ڈاکٹرقدیرکی بھٹو کوپھانسی سےبچانے کی کوشش کیسے ناکام ہوئی؟

پاکستانی نیوکلئیر بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے نیوکلیئر پروگرام کے بانی ذوالفقار علی بھٹو شہید کو پھانسی سے بچانے کی سر توڑ کوششں کی اور کئی غیر ملکی سربراہان سے بھی ملے لیکن جنرل ضیا الحق نے تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود امریکہ کے ایما پر بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا۔

یہ انکشاف معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی میں ان کے ساتھ ہونے والے ایک انٹرویو کی بنیاد پر کیا ہے۔ مظہر عباس بتاتے ہیں کہ یہ اگست 2010 کی بات ہے، ڈاکٹر عبدالقدیر سے طویل انٹرویو ختم ہوا، کچھ ’آف دی ریکارڈ‘ گفتگو کے بعد انہوں نے مجھے یہ کہہ کر مشکل میں ڈال دیا کہ ریکارڈنگ یہیں چھوڑ جاؤ اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ انہوں نے انٹرویو دیا کیوں تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے میرے چہرے کے تاثرات دیکھے تو مسکرا دیے اور کہنے لگے، ’’یہ جو گھر کے باہر بھائی لوگ کھڑے ہیں یہ آپ سے سوالات بھی کریں گے اور آپ سے ٹیپس بھی لے لیں گے‘‘۔ میرا تجسس بڑھا میں نے کہا، ’ڈاکٹر صاحب پھر کیا کریں‘۔ جواب آیا، ’’پریشان نہ ہو، میرا ڈرائیور تھوڑی دیر میں یہ ٹیپس تمہارے دفتر پہنچا دے گا‘‘۔ مظہر عباس بتاتے ہیں کہ اس جواب پر مجھے کچھ اطمینان ہوا کیونکہ یہ میرے چند یادگار انٹرویوز میں سے ایک تھا جس میں پاکستان کی مکمل ’ایٹمی کہانی‘ موجود تھی، ذوالفقار علی بھٹو سے نواز شریف تک۔

مظہر عباس بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک لبرل اور روشن خیال شخص تھے جو شعر و شاعری سے بھی شغف رکھتے تھے۔ انکے ساتھ ایک دو نشستیں کراچی میں بھی رہیں۔ وہ یادگار انٹرویو، دو حصوں میں آج بھی یوٹیوب پر موجود ہے۔ مظہر نے آن دی ریکارڈ ڈاکٹر قدیر سے پوچھا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کہانی 18مئی 1974 سے شروع ہوئی جب بھارت نے پہلا ایٹمی دھماکہ کیا، میں ان دنوں بیلجیئم میں نوکری کرنے کے بعد PHD کر کے ہالینڈ منتقل ہو گیا تھا۔ میں نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا کہ پاکستان کیلئے ایٹمی توازن قائم کرنا اب ضروری ہو گیا ہے۔ 1971 کے سانحہ مشرقی پاکستان کے زخم بھی تازہ تھے۔ وزیر اعظم کا جواب آیا کہ میں پاکستان آ جائوں، وہ ملنا چاہتے ہیں‘‘۔

مظہر عباس نے بھٹو کے حوالے سے ڈاکٹر قدیر سے پوچھا کہ انہیں آپ نے کیسا پایا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ’’بھٹو صاحب نے جس تیزی سے ایٹمی پروگرام پر کام شروع کروایا وہ کوئی دوسرا نہیں کروا سکتا تھا۔ جب روایتی بیورو کریسی کی جانب سے رکاوٹیں آنا شروع ہوئیں تو میں نے بھٹو صاحب کو بتایا۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو بلایا اور ایک فوکل پرسن مقرر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد ڈاکٹر صاحب کو دوبارہ مجھ سے شکایت کا موقع نہ ملے انکے احکامات وزیر اعظم کے آرڈرز سمجھے جائیں۔

بھٹو کی پھانسی کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب نے انکشاف کیا کہ انہوں نے نیوکلیئر پروگرام کے بانی کی جاں بخشی کی بہت کوشش کی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کو بچانا بہت ضروری تھا۔ ڈاکٹر قدیر نے بتایا کہ ’’میں نے مختلف ممالک کے خفیہ دورے کیے، خاص طور پر ترکیہ کے وزیر اعظم بلند ایجوت سے ملا اور درخواست کی کہ وہ جنرل ضیاء سے بات کریں۔ وہ بھٹو کے اچھے دوستوں میں سے تھے انہوں نے میرے سامنے جنرل ضیاء کو فون بھی کیا۔ بعد میں کہنے لگے اس نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ غور کرے گا لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دے گا‘‘۔

1998 کے ایٹمی دھماکوں کیلئے نیوکلئیر بم چاغی کس نے پہنچائے؟

بقول ڈاکٹر قدیر خان، پاکستان 1984 میں ہی ایٹمی دھماکے کرنے کے قابل ہوگیا تھا مگر افغانستان میں جاری جنگ، امریکہ سے اربوں ڈالرز سے جاری جہاد افغانستان کی وجہ سے اس کے اعلان میں تاخیر ہوئی۔ 1998ء میں جب بھارت نے ایک مرتبہ پھر 18؍مئی کو پانچ ایٹمی دھماکے کیے تو پاکستان میں عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا کہ ہمیں بھی بھارت کو جواب دینا ہوگا۔ ابتدا میں میاں صاحب محتاط تھے مگر پھر 10 دن بعد انہوں نے پاکستان کے چھ ایٹمی دھماکوں کا اعلان کرکے دنیا کو حیران کر دیا۔ اب پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقت ہیں۔ جب تک یہ توازن کی حد تک ہے تو جنگ ٹلتی رہے گی، دونوں میں سے کسی نے بھی توازن یا صبر کا دامن ہاتھ سےچھوڑا تو ہم میں سے شاید کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ کیسی تباہی آئے گی۔ ایسی جنگ آنے والی نسلوں کو تباہ کر سکتی ہے۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جس روز ہم نے ایٹمی دھماکے کیے، اس دن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کاوشوں کو کم دکھانے کی کوشش کی گئی اور سارا کریڈٹ ڈاکٹر مبارک مند کو دینے کی کوشش کی گئی۔ مظہر عباس کے بقول یہی ہمارا المیہ ہے کہ ہم اپنے محسنوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی کرتے آئے ہیں، وہ بھٹو ہو، ڈاکٹر قدیر ہو، یا نواز شریف۔ لیکن قدیر خان پاکستان کے نیوکلیئر طاقت بننے کا سب سے زیادہ کریڈٹ بھٹو کو دیتے تھے۔

Back to top button