پنجاب میں جماعتی بنیاد پر بلدیاتی الیکشن بارے کیا کنفیوژن ہے؟

صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد مسلسل کنفیوژن کا شکار ہے کیونکہ ابھی تک الیکشن کمیشن سے کیے گئے اس سوال کا جواب نہیں مل پا رہا کہ اگر مجوزہ الیکشن جماعتی بنیادوں پر منعقد ہوں گے تو یونین کونسل کی سطح پر ایک ہی سیاسی جماعت کے 9 امیدوار ایک ہی انتخابی نشان کے تحت اس میں کیسے حصہ لیں گے اور ووٹر ان میں فرق کیسے کر سکے گا؟

اس بنیادی معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان پنجاب اسمبلی کے ایک رکن کی جانب سے باقاعدہ تحریری طور پر سوال پوچھے جانے کے باوجود کوئی وضاحت دینے میں ناکام ہے، ایسے میں نہ صرف مجوزہ بلدیاتی الیکشن کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ آئندہ بلدیاتی الیکشن کی ساکھ بھی مشکوک ہوتی جا رہی ہے۔ یہ معاملہ تب زیادہ پیچیدہ ہو گیا جب تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی امتیاز محمود شیخ نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر یونین کونسل کی سطح پر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کے عملی طریقۂ کار سے متعلق وضاحت طلب کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ انتخابی قواعد کے مطابق ہر یونین کونسل سے 9 کونسلرز منتخب کیے جائیں گے جبکہ ووٹر صرف ایک خفیہ ووٹ ڈال سکتا ہے جس کے بعد سب سے زیادہ ووٹ لینے والے 9 امیدوار کامیاب قرار پائیں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس صورت حال میں اگر ایک ہی جماعت کے 9 تک امیدوار ایک ہی انتخابی نشان کے تحت میدان میں ہوں گے تو ووٹر کے لیے ان میں فرق کرنا اور شفافیت کو یقینی بنانا ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔

تاہم الیکشن کمیشن نے اس بنیادی سوال کا براہ راست جواب دینے کی بجائے پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی کو پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور پنجاب لوکل گورنمنٹ الیکشن رولز 2026 کا مطالعہ کرنے کا مشورہ دے دیا، الیکشن کمیشن کے اس مشورے کو سیاسی اور قانونی حلقوں میں بدنیتی پر مبنی مذاق قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی نے لاہور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر لیا ہے تاکہ عدالت رہنمائی فراہم کرے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات کے لیے واضح قانونی خاکہ مرتب کیا جا سکے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ مریم نواز کی پنجاب حکومت بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہی کروائے جائیں گے، لیکن عملی سطح پر اس نظام کے نفاذ سے متعلق کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی۔ یہی وجہ ہے کہ یونین کونسل کی سطح پر انتخابی طریقۂ کار تاحال ابہام کا شکار ہے اور یہ سوال بدستور موجود ہے کہ بیلٹ پیپر کیسا ہوگا، امیدواروں کی شناخت کیسے ممکن ہوگی اور ووٹر کو کس حد تک سہولت میسر آئے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا بار بار التوا کوئی نیا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک تسلسل کا حصہ ہے۔ مختلف ادوار میں صوبائی حکومتیں عموماً قانونی، انتظامی اور سیاسی وجوہات کی بنیاد پر ان انتخابات کو مؤخر کرتی رہی ہیں۔ سرکاری مؤقف اکثر یہ ہوتا ہے کہ حلقہ بندیاں مکمل نہیں ہوئیں، قوانین میں بہتری کی ضرورت ہے یا ایک مؤثر اور شفاف نظام کی تیاری جاری ہے، تاہم ناقدین کے مطابق یہ تاخیر اکثر سیاسی مفادات سے جڑی ہوتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی نظام کے فعال ہونے سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کا براہ راست کنٹرول کم ہو جاتا ہے اور ترقیاتی فنڈز مقامی نمائندوں کے ذریعے خرچ ہوتے ہیں۔

اس صورتحال میں صوبائی قیادت کے لیے اپنی سیاسی گرفت برقرار رکھنا نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کئی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں جلدی نہیں دکھاتیں۔ اسکے علاوہ موجودہ سیاسی تناظر میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات اپوزیشن، خصوصاً تحریک انصاف، کو نچلی سطح پر دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ اس لیے انتخابات میں تاخیر حکومت کو وقت دیتی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائے، ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرے اور عوامی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کرے۔

اس دوران بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوامی فلاحی اقدامات کو نمایاں کر کے ووٹرز کو متاثر کرنے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ تاہم حکومتی مؤقف کے مطابق بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کا مقصد ایک ایسا نظام متعارف کرانا ہے جو زیادہ شفاف، مؤثر اور دیرپا ہو، لیکن حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ الیکشن میں طویل تاخیر نے اس عمل کو متنازع بنا دیا ہے اور اب یہ صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

ناقدین کے مطابق اگر بنیادی قانونی ابہام خصوصاً جماعتی بنیادوں پر انتخاب کے طریقۂ کار، کو فوری طور پر دور نہ کیا گیا تو نہ صرف پنجاب میں اگلے بلدیاتی الیکشن کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ بلدیاتی نظام کی ساکھ بھی شدید متائثر ہو سکتی ہے۔

Back to top button