بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا کر کیا حاصل کرے گا ؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ اسے بھارت جیسا کمینہ دشمن ملا ہے جو مسلسل آگ اور خون کی ہولی کھیلتے ہوئے پاکستان کو کمزور کر کے اکھنڈ بھارت کا ایجنڈا آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

 

عمار مسعود اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ اچھا ہوا کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ نے حقیقت جان لی اور اپنی کرکٹ ٹیم کو دورہ پاکستان جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔ یہ حقیقت کیا ہے، اس کے بارے میں بھارت کے اردگرد بسنے والی تمام اقوام بخوبی آگہی رکھتی ہیں۔ سری لنکن قوم سے زیادہ کون اس حقیقت سے واقف ہوگا جس کے ہاں عشروں تک بھارت کی مدد سے تامل باغیوں نے غدر مچائے رکھا، اور خونی دہشتگردی سے سری لنکا کے چہرے کو خون آلود کیا۔ سری لنکا جیسے چھوٹے لیکن مضبوط ملک میں یہ خونی کہانی عشروں تک جاری رہی۔ ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے، ایک اندازے کے مطابق مجموعی تعدد ایک لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زخمیوں کی تعداد کتنی ہوگی، اس دہشت گردی نے کتنے لوگوں کو معذور بنایا ہوگا، ملک کی معیشت سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی کو کس قدر متاثر کیا ہوگا۔

 

عمار مسعود کہتے ہیں کہ سری لنکن قوم نہیں بھولی کہ کولمبو نے کتنے زیادہ خودکش حملے سہے، سرکاری عمارتوں، ہوائی اڈے اور عوامی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، صرف ایک کولمبو میں سیکڑوں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ باقی شہروں اور مقامات کا ذکر الگ ہے۔ تب آزاد تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ سری لنکا کو ایسے بڑے دہشتگرد حملوں کا سامنا ہوا جس کی نظیر گزشتہ 100 برسوں میں دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ کئی ایسے حملے تھے جن میں سے ہر ایک میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

 

آنے والے برسوں میں ساری دنیا یہ حقیقت جان چکی تھی کہ تامل دہشتگردوں کے پیچھے ہمسائیہ ملک بھارت تھا۔ ایک طفل مکتب بھی تحقیق کرنا چاہے تو اسے پتہ چل جائے گا کہ بھارت نے کتنا گولہ و بارود تامل دہشتگردوں کو فراہم کیا۔ یہ انڈیا ہی تھا جس نے 80 کی دہائی میں تامل علیحدگی پسندوں خاص طور پر ایل ٹی ٹی ای کو خفیہ طور پر گوریلا لڑائی کی تربیت فراہم کی تھی۔

 

عمار مسعود کہتے ہیں کہ بھارت کی مدد سے ایل ٹی ٹی ای نامی دہشتگرد گروپ مضبوط ہوا، جو ایک بڑا جنگجو گروہ بن گیا۔ اس نے خودکش حملوں کا سلسلہ شروع کیا، اس دوران اس نے مزید عسکری گروہ بھی تیار کیے۔ اس نے عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا اور سیکیورٹی فورسز کو بھی۔

پھر ایک وقت آیا کہ ان دہشت گردوں نے اپنے سرپرست بھارت کو بھی بوجوہ نشانے پر رکھ لیا۔ حتیٰ کہ انڈین وزیراعظم راجیو گاندھی کو ایک خودکش دھماکے میں ہلاک کردیا۔ اس کے بعد بھارتیوں نے اپنی چھاتی پیٹنا شروع کردی، تب انہیں احساس ہوا کہ وہ کیا کر بیٹھے۔

 

عمار مسعود کے مطابق انڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہمسائیہ ممالک میں مسلسل آگ اور خون کا کھیل کھیلتے رہنا چاہتا ہے، انہیں کمزور کرنا چاہتا ہے اور اس انداز میں اپنا اکھنڈ بھارت کا ایجنڈا آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

ہمیشہ سے پاکستان اور سری لنکا کے مابین بہترین تعلقات قائم ہیں۔ انڈیا کی انتہا پسند اسٹیبلشمنٹ کو یہ تعلقات ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ 2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملہ کروا کے ایک طرف دونوں ملکوں کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی، دوسری طرف پاکستان میں غیرملکی ٹیموں کی آمد کا راستہ روکا گیا۔ اس کے بعد پاکستانی حکام نے  بے پناہ محنت کرکے بین الاقوامی ٹیموں کے لیے پاکستان کی طرف راستے ہموار کیے۔ لیکن کمینہ صفت دشمن اس پر سیخ پا ہو گیا، چنانچہ اسلام آباد کچہری میں ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور 12 افراد کی جانیں لے لی۔ اب یہ کسی سے مخفی نہیں رہا کہ اس واقعے کے پیچھے کون ہے۔ اور کون ایسے واقعات سے کیا کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سچ کہتے ہیں کہ خدا کسی کو کمینہ دشمن نہ دے۔

 

عمار کہتے ہیں کہ سری لنکا اور اس کے کرکٹ بورڈ کا شکریہ کہ انہوں نے کمینہ صفت دشمن کی حرکتوں اور اس کے منصوبوں کو اچھی طرح جان لیا اور اپنے کھلاڑیوں کو دورہ جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ یقیناً وہ اس حوالے سے بھی تحقیق کریں گے کہ ان کے کھلاڑیوں کو کس نے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی!

دنیا جان چکی ہے کہ کون سا ملک خطے میں امن کا خواہاں ہے، اور کون سا ملک ہمیشہ آگ لگانے والا کردار ادا کرتا ہے۔ ہم دعاگو ہیں کہ سری لنکا اور پاکستان جیسے امن پسند ممالک ہمیشہ متحد رہیں اور دہشتگردی کے اس کھیل کو انجام تک پہنچا دیں

 

Back to top button