حکومت نے مولانا کو دیوار سے لگایا تو اس کا انجام کیا ہوگا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر تمام تر مخالفت کے باوجود شہباز حکومت کا ساتھ دے کر اسے منظور کروانے والے مولانا فضل الرحمن کو دینی مدارس کے معاملے پر حکومت کی جانب سے جسطرح دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے وہ عمل حیران بلکہ پریشان کن ہے۔

اپنے تازہ تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ملکی سیاست کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے میں ہرگز سمجھ نہیں پا رہا کہ مولانا کو مشتعل کرتے ہوئے دیوار سے لگانے کی کوشش کیوں ہو رہی ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد ایک سنگین بحران کی زد میں آیا تھا۔ 24 فروری کے دن عمران خان کی ”فائنل کال“ پر لبیک کہتے ہوئے تحریک انصاف کے ہزاروں کارکن بشریٰ اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد داخل ہو گئے تھے۔ 26 نومبر کو سورج ڈھلنے کے بعد اسلام آباد آئے ہجوم کو پسپا ہونے کو مجبور کر دیا گیا۔

انکا کہنا ہے کہ ہجوم کی پسپائی کی بدولت تحریک انصاف کی جانب سے ”سینکڑوں ہلاکتوں“ کا جھوٹا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔ جو صحافی ان کی تصدیق نہ کرے اسے موجودہ حکومت کا ”ٹاؤٹ“ ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں مولانا فضل الرحمن کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنا میری دانست میں خواہ مخواہ کا پنگا ہے۔ لیکن پھر حکومت تو حکومت ہی ہوتی ہے اور حکمرانی کے راز سلطان بھی صرف سمجھ سکتے ہیں۔ تاریخ کا ابدی المیہ یہ ہے کہ اس سے کوئی حکمران سبق سیکھنے کو آمادہ ہی نہیں ہوتا۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عددی اعتبار سے بات کریں تو مولانا فضل الرحمن کی پارلیمانی قوت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کی اپنی ذات بھی اس تناظر میں فروری 2024 ء میں ہوئے انتخاب کی بدولت کمزور دکھائی دی۔ ڈیرہ اسماعیل خان ان کا آبائی حلقہ ہے۔ 1970 ء کے تاریخی انتخابات کے دوران یہ واحد شہر تھا جہاں سے ذوالفقار علی بھٹو ان کے مرحوم والد مولانا مفتی محمود کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔

جنرل ضیاء کے فضائی حادثے میں بھسم ہو جانے کے بعد 1988 میں جو عام انتخابات ہوئے ان کے دوران بھی یہ حلقہ مولانا فضل الرحمن کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ قومی اسمبلی میں اپنی موجودگی یقینی بنانے کے لئے مولانا ڈیرہ اسماعیل خان کے علاوہ بنوں اور لکی مروت سے بھی انتخاب لڑتے رہے۔ 2024 ء میں لیکن انہیں اپنے صوبے کے علاوہ بلوچستان کے ایک حلقے سے بھی قومی اسمبلی تک پہنچنے کی کوشش کرنا پڑی اور تکنیکی اعتبار سے اب وہ پارلیمان میں خیبر پختونخوا کے بجائے بلوچستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ انتخابی سیاست سے قطع نظر حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ مولانا کی جمعیت العلمائے اسلام ایک منظم تنظیم ہے۔ جب چاہے ہزاروں افراد کے ہمراہ کئی دنوں کا سفر کرتے ہوئے کراچی سے اسلام آباد میں داخل ہو سکتی ہے۔ دینی بنیادوں پر منظم ہوئی یہ جماعت مگر ”آئینی سیاست“ میں حصہ لینے کو بضد ہے۔ اسلام کے نام پر ابھرے انتہا پسند گروہوں کی طرح بندوق کے زور سے اپنی سوچ معاشرے پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔ مولانا کی ”آئین دوستی“ اگرچہ انتہا پسندوں کو ان کے خلاف مشتعل بنا دیتی ہے۔ اسی باعث ان کی جان لینے کے لئے مولانا پر بارہا خودکش حملے ہوئے۔ ربّ کا صد شکر کہ وہ ان سے محفوظ رہے۔

نصرت جاوید کے بقول مولانا کی ”آئین پسندی“ مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ انہیں اپنے ساتھ ملائے رکھیں۔ اسی باعث جب آئین میں 26 ویں ترمیم متعارف کروانے کی کوشش کا آغاز ہوا تو دونوں جماعتوں کے سرکردہ رہ نماؤں نے ان کی اسلام آباد والی اقامت گاہ کے پھیرے لگانا شروع کر دئے۔ آصف زرداری بطور صدرِ پاکستان پروٹوکول کے تمام تقاضے نظرانداز کرتے ہوئے ان کے ہاں تشریف لائے اور ”آئین دوست“ مولانا کو بندوق کا تحفہ دے کر مجھے حیران کر دیا۔

آصف زرداری کے بعد ان کے فرزند مستقل مولانا کا تعاقب کرتے رہے۔ اپنے دیرینہ دوستوں کے اصرار پر مولانا 26 ویں ترمیم کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کو آمادہ ہو گئے۔ اپنی حمایت کے عوض مولانا نے مگر حکومت کو مجبور کیا کہ وہ 2028 ء تک پاکستانی معیشت کو سود سے پاک کرنے کا وعدہ کرے۔ اس کے علاوہ ایک قانون بھی دونوں ایوانوں سے 26 ویں ترمیم پاس ہونے کے فوری بعد منظور کروایا گیا۔ وہ قانون مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق تھا۔ جب یہ قانون منظور ہوا تو میں نے اس کا مسودہ کئی بار غور سے پڑھا۔صحافی کی نگاہ اس میں کوئی ”جھول“ ڈھونڈنے میں ناکام رہی۔

تاہم صدرِ پاکستان آصف زرداری نے اس پر دستخط سے انکار کر دیا۔ صدرِ کی جانب سے مذکورہ قانون کے اطلاق میں دکھائی مزاحمت نے مولانا کو حیران کر دیا۔ ٹیلی فون پر ہوئے روابط کے نتیجے میں بالآخر بلاول بھٹو زرداری مولانا کے گھر تشریف لائے اور انہیں حمایت کا یقین دلا دیا۔ بلاول بھٹو کی مولانا سے ملاقات کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا۔ مجھ سادہ لوح نے یہ فرض کر لیا کہ حکومت مولانا کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کر لے گی۔ امکانی اجلاس میں صدر کی جانب سے پارلیمان کو ازسرنو غور کے لئے بھجوائے دینی مدارس سے متعلق بل کو منظور کر لیا جائے گا۔

فوج کی تحویل میں موجود ملزمان کو میسر سہولیات کی تفصیلات عدالت میں پیش

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اسی دوران ایک روز میں نے ریموٹ کا بٹن دباکر ٹی وی آن کیا تو علماء کا ایک اجلاس ہر چینل پر براہ راست دکھایا جا رہا تھا۔ اد اجلاس میں صرف دیوبندی مسلک ہی نہیں بلکہ دیگر تمام مسالک کے نمایاں رہ نما بھی شریک ہوئے۔ وہ سب مصر رہے کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کے لئے اگست 2019 ء میں عمران حکومت کے دوران ایک قانون پاس ہو چکا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے مولانا کے اصرار پر تیار ہوئے ”نئے قانون“ کو اطلاق کی ضرورت نہیں ہے۔ بات اگر پرانے اور نئے قانون تک محدود رہتی تو میں ہرگز حیران نہ ہوتا۔ جس اجلاس کو تقریباً دو گھنٹے تک براہ راست دکھایا گیا اس سے خطاب کرتے ہوئے چند افراد نے مولانا فضل الرحمن پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ تمام مسالک کے مدارس کے ”یک و تنہا ٹھیکے دار“ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں بنیادی طور پر ”محض سیاست دان“ ہونے کے طعنے بھی دیے گئے۔ جس اجلاس کا میں ذکر کر رہا ہوں اس کی براہ راست کارروائی دیکھتے ہوئے میرا وسوسوں بھرا دل پریشان ہو گیا۔ مجھے شبہ ہوا کہ سیاستدانوں سے ماورا ریاست کی دائمی قوتیں مولانا فضل الرحمن کو ان کی ”محدودات“ یاد دلانا چاہ رہی ہیں۔ اس اجلاس کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمن نے جس تلخ زبان میں اپنا دفاع کیا اس نے میرے دل میں جمع ہوئے شکوک کو تقویت پہنچائی۔ لہذا اب میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ حکومت کو بیٹھے بٹھائے مولانا فضل الرحمن کو ناراض کرنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی؟

Back to top button