فیض حمید کے دور میں بنایا گیا جادو ڈیسک کیا کام کرتا تھا؟

بشریٰ بی بی کی روحانیت اور بشارتوں سے بھرپور عمران خان کے دور حکومت میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی زیر قیادت کام کرنے والی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی میں ایک "جادو ڈیسک” تشکیل دیا گیا تھا تاکہ مخالفین کی سازشوں کا پتہ لگا کر ان کا بروقت توڑ کیا جا سکے، تاہم دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ اس ڈیسک کی بنیادی ذمہ داری بشریٰ بی بی اور عمران خان کی ٹیلیفونک گفتگو سن کر ان کو ایک پیر بابا کے ذریعے شیشے میں اتارنا تھا تاکہ فیصلہ سازی پر اثر انداز ہوا جا سکے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی اپنے تجزیے میں گوگلی نیوز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بشریٰ بی بی تک پہنچنے کے لئے پہلے آئی ایس آئی کا ایک حاضر سروس ڈپٹی ڈائریکٹر پیر بابا بن کر فرح خان گوگی سے ملا۔ موصوف سارا دن گوگی کے فون سنتے اور شام میں انہیں ان کی زندگی کے مسائل اور ان کے حل سے آگاہ کرتے۔ چنانچہ جب پیر بابا کے انکشافات اور انکی بشارتوں سے فرح گوگی کی آنکھیں چکاچوند ہو گئیں تو انہوں نے موصوف کو بشری بی بی سے ملوا دیا۔ جب بشریٰ بی بی نے پیر صاحب بابا جی رحمۃ اللہ کے چمتکار دیکھے تو وہ فوراً ان پر یقین کرلیا اور انہیں اپنا پیر بنالیا۔ پیر بابا بشریٰ کو ان کے سارے دن کی گفتگو کی بنیاد پر ایسی بشارتیں دیتے جو اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈا آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتیں۔ بشریٰ بی بی جب بابا جی سے خان صاحب کی زندگی کے مسائل اور قصے کہانیاں سن کر انہیں سناتیں تو وہ حیرت زدہ ہو جاتے اور ان کا اپنی مرشد پر اعتقاد مزید پکا ہو جاتا تھا۔ مختصر یہ کہ خفیہ ایجنسی کا جادو ڈیسک فیض کے ایماء پر بشریٰ کو ماموں بنا رہا تھا اور وہ آگے اپنے مجازی خدا کو بشارتیں سنا کر اور فیصلے کروا کر ماموں بنا رہی تھیں۔
حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہوتا ہے اور ہر باطن کا ایک ظاہر، یعنی نیکی کا باطن گناہ بھی ہو سکتا ہے، اور گناہ میں نیکی پوشیدہ ہو سکتی ہے، یہ تھا باطنیوں کے ایک گروہ کا عقیدہ، اور اس فرقہ کے ایک معروف رہنما تھے حسن الصباح جنہوں نے دو پہاڑوں کے درمیان واقع وادی میں ایک خانہ ساز جنت بنا رکھی تھی، ایک وسیع و عریض اور مسحور کن باغ تھا جس میں ہر قسم کے پھل پائے جاتے تھے، جا بہ جا شہد اور شراب کی نہریں تھیں، ان نہروں کے کنارے کنارے سونے چاندی کے تخت بچھے تھے، لوگ پر تکلف اور طلائی گائو تکیوں سے پیٹھ لگائے دل فریب اور ہوش ربا کم سن لڑکیوں کو پہلو میں لیے بیٹھے تھے۔ خوب صورت،آفتِ روزگار لڑکے نہایت ہی نزاکت سے ساقی گری کرتے تھے۔ شراب کے دور چلتے، سدھائے ہوئے طیور گزک کیلئے پھل دار درختوں سے پھل توڑ توڑ کر لاتے اور ’’جنتیوں‘ ‘کے سامنے رکھ کر اڑ جاتے۔ اس ’جنت‘ میں منتخب لوگوں کو بے ہوش کر کے لایا جاتا اور کچھ عرصے بعد جنت کے مزے چکھا کر بے ہوشی کی حالت میں ’جنت‘ سے نکال دیا جاتا، باغِ بہشت سے نکالے ہوئے لوٹنے کے لیے تڑپتے تو انہیں بشارت دی جاتی کہ فلاں شخص کو قتل کرنے پر انہیں دوبارہ جنت میں بھیج دیا جائے گا۔ اطالوی سیاح مارکو پولو سے عبدالحلیم شرر تک قلعہ الموت کے حوالے سے کچھ ایسے ہی دیو مالائی ’’حقائق‘‘ رقم ہیں۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہائی برڈ نظام کا ’سیم پیج‘ پھٹا تو گینگ ممبرز نے ایک دوسرے کی ’مدح‘ کا آغاز کیا، یوں لگا جیسے ہم بھی پچھلے کچھ برسوں سے ایک مصنوعی جنت میں رہ رہے تھے، جس کی بنیاد مکر پر اٹھائی گئی تھی، نظر کچھ آ رہا تھا، حقیقت کچھ اور تھی، جو نیک نظر آ رہے تھے ان کا میک اپ اترا تو ان صورتوں سے خوف آنے لگا،مذہب کے لبادے سے مکر برآمد ہوا اور قانون کی عبا سے جرم، نہ کوئی کسی کا دوست تھا نہ کوئی کسی کا وفادار، دھوکا در دھوکا،سراب در سراب ۔ بلا شبہ، ہر ظاہر کا ایک باطن ہوتا ہے اور ہر باطن کا ایک ظاہر۔ حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ماضی میں بھی اداروں میں شوقِ سیاست کی کمی نہیں رہی، کچھ اصحاب دن دہاڑے سرِ بازارِ سیاست خرامِ ناز کرتے نظر آئے، تو کچھ بھیس بدل کر رات کے پچھلے پہر اس بازار کا ایک آدھ چکر لگا کر شوق پورا کر لیتے تھے ، مگر ان سب کے بارے میں سب کو معلوم تھا کہ ’وہ کون ہیں‘ ، کس باغ کے مالی ہیں اور کس چمن کے غارت گر، یعنی میدانِ سیاست میں کس کے حامی ہیں اور کس کے مخالف لیکن باجوہ صاحب ہماری تاریخ کے وہ پہلے صاحب ہیں جن کے بارے میں کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ سکی کہ وہ ’اِدھر‘ تھے یا ’اُدھر‘۔اس قسم کا ابہام کہ کافکا بھی سر پکڑ لے۔ باجوہ صاحب نے حسن الصباح کی طرح قلعہ الموت آباد تو کیا تھا لیکن کیا ہلاکو خان کی طرح اس قلعہ کو تباہ بھی کیا تھا؟ حماد پاکستانی عوام سے پوچھتے ہیں کہ آپ ایمان داری سے بتائیے کہ آپ کو کیا سمجھ آئی، باجوہ صاحب عمران حکومت کو بچانا چاہتے تھے یا ہٹانا چاہتے تھے؟کیا وہ واقعتاً صبح حکومت بچاتے تھے اور رات کو ہٹاتے تھے؟ صبح وفادار، شام کو بے وفا؟ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ اب باجوہ صاحب اپنے دفاع میں جو کچھ بھی فرما رہے ہیں وہ در اصل اپنے ہی خلاف گواہی دے رہے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ، عمران خان کے لیے عدالتوں کا ’بندوبست‘ میں نے کیا، انتخابات میں نے جتوائے، ان کی حکومت میں نے بنوائی اور چلوائی، یعنی میں نے اپنے حلف کی مسلسل خلاف ورزی کی۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں قلعہ الموت میں نہ کوئی آئین تھا نہ حلف، وہاں تو مکر اور دھوکے کا راج تھا۔ ہاں وہاں ایک صاحب تھے فیض حمید جنہوں نے عمران خان کے ساتھ عہدِ وفا باندھ رکھا تھا، دونوں نے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھا رکھی تھیں، لیکن اب پتا چلا ہے کہ دونوں کے تعلق کی بنیاد میں بھی شک کا گارا بھرا ہوا تھا، فیض حمید عمران اور بشری بی بی کے فون بھی ٹیپ کراتے تھے تاکہ بہ وقتِ ضرورت خان صاحب کو ’تُنکا‘ مارا جا سکے، وزیرِ اعظم ہاؤس میں مامور ایک افسر یہ ’آئینی‘ ذمہ داری ادا کر رہا تھا، اسی گروہ کے دیگر افراد خان صاحب کے خفیہ اور اعلانیہ جوہر بھی فلم بند کرتے رہے ہیں۔ اس جنت میں دودھ اور شہد کی نہریں بھی بہتی تھیں، حوریں اور غلمان بھی تھے اور مسکرات بھی وافر تھیں۔ اس جنت کا ہر کردار مصنوعی نظر آتا ہے، بشریٰ بی بی کا دعویٰ تھا کہ وہ مقدس ترین ہستیوں سے ہر شب گفتگو فرماتی ہیں جو ان پر کائنات کے راز منکشف کرتی ہیں، لیکن اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ بشریٰ بی بی کو خفیہ ایجنسیوں کے’ روحانی‘ اہل کار عمران خان کے فون ٹیپ کر کے بشارتیں فراہم کر رہے تھے، چنانچہ جب خان صاحب کو اپنی خفیہ ترین باتوں کا پتہ خاتونِ خانہ سے لگتا تو ان کا پنکی پیرنی کی ’رحونیت ‘ پر ایمان اور بھی مضبوط ہو جاتا۔
فیض حمید کے کالے کرتوت جو ان کے زوال اور سزا کا سبب بنے؟
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ عمران دور حکومت میں ہماری نمبر ون خفیہ ایجنسی میں ایک ’جادو ڈیسک‘ بھی قائم کیا گیا تھا، جب ہم نے پہلی بار یہ خبر سنی تھی تو اس پر یقین نہیں آیا تھا، لیکن اب ہمیں یقین ہو چکا ہے، بے شک جادو ڈیسک برحق ہے۔ روایت ہے کہ حسن الصباح کے فدائیوں کو حشیش پلا کر قتل و غارت کے لیے بھیجا جاتا تھا، اسی نسبت سے وہ حشاشین کہلاتے تھے، اسی طرح ہمارے ہاں بھی یہ ایک’ حشاشین‘ کا گروہ تھا جس نے پاکستان کے آئین، قانون، جمہوریت اور اخلاقیات کا قتل عام کرکے رکھ دیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
