مذاکرات شروع ہونے کے باوجود کپتان کی دھمکیوں کا کیا نتیجہ ہو گا؟

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کا معاملہ ملکی سیاسی و عوامی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ جہاں ایک جانب عمران مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کاوشوں کو حکومتی کمزوری سمجھتے ہوئے ایک بار پھر دھمکیوں پر اتر آئے ہیں اور انھوں نے مذاکرات کیلئے مزید شرائط عائد کر دی ہیں وہیں دوسری جانب حکومت نے مذاکرات بارے کسی دباو میں نہ آنے کا عندیہ دیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اگر عمران خان اپنے جارحانہ اور باغیانہ طرز عمل سے باز نہ آئے تو مذاکراتی عمل کو ادھورا چھوڑ دیا جائے گا جس کا خمیازہ نہ صرف عمران خان بلکہ پوری پی ٹی آئی کو بھگتنا پڑے گا۔
مبصرین کے مطابق مقتدر قوتوں کی جانب سے پی ٹی آئی کو مذاکرات کے ذریعے ایک اور موقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حکومتی فیصلے کو اسٹیبلشمنٹ اور قائد مسلم لیگ نون میاں نواز شریف کی مکمل حمایت حاصل ہے تاہم لگتا یہی ہے کہ پی ٹی آئی عمران خان کی سرکشی اور باغیانہ طرز عمل کی وجہ سے یہ موقع گنوا دے گی۔ پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات بارے گفتگو کرتے ہوئے مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کے جارحانہ طرز عمل کی وجہ سے مذاکرات کے نتیجے میں فوری رہائی کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ عمران خان نے مذاکراتی عمل کو حکومت کی کمزوری سمجھتے ہوئے ابھی اس حکومت کے سر پر ناچنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے بعد مذاکراتی عمل کے نتیجے میں عمران خان کی رہائی تو کجا مذاکرات کا مستقبل بھی تاریک نظر آتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن کا ملکی مفاد کیلئے مذاکرات کرنا خوش آئند ہے تاہم ان مذاکرات کے نتیجے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فوری رہائی ممکن دکھائی نہیں دیتی،تجزیہ کارسلیم صافی نےکہا کہ وہ مذاکرات کو کسی چال کا نتیجہ قرار نہیں دیتے۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے اختیارکی گئیں کوئی بھی چال کامیاب نہیں ہوسکی، اب فریقین کی مجبوریوں نے ان کو ساتھ بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے اگر عمران خان مذاکرات سے انکاری نہیں ہوئے تو یہی مذاکرات ان کی رہائی کا سبب بنیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اعتماد سازی کے اقدامات کامیاب ہوتے ہیں تو بانی پی ٹی آئی کو ریلیف دینے پر غور کیا جاسکتا ہے۔انہیں پہلے پشاور اور پھر بنی گالہ منتقل کردیا جائے۔ تاہم عمران خان کے حالیہ بیانات کے بعد لگتا نہیں کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات مزید چل پائیں گے کیونکہ دونوں جانب سے عدم اعتماد اور ڈیمانڈز بہت زیادہ ہیں۔
سینیئر تجزیہ نگار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ نواز شریف پی ٹی آئی سے مذکرات کے حامی ہیں۔ نواز شریف کی مذکرات کے حوالے سے سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے نون لیگ کی جانب سے سامنے آنے والے مذاکرات کاروں کے نام نواز شریف نے تجویز کئے ہیں جن میں اسحاق ڈار ،عرفان صدیقی ،رانا ثناء اللہ شامل ہیں۔
سینیئر تجزیہ نگار کے مطابق اس بار پی ٹی آئی سے مذکرات کرنے کا فیصلہ نواز شریف کی طرف سے کیا گیا ہے اس لیے اس دفعہ مذکرات میں حکومت کی جانب سے سنجیدگی بھی نظر آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میری رائے میں نواز شریف عمران خان سے دوبارہ ملنے اڈیالہ جیل یا بنی گالہ جاسکتے ہیں۔کیونکہ اس سے پہلے بھی ملک کی خاطر نواز شریف ،عمران خان سے ملنے بنی گالہ گئے تھے۔تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق ویسے تو حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات سیاسی لوگوں میں ہورہے ہیں مگر بیک ڈور میں بھی بہت کچھ ہو رہا ہے۔ سلمان غنی کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پارلمینٹ میں پی ٹی آئی کو مذکرات کی پیشکش کی تھی، تاہم اس وقت عمران خان نے کسی بات میں لچک نہیں دکھائی تھی، لیکن اس کے باوجود نواز شریف دوبارہ چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی سے بات چیت ہو اور معاملات مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھائے جائیں۔
کیا امریکہ نے انڈیا کی محبت میں پاکستانی پر پابندیاں لگائی ہیں؟
سینیئر تجزیہ نگار کا دعوی ہے کہ نواز شریف کا ہمیشہ عمران خان کے لیے ایک سافٹ کارنر رہا ہے، اگر مذکراتی معاملات آگے کی طرف چلے گئے تو میں سمجھتا ہوں کہ پھر نواز شریف کو عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل کی بجائے بنی گالہ جا سکتے ہیں، کیونکہ ان مذکرات کے نتیجے میں مجھے لگتا ہے کہ عمران خان مزید اڈیالہ جیل میں نہیں رہیں گے وہ بنی گالہ شفٹ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے مذکرات کچھ دنوں تک نہیں بلکہ ہفتوں تک یہ مذکرات چلیں گے ،کیونکہ معاملات میں پہلے ٹھہراؤ آئے گا، اسکے بعد مذکرات بہتری کی جانب گامزن ہو جائیں گے۔
