فوج اور تحریک انصاف کے تصادم کا کیا نتیجہ نکلے گا؟

 

 

 

پاکستانی فوج کے ترجمان کی ڈھائی گھنٹے طویل پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کے ریاست مخالف بیانیے پر کڑی تنقید اور اس کے جواب میں تحریک انصاف کے سخت ردعمل نے ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش اور اندرونی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ شدت پسندی جیسے حساس اور قومی سلامتی سے جڑے معاملے پر فوج اور ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کا آمنے سامنے آ جانا اس سوال کو جنم دے رہا ہے کہ یہ تصادم پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے اور اس کے نتائج کہاں تک جا سکتے ہیں۔

 

فوجی اسٹیبلشمنٹ کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف اور اس کی قیادت، خصوصاً عمران خان، اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے تحریک طالبان جیسے گروہوں کے حوالے سے نرم بیانیہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ فوجی ترجمان کے مطابق خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت بھی اسی سوچ کے تحت شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی بجائے دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کا چورن بیچ رہی ہے، جس کے نتیجے میں صوبہ دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

 

اگلے روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ملک کی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہو رہے ہیں، جہاں حکومت کے پرو طالبان رویے کی وجہ سے دہشتگردوں کو سازگار ماحول میسر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہیں کرنا تو پھر کیا ریاست ان کے سامنے سر جھکا دے؟ پریس کانفرنس کے دوران فوجی ترجمان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزرا اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات کے ویڈیو کلپس بھی دکھائے جن میں ممکنہ فوجی آپریشن کی مخالفت کی جا رہی تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ اسمبلیوں میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ گھڑا جا رہا ہے اور صوبے کو دانستہ طور پر دہشت گردوں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

 

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے عمران خان کی ایک ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیوں ماضی میں دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے لیکن تحریک انصاف کی قیادت پر حملے نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق یہ سوال خود پی ٹی آئی کے بیانیے پر سنجیدہ شکوک پیدا کرتا ہے۔

فوجی ترجمان کی ان باتوں پر خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ممکنہ فوجی آپریشن کی مخالفت صرف پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ صوبے کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا متفقہ مؤقف ہے، کیونکہ ماضی میں 22 بڑے فوجی آپریشنز کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔

 

سہیل آفریدی کے مطابق ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں تو نہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فیصلے بند کمروں میں کیے جا رہے ہیں، مقامی آبادی اور منتخب کردہ نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا، جس کے باعث عوام میں عدم تحفظ اور ریاست کی پالیسیوں پر بداعتمادی بڑھ رہی ہے۔ ان کے بقول، ایک اور فوجی آپریشن کے حق میں ٹھوس ضمانت کے بغیر صوبے کے عوام کو قائل کرنا ممکن نہیں ہے۔تحریک انصاف نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے اور اس کے کارکنان و رہنما بھی حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ پارٹی کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کے الزامات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ اس سے سیاسی تقسیم اور نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 

اس معاملے پر دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شدت پسندی جیسے قومی مسئلے پر فوج اور صوبائی حکومت کے متضاد بیانات نے نہ صرف اندرونی تقسیم کو عیاں کر دیا ہے بلکہ افغانستان اور شدت پسند گروہوں کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک صفحے پر نہیں۔ پشاور کے سینیئر صحافی احسان ٹیپو کے مطابق اس صورتحال میں شدت پسند متحد ہیں جبکہ ریاستی ادارے اور منتخب حکومتیں اختلافات کا شکار ہیں، جو سکیورٹی کے لیے خطرناک ہے۔ سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد نعیم لودھی کا کہنا ہے کہ حکمت عملی پر اختلافات کو میڈیا کے ذریعے اچھالنے کے بجائے بند کمروں میں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی حکمت عملی درکار ہے جس میں عسکری کارروائی کے ساتھ ساتھ سفارتی دباؤ، بہتر گورننس اور ادارہ سازی شامل ہو۔ دوسری جانب افغان طالبان نے بھی فوجی ترجمان کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کے سیاسی و سماجی ڈھانچے پر تنقید حقائق کے منافی ہے اور پاکستان کو اپنے داخلی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

آفریدی پنجاب کے ناکام دورے کے بعد سندھ کیوں جا رہے ہیں ؟

تجزیہ کاروں کے مطابق افغان ردعمل اور اندرونی سیاسی محاذ آرائی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان پہلے ہی معاشی اور سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے، شدت پسندی پر فوج اور تحریک انصاف کا یہ کھلا تصادم قومی یکجہتی کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا ریاستی ادارے اور سیاسی قیادت اس بحران کو اتفاقِ رائے میں بدل پائیں گے یا یہ تقسیم مزید گہری ہو کر پاکستان کی سلامتی پر نئے سوالات کھڑے کرے گی۔

Back to top button