واٹس ایپ صارفین ماہانہ فیس دینے کے لیے ہو جائیں تیار

دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ استعمال کرنے کے لیے ماہانہ فیس کی ادائیگی کی خبروں نے کروڑوں صارفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہ کیا واقعی واٹس ایپ کے استعمال پر صارفین کو اب ماہانہ فیس ادا کرنا ہو گی؟ کیا واٹس ایپ اب مفت نہیں رہے گی؟ کیا دوستوں اور خاندان سے رابطے کا سب سے آسان ذریعہ بھی اب سبسکرپشن کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکے گا؟ یہی وہ سوالات ہیں جنہوں نے صارفین کو حیرت اور تجسس میں مبتلا کر رکھا ہے۔بہت سے صارفین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا مستقبل میں یہ ایپ بھی دیگر ڈیجیٹل سروسز کی طرح سبسکرپشن پر منتقل ہونے والی ہے یا نہیں۔

خیال رہے کہ میٹا کی جانب سے حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے، کیونکہ اطلاعات کے مطابق واٹس ایپ ایک نئے پریمیم سبسکرپشن پلان پر کام کر رہی ہے جسے ممکنہ طور پر “واٹس ایپ پلس” کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا ہے کہ آیا کمپنی اب اپنے اربوں صارفین سے ایپ کے استعمال کے بدلے ماہانہ فیس وصول کرنے جا رہی ہے۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق ان سامنے آنے والی خبروں کی حقیقت کچھ مختلف ہے۔ واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا بنیادی میسجنگ سروس کو بدستور مفت رکھنے کی خواہاں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین پہلے کی طرح بغیر کسی فیس کے پیغامات بھیج سکیں گے، وائس اور ویڈیو کال کر سکیں گے، تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر سکیں گے اور ایپ کے بنیادی پرائیویسی فیچرز استعمال کر سکیں گے۔ یعنی عام صارفین کے لیے واٹس ایپ کے بنیادی استعمال میں کوئی تبدیلی متوقع نہیں۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ سبسکرپشن دراصل ان صارفین کے لیے متعارف کرائی جا رہی ہے جو ایپ میں مزید جدید فیچرز اور اپنی مرضی کے مطابق ڈیزائن کی سہولیات چاہتے ہیں۔ ٹیکنالوجی ایکسپرٹس کے مطابق اس پریمیم پلان میں ایپ کی ظاہری شکل، چیٹ مینجمنٹ اور صارف کے تجربے کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس وقت یہ فیچر اینڈرائیڈ اور آئی او ایس کے بیٹا ورژنز میں آزمائش کے مرحلے میں ہے اور ابھی عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں۔

اطلاعات کے مطابق “واٹس ایپ پلس” استعمال کرنے والے صارفین کو ایپ میں کئی اضافی سہولیات مل سکتی ہیں جو موجودہ مفت ورژن میں دستیاب نہیں ہوں گی۔ مثال کے طور پر چیٹس کو پن کرنے کی موجودہ حد تین سے بڑھا کر تقریباً بیس تک کی جا سکتی ہے، جس سے صارفین اپنی اہم گفتگو کو آسانی سے اوپر رکھ سکیں گے۔ اسی طرح ایپ کے ڈیزائن میں مزید تبدیلی کی سہولت بھی دی جا سکتی ہے، جس کے تحت صارفین چودہ مختلف ایپ آئی کنز Icons میں سے اپنے من پسند آئی کن ICON کا انتخاب کر سکیں گے اور انٹرفیس کے رنگوں کو بھی تقریباً انیس مختلف آپشنز کے ذریعے اپنی پسند کے مطابق تبدیل کر سکیں گے۔ مزید یہ کہ اس سبسکرپشن کے تحت خصوصی سٹیکر پیکس، اضافی ری ایکشنز اور گفتگو کے دوران مختلف ایفیکٹس جیسی سہولیات بھی فراہم کی جا سکتی ہیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ کالز کے لیے کسٹم رنگ ٹونز اور چیٹس کے لیے مخصوص تھیمز بھی اس پلان کا حصہ ہو سکتے ہیں، جس سے ایپ کا استعمال پہلے سے زیادہ کسٹمائزڈ اور دلچسپ ہو جائے گا۔

ماہرین کے مطابق فی الحال واٹس ایپ کی جانب سے اس سبسکرپشن کی قیمت یا باضابطہ لانچ کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی محدود تعداد میں صارفین کے ساتھ اس فیچر کی آزمائش کر رہی ہے اور بعض صارفین کو سیٹنگز مینیو یا سٹیکر کی بورڈ میں ایک بینر بھی نظر آ رہا ہے جس کے ذریعے وہ ویٹ لسٹ میں شامل ہو کر اس سروس کے آغاز کی اطلاع حاصل کر سکتے ہیں۔موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ واٹس ایپ اپنی بنیادی میسجنگ سروس کو دنیا بھر کے اربوں صارفین کے لیے مفت رکھنے کے ساتھ ساتھ ایپ میں نئے فیچرز شامل کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ یوں سادہ الفاظ میں کہا جائے تو عام صارفین کو فوری طور پر واٹس ایپ استعمال کرنے کے لیے کسی ماہانہ فیس کی ادائیگی کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم مستقبل میں جو صارفین ایپ کے جدید اور خصوصی فیچرز حاصل کرنا چاہیں گے، ان کے لیے ایک پریمیم سبسکرپشن کا آپشن ضرور دستیاب ہو سکتا ہے۔

Back to top button