سزاکےبعدعمران کی احتجاج کی کال کاکیاانجام ہونے والاہے؟

تحریکِ انصاف کی مسلسل ناکام احتجاجی اور مزاحمتی سیاست کے باوجود توشہ خانہ ٹو کیس میں 17 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان نے ایک بار پھر عوامی احتجاج کی کال دے دی ہے۔ عمران خان نے وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے نام جاری کیے گئے پیغام میں کہا ہے کہ ’’بہت صبر کر لیا، اب سٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں۔‘‘ مبصرین کے مطابق عمران خان نے ایک مرتبہ پھر احتجاج کی کال تو دے دی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس بار عوام ان کی اپیل پر سڑکوں پر نکلیں گے یا تحریکِ انصاف کو ایک بار پھر ماضی کی طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران کے ریاست مخالف بیانیے نے نہ صرف ان کی رہائی کے تمام ممکنہ راستے مسدود کر دیے ہیں بلکہ تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور بھی بتدریج ختم کر دی ہے۔ کم ہوتی ہوئی عوامی حمایت کی وجہ سے تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کیلئے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے میں یکسر ناکام دکھائی دیتی ہے۔پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکنان عملی طور پر منظرنامے سے غائب ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی تمام احتجاجی و سیاسی سرگرمیاں خیبرپختونخوا تک محدود ہو گئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کے 2 سال مکمل ہونے پر 5 اگست کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا گیا، تاہم عملی طور پر احتجاج صرف خیبر پختونخوا کے چند علاقوں تک محدود رہا۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں کارکنان کی محدود تعداد سامنے آئی جبکہ مرکزی قیادت بلوں میں چھپی بیٹھی رہی۔ احتجاج کی ناکامی کی وجہ سے پی ٹی آئی کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تاہم ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ پی ٹی آئی نے احتجاج کی کال دی ہو اور عوام سڑکوں پر نہ نکلے ہوں۔ پی ٹی آئی قیادت نے گزشتہ سال 6 مرتبہ اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا تاہم کبھی پی ٹی آئی قیادت کے فیصلے اور کبھی انتظامیہ کی اجازت نہ ملنے پر جلسے منسوخ ہو گئے، جبکہ 8 ستمبر 2024 کو سنگجانی اسلام آباد میں پی ٹی آئی نے جلسہ کیا اور اگلا جلسہ لاہور میں کرنے کا اعلان کیا جو کہ تاحال نہیں ہو سکا۔ ناقدین کے مطابق مجموعی طور پر پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر مؤثر احتجاج منظم کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے ایسے میں عمران خان نے ایک بار پھر ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔
عمران خان نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے بعد ایکس اکاؤنٹ پر جاری کئے گئے اپنے پیغام میں احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔‘
عمران خان کا اپنے پیغام میں فیلڈ مارشل کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لاء“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا- ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ عمران خان کا ایک بار پھر فیلڈ مارشل کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ تاہم آج بھی جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔ قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے ہمیں میدان میں آنا ہو گا عمران خان کا کہنا تھا کہ میں سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں اور پوری قوم کوساتھ لے کر میدان میں آ جائیں۔
یوتھیوں کے مطالبے کے باوجود PTI اسلام آباد کی جانب مارچ سے انکاری کیوں؟
تاہم ناقدین کے مطابق عمران خان کی حالیہ احتجاجی تحریک کا انجام بھی ماضی سے مختلف نہیں ہو گا کیونکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی غیر سیاسی اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کی وجہ سے تحریک انصاف پنجاب اور بلوچستان سے بالکل مائنس ہو چکی ہے تاہم سندھ میں اس کے چند نام لیوا موجود ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ماضی قریب میں خبیرپختونخوا کے علاوہ ملک بھر میں پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کارکنان کو متحرک کرنے میں یکسر ناکام رہی ہے، ویسے بھی مسلسل مزاحمتی اور احتجاجی سیاست کی وجہ سے عوام پی ٹی آئی قیادت سے متنفر ہو چکے ہیں اسی لئے تحریک انصاف کی احتجاجی کالز پر سڑکوں پر آنے سے گریزاں ہیں، مبصرین کے مطابق موجودہ ملکی سیاسی حالات میں پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے عوام کو سڑکوں پر نکالنے کے دعوے کرنا بہت آسان ہے، لیکن جب ایسا کرنے کیلئے میدان میں اترے گی تو اسے لگ پتا جائے گا کیونکہ پی ٹی آئی کی احتجاجی تحاریک کو کامیاب بنانے والی فیضی امداد کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔
