنرل فیض کے گلے کا طوق بن گیا۔
جاوید چوہدری کے مطابق جنرل فیض حمید کی تیسری غلطی سیاست دانوں اور ججوں کے ساتھ بدتمیزی کرنا تھی۔ آپ جب ان کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں تو کبھی نہ کبھی آپ کو اس کا خمیازہ بھگتا پڑتا ہے اور جنرل فیض حمید کے معاملے میں بھی یہی ہوا‘ نواز شریف کو 13جولائی 2018ء کو لندن سے واپسی پر ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا‘ 8 اگست 2019ء کو مریم نواز کو انکے والد سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔ یہ منظر جنرل فیض حمید نے کیمروں کے ذریعے خود دیکھا۔
مریم نواز کے جیل‘ سیل اور واش روم میں کیمرے لگائے گے تھے اور یہ کام عمران خان اور جنرل فیض دونوں نے کیا تھا۔ مختصر یہ کہ جنرل فیض حمید نے بطور آئی ایس آئی چیف جو بویا تھا، آج وہی کاٹ رہے ہیں۔
