جب عمران خان نے ضیاء کی کابینہ کا حصہ بننے سے انکار کیا

یہ جولائی 1988ء کا واقعہ ہے جب اُس وقت کے فوجی صدر جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان کو اپنے ایک قریبی دوست کے ذریعے پیغام بھیجا کہ وہ انہیں وفاقی وزیر بنانا چاہتے ہیں۔ عمران خان کو یہ پیغام لندن میں ملا جہاں وہ کاؤنٹی کرکٹ کھیل رہے تھے۔ پیغام لانے والے ان کے دوست اشرف نوابی تھے جو جنرل ضیاء الحق کے بھی بہت قریب سمجھے جاتے تھے۔ فوجی صدر کی یہ پیشکش عمران خان کے لیے حیران کن تھی کیونکہ وہ کچھ عرصہ قبل اپنی والدہ شوکت خانم کے نام پر کینسر ہسپتال بنانے کے لیے فنڈ ریزنگ کا آغاز کر چکے تھے۔ وفاقی وزیر بننے کی صورت میں عمران خان ہسپتال کے لیے حکومت سے کئی سہولتیں حاصل کر سکتے تھے، تاہم اس پیشکش کا اصل مقصد جنرل ضیاء الحق کی غیر مقبول حکومت کو سہارا دینا تھا۔

اس پیشکش سے چند ہفتے قبل 29 مئی 1988ء کو جنرل ضیاء الحق نے وزیراعظم محمد خان جونیجو کی حکومت برطرف کر دی تھی اور اس کے بعد وہ نئی کابینہ اور نئے وزیراعظم کی تلاش میں تھے۔ جنرل ضیاء الحق کا خیال تھا کہ اگر عمران خان ان کی حکومت میں شامل ہو جائیں تو ان کی اپنی ساکھ میں بہتری آ سکتی ہے۔ عمران خان نے ضیاء الحق کی جانب سے کی گئی پیشکش کا یہ جواب دیا کہ فوری طور پر وزیر بننے کا مطلب کرکٹ چھوڑنا ہوگا جو ان کے لیے ممکن نہیں۔ جواب میں انہیں کہا گیا کہ وہ کرکٹ نہ چھوڑیں اور صرف کبھی کبھار کابینہ کے اجلاس میں شرکت کر لیا کریں، مگر عمران خان نے اس پیشکش سے بھی معذرت کر لی۔

روزنامہ جنگ میں یہ کہانی بیان کرتے ہوئے معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر بتاتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق کو عمران خان سے انکار کی توقع نہیں تھی، چنانچہ انہوں نے اپنے بیٹے ڈاکٹر انوارالحق کو عمران خان سے رابطہ کرنے کا کہا۔ ڈاکٹر انوار نے فون پر عمران کو بتایا کہ صدر ضیا کرپٹ سیاستدانوں سے تنگ آ چکے ہیں اور ملک کو عمران خان جیسے ایماندار لوگوں کی ضرورت ہے۔ فوجی صدر کے بیٹے کو انکار کرنا آسان نہیں تھا، لیکن عمران خان نے ایک مرتبہ پھر معذرت کر لی۔

چند ہفتوں بعد 17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاء الحق بہاولپور کے قریب ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ اس حادثے کے بعد غلام اسحاق خان صدر بنے اور نئے انتخابات کے نتیجے میں بینظیر بھٹو وزیراعظم منتخب ہو گئیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عمران خان جولائی 1988ء میں وفاقی وزیر بننