اپنے مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے والوں کا کیا انجام ہونے والا ہے؟

معروف صحافی حامد میر نے لاپتا افراد کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے، جو حکمران اپنے مخالفین اور ناقدین کو غائب کر دیتے ہیں یا جھوٹے مقدمات کے ذریعے جیلوں میں ڈلواتے ہیں، وہ کبھی چین کی نیند نہیں سوتے۔ کسی نہ کسی دکھی ماں کی بددعا ایک دن انہیں بھی انجام تک پہنچا دیتی ہے اور ایسے حکمران خود جیل کی سلاخوں کے پیچھے نظر آتے ہیں۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں حامد میر ایک دکھی ماں کے درد میں ڈوبے ہوئے وائس میسج کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ماں گزشتہ سات برس سے اپنے لاپتا بیٹے مدثر نارو کی بازیابی کے لیے عدالتوں کے چکر لگا رہی ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ مدثر نارو ایک صحافی اور شاعر تھا۔ سال 2018 میں اس نے اپنی ایک پنجابی نظم فیس بک پر پوسٹ کی، جس پر اس وقت کے طاقتور حلقے ناراض ہو گئے۔ اس کے علاوہ مدثر نارو نے 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات کے نتائج پر بھی اعتراضات اٹھائے، جس کے بعد 20 اگست 2018 کو اسے لاپتا کر دیا گیا۔ حامد میر کے مطابق تب مدثر نارو کا بیٹا سچل محض چھ ماہ کا تھا۔ مدثر کی اہلیہ صدف نے اپنے نومولود بچے کو گود میں اٹھائے خاوند کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھائیں، مگر مدثر کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
اس مشکل وقت میں وکیل ایمان مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مدثر نارو کی گمشدگی کے خلاف درخواست دائر کی۔ کچھ عرصے بعد مدثر کی اہلیہ صدف بھی پراسرار طور پر انتقال کر گئیں، جس کے بعد مدثر کی والدہ اپنے پوتے سچل کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی راہداریوں میں نظر آنے لگیں۔ سینیئر صحافی کے مطابق اس بوڑھی ماں کا واحد سہارا ایمان مزاری تھیں، جن کی کوششوں سے عدالت نے مدثر نارو کے معاملے پر اُس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کو طلب کیا۔ وزیر اعظم نے عدالت میں مدثر نارو کی بازیابی کا وعدہ کیا، تاہم یہ وعدہ کبھی پورا نہ ہو سکا۔ بعد ازاں عمران خان کی حکومت ختم ہو گئی اور شہباز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ حامد میر کے بقول عدالت نے انہیں بھی طلب کیا۔ شہباز شریف 2022 میں خود اسلام آباد ہائی کورٹ آئے اور مدثر نارو کی والدہ اور کمسن بیٹے سچل سے وعدہ کیا کہ مدثر نارو کو جلد بازیاب کرایا جائے گا، لیکن یہ وعدہ بھی آج تک وفا نہ ہو سکا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس وکیل ایمان مزاری کی کوششوں کے باعث وزیر اعظم کو عدالت آ کر وعدہ کرنا پڑا، اسی وکیل کو گرفتار کر کے 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ حامد میر کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو 17، 17 سال قید کے ساتھ 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سزا انصاف سے زیادہ کسی شدید غصے کا اظہار محسوس ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مدثر نارو کی بے بس ماں سوال کرتی ہے کہ کیا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کوئی دہشت گرد تھے؟ اگر نہیں تو ان پر اتنا غصہ کیوں نکالا گیا؟ حامد میر بتاتے ہیں کہ ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی گرفتاری پر مدثر نارو کی بوڑھی ماں اور بیمار باپ فیصل آباد سے لاہور پہنچے۔ انہوں نے پریس کلب کے باہر بینر اٹھا کر احتجاج کیا، مدثر نارو کے صحافی دوستوں کے ساتھ مل کر ایمان مزاری کے حق میں نعرے لگائے اور پھر واپس چلے گئے۔ ان کے بقول ان بے بس ماں باپ کے بس میں جو تھا، وہ انہوں نے کر دیا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ ایمان مزاری ان بوڑھے ماں باپ کی آخری امید تھیں اور اس آخری امید کو بھی 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ یہ سزا پیکا ایکٹ کے تحت دی گئی ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت کے دوران ایمان مزاری کی والدہ ڈاکٹر شیریں مزاری وفاقی وزیر تھیں، اس کے باوجود ایمان پر مقدمات قائم ہوتے رہے۔
