اگلے چند روز میں جنگ نہ رکی تو پاکستان کا کیا حال ہو گا؟

نامور صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ اگر آئندہ چند روز میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار نہ ہوئی تو نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ جنوبی اور مشرقی ایشیا، خصوصا پاکستان، طویل عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اپنے سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ امریکی میڈیا مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی صورت ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو فوری طور پر ختم کرنے کے خواہاں نہیں، بلکہ بظاہر مذاکرات کی بات کرتے ہوئے وہ جنگی دباؤ کو بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ امریکی میڈیا مسلسل یہ تاثر دے رہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھنا چاہتا ہے جب تک ایران مکمل طور پر پسپائی اختیار نہ کر لے۔ یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بیک وقت دوہری پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس میں ایک جانب مذاکرات کا تاثر دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب خطے میں فوجی تیاریوں کو تیز کیا جا رہا ہے۔
کچھ بین الاقوامی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان جیسے ممالک کی وساطت سے مذاکرات کا راستہ تلاش کرنے کا تاثر تو دے رہا ہے، لیکن حقیقت میں وہ آخری آپشن کے طور پر ایران میں زمینی افواج داخل کرنے کی تیاری کر رہا ہے، اور اسی مقصد کے لیے کویت میں اپنی بری، بحری اور فضائی افواج کو مجتمع کیا جا رہا ہے۔ نصرت جاوید کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے ایران کو پانچ دن کی مہلت دی تھی، جس کے بعد توانائی کے اہم مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ خفیہ مذاکرات میں مصروف ہے اور یہی وجہ ہے کہ مہلت دی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کو امید ہے کہ یہ پس پردہ بات چیت دونوں ممالک کو بالآخر مشترکہ میز پر لا سکتی ہے۔ اس کے دو روز بعد امریکی صدر نے چھ اپریل تک ایران کے توانائی مراکز پر حملے نہ کرنے کا اعلان کر دیا، جس کی وجہ انہوں نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات بتائی۔نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ ان خفیہ مذاکرات کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئیں، تاہم برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ممکنہ طور پر ایرانی حکام سے بات چیت کے لیے پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ اس خبر کی نہ تو وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی اور نہ تردید، البتہ ایک خبر رساں ادارے کو یہ ضرور بتایا گیا کہ امریکی صدر نے پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے رابطہ کیا ہے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ پاکستانی حکومت اور سرکاری میڈیا نے اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کسی قسم کی قیاس آرائی سے گریز کیا ہے، تاہم ملک میں یہ تاثر ضرور دیا جا رہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات میں پیغام رسان کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اپنے ملک کے مثبت کردار پر فخر کرنا فطری ہے، لیکن عالمی میڈیا اس کردار کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے، جبکہ بھارتی میڈیا اور سیاست دانوں کی جانب سے پاکستان پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عالمی میڈیا مجموعی طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکانات سے خوش دکھائی نہیں دیتا بلکہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان امکانات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق میڈیا ایران کے سخت بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اور سفارتی پیچیدگیوں کو نظرانداز کر رہا ہے۔ایران کی تاریخی اور سفارتی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے نصرت جاوید نے کہا کہ ایران صدیوں پر محیط ایک عظیم تہذیب اور سلطنت رہا ہے، جس نے سفارت کاری اور شائستہ زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی سفارت کاری میں براہ راست کے بجائے علامتی اور استعاراتی انداز اختیار کیا جاتا ہے، جسے سمجھے بغیر بیانات کی درست تشریح ممکن نہیں۔
نصرت جاوید نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ عالمی میڈیا نے یہ خبر نمایاں طور پر چلائی کہ ایران نے ان 15 شرائط کو مسترد کر دیا ہے جو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق پاکستان کے ذریعے تہران تک پہنچائی گئی تھیں۔ اس ردعمل کو یہ تاثر دینے کے لیے استعمال کیا گیا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔
تاہم نصرت جاوید کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ایران نے صرف ان مخصوص شرائط کو مسترد کیا تھا، نہ کہ مذاکرات کے امکان کو۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم فرق کو نظرانداز کر کے عالمی میڈیا نے غلط تاثر پیدا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک طویل پریس کانفرنس میں بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد نہیں کیا، بلکہ نہایت محتاط انداز میں اس بات کا عندیہ دیا کہ امریکی نائب صدر جلد کسی غیر ملکی دورے پر جا سکتے ہیں، تاہم ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ ترجمان نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے 15 نکات واقعی مستند ہیں یا محض قیاس آرائیاں۔
ایران پر حملہ کرنے والا امریکہ مذاکرات کی منتیں کیوں کرنے لگا؟
نصرت جاوید نے کہا کہ اس پس منظر میں ان نکات کی حیثیت خود امریکی حکام کے بیانات کے بعد مشکوک ہو گئی ہے، لہٰذا ایران کی جانب سے ان کا رد کیا جانا زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق اگرچہ عالمی میڈیا کی رپورٹنگ مایوسی کا تاثر دے رہی ہے، لیکن سفارت کاری کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ امکان موجود ہے کہ آئندہ چند روز میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو نہ صرف خلیجی خطہ بلکہ جنوبی اور مشرقی ایشیا، بشمول پاکستان سے فلپائن تک، طویل عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔
