امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو پاکستان کے لیے کیا مسئلہ ہوگا؟

معروف صحافی اور تجزیہ نگار زاہد حسین نے کہا ہے کہ امریکہ اگر دوبارہ سے ایران پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان پر براہ راست مرتب ہوں گے۔ انکے مطابق پاکستان کے لیے  ایران مخالف امریکی عزائم اس لیے بھی زیادہ تشویش ناک ہیں کہ پاکستان کی ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ تاہم ان کے مطابق امریکہ کے لیے ایران کو زیر کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

انگریزی روزنامہ ڈان کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں زاہد حسین کہتے ہیں کہ پاکستان ایران میں امریکی فوجی مداخلت کے اثرات سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتا۔ وجہ یہ ہے کہ اگر خطے میں جنگ بھڑکی تو اس کے براہِ راست سیکیورٹی، معاشی اور سفارتی اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ ایران اس وقت ممکنہ امریکی فوجی مداخلت کے خطرے سے دوچار ہے، کیونکہ ملک بھر میں جاری مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف احتجاجی مظاہروں نے ریاستی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ان مظاہروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ایران پر حملہ آور ہونے اور اس کی تیل کی تنصیبات پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا چکا ہے، تاہم حملے کی صورت میں ایران امریکہ کے لیے تر نوالہ ثابت نہیں ہو گا۔

زاہد حسین لکھتے ہیں کہ ایران کو انقلاب کے بعد تقریباً پانچ دہائیوں میں سب سے سنگین داخلی اور خارجی چیلنج کا سامنا ہے۔ حالیہ احتجاجی مظاہرے، جو ابتدا میں بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال، کرنسی کی شدید قدر میں کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے، اب ملک گیر اور پرتشدد صورت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ احتجاج سب سے پہلے تہران میں تاجروں نے شروع کیے، جن میں بعد ازاں طلبہ اور دیگر طبقات بھی شامل ہو گئے۔ ان مظاہروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کھل کر مداخلت کی دھمکیاں دینے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی تو امریکہ ایرانی عوام کو بچانے کے لیے فوجی اقدام کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’ایران شاید پہلے سے کہیں زیادہ آزادی کے قریب ہے، اور امریکہ مدد کے لیے تیار کھڑا ہے‘۔

مبصرین کے مطابق ان بیانات نے احتجاجی تحریک کو مزید ہوا دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے بھی ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے، جس سے خطے میں ایک نہایت خطرناک جغرافیائی اور سیاسی صورتحال جنم لے چکی ہے۔ ایران نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی فوجی مداخلت کی صورت میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور بحری راستے اس کے جائز اہداف ہوں گے۔ زاہد حسین کے مطابق اگرچہ ٹرمپ ایران کے خلاف وینزویلا جیسی جارحانہ کارروائی دہرانا چاہتے ہیں، تاہم ایران کے خلاف ایسا کرنا آسان نہیں ہو گا، خواہ ایرانی حکومت اندرونی عدم استحکام کا شکار ہی کیوں نہ ہو۔

ادھر ایرانی قیادت نے کہا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتی، مگر جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران پہلے سے کہیں زیادہ دفاعی تیاری رکھتا ہے۔ لیکن زاہد حسین کے مطابق ایران کی معاشی اور عسکری پوزیشن اسرائیل کے ساتھ حالیہ بارہ روزہ جنگ اور گزشتہ برس امریکی بمباری میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خاصی کمزور ہو چکی ہے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اسرائیلی خفیہ اداروں کی ایران میں گہری رسائی سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں ایرانی فوجی کمانڈروں اور سائنسدانوں، حتیٰ کہ جوہری مذاکرات کاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

خطے میں ایران کو مزید نقصان اس وقت پہنچا جب شام میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور لبنان میں حزب اللہ کو اسرائیل کے ہاتھوں شدید ضرب لگی۔ ان عوامل نے ایران کی علاقائی طاقت کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی اور مغربی پابندیوں کے باعث ایران کی معاشی حالت بدترین ہو چکی ہے، جس نے عوامی غصے کو شدید احتجاج میں بدل دیا۔

ابتدا میں ایرانی حکومت نے مظاہرین کو رام کرنے کی کوشش کی، مگر حالات بگڑنے پر سخت کریک ڈاؤن کیا گیا، جس میں سینکڑوں افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حکومت نے ملک کو بیرونی دنیا سے کاٹتے ہوئے تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش بھی نافذ کر دی ہے۔

زاہد حسین کہتے ہیں کہ اس صورتحال میں سابق شاہ ایران رضا پہلوی کے بیٹے کو متبادل قیادت کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ وہ امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ویڈیو پیغامات کے ذریعے مظاہرین کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، تاہم ایرانی عوام کی اکثریت بادشاہت کی واپسی کے تصور کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف نئے فوجی حملوں کے آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، اور وہ خود کہہ چکے ہیں کہ ’ہم اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور مضبوط آپشنز پر غور ہو رہا ہے‘۔

تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی فوجی کارروائی ایرانی عوام کو بیرونی مداخلت کے خلاف دوبارہ متحد کر سکتی ہے، جس کا مظاہرہ حالیہ دنوں تہران اور دیگر شہروں میں حکومت کے حق میں ہونے والے بڑے اجتماعات سے ہو چکا ہے۔

امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاریاں مکمل کرلیں

زاہد حسین بتاتے ہیں کہ پاکستان اب تک ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پر غیرجانبدار مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے اور سفارتکاری و کشیدگی میں کمی کی حمایت کرتا رہا ہے۔ گزشتہ برس جون میں پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان پیغام رسانی کا کردار بھی ادا کیا تھا، مگر اب پاکستان کے لیے امریکہ کے ایران مخالف منصوبے پر خاموش رہنا ممکن نہیں ہو گا۔ ایران میں وینزویلا طرز کی کارروائی نہ صرف پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے بلکہ چین اور روس جیسی بڑی طاقتوں کو بھی اس تنازع میں کھینچ سکتی ہے۔ زاہد حسین کے بقول ٹرمپ کی جارحانہ سامراجی پالیسی عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے، جسے روکنا ناگزیر ہے۔

Back to top button