تب ایمان مزاری تحریک انصاف کی حکومت پر کھل کر تنقید کرتی تھیں اور ڈاکٹر شیریں مزاری یہ کہہ کر اپنا دفاع کرتیں کہ وہ اپنی بیٹی کے سیاسی خیالات پر پابندی نہیں لگا سکتیں۔ حکومت بدلی تو سیاسی وفاداریاں بھی بدل گئیں۔ حامد میر کے مطابق ڈاکٹر شیریں مزاری کی سیاسی وفاداری تبدیل کرانے کے لیے ان پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ ایک مقدمے میں ضمانت ملی تو دوسرے میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس ناانصافی پر ایمان مزاری نے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بارے میں سخت الفاظ کہے، جس پر 26 مئی 2022 کو اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں ایک افسر کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا اور ایمان مزاری کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں عدالت میں ایمان کی وکیل زینب جنجوعہ نے جنرل باجوہ بارے ادا کردہ الفاظ پر افسوس کا اظہار کیا، جس کے بعد عدالت نے معاملہ نمٹا دیا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ ستمبر 2023 میں ایمان مزاری کے خلاف ایک اور مقدمہ درج ہوا اور پھر یہ سلسلہ چلتا ہی گیا۔ کمزور اور بے بنیاد مقدمات کے باعث انہیں بار بار رہائی ملتی رہی، تاہم 2025 میں پیکا ایکٹ کی منظوری اور 26ویں 27ویں آئینی ترامیم کے بعد صورتحال بدل گئی۔ پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات کی سماعت شروع ہوئی تو ایمان مزاری کا خیال تھا کہ انہیں چند ماہ قید کا سامنا کرنا پڑے گا، مگر شاید وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ ان کا اصل جرم صرف سخت زبان نہیں بلکہ دو وزرائے اعظم کو عدالت میں طلب کرانا تھا۔ بہت سے طاقتور لوگ انہیں دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔
حامد میر کے مطابق اسی غصے کے تحت ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو انتہائی سخت سزا اور بھاری جرمانہ سنا کر یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان اب سافٹ لوگوں کے لیے ہارڈ اسٹیٹ بن چکا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ سافٹ لوگ وہ ہوتے ہیں جو بندوق کے بجائے پرامن سیاسی اور قانونی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ جب ریاست ایسے لوگوں کے ساتھ بھی دہشت گردوں جیسا سلوک کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ریاست غصے کے باعث کمزور ہو چکی ہے۔ حامد میر کے مطابق ایمان مزاری کے مخالفین انہیں دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیتے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ان کی حمایت کرنے والوں کو بھی سبق سکھایا جائے گا۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک حاملہ خاتون وکیل کو 17 سال قید کی سزا دے کر پاکستان کو مضبوط نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مدثر نارو کی دکھی ماں کو انصاف دیا جائے، کیونکہ وہ ان ہزاروں ماؤں کی نمائندہ ہے جو بلوچستان سے کشمیر تک اپنے لاپتا پیاروں کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ مدثر نارو کا بیٹا سچل اب سات سال کا ہو چکا ہے۔ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ دس بارہ سال بعد وہ بچہ کس کے ساتھ کھڑا ہو گا، ریاستی اداروں کے غصے کے ساتھ یا ایمان مزاری جیسے لوگوں کے ساتھ۔ آخر میں حامد میر کہتے ہیں کہ اگر ایمان مزاری دہشت گردوں کی ساتھی ہیں تو پھر مدثر نارو کی دکھی ماں نے کون سی دہشت گردی کی ہے؟ اگر مدثر نارو کو بازیاب کرا دیا جاتا تو کسی وزیر اعظم کو عدالت میں آ کر بوڑھی ماں اور ننھے بچے سے جھوٹا وعدہ کرنے کی نوبت نہ آتی۔
ایمان مزاری کو 17 برس قید کی سزا انصاف کا قتل کیوں قرار پائی؟
حامد میر کا کہنا ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 17 سال قید کی سزا دینے سے حکومت اور اداروں پر تنقید ختم ہو جائے گی اور لوگ خوف کے باعث خاموش ہو جائیں گے تو یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ ان کے بقول وہ ایسے پڑھے لکھے لوگوں کو جانتے ہیں جن کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، مگر وہ موجودہ حالات سے شدید مایوس ہیں۔ آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے پاس اب دو ہی راستے بچے ہیں، یا تو پاکستان چھوڑ دیں، یا اگر پاکستان میں ہی رہنا ہے تو پھر 17 نہیں بلکہ 34 سال قید کی تیاری کرنی ہوگی، کیونکہ اب جیل کے اندر اور باہر کے حالات میں کوئی خاص فرق باقی نہیں رہا۔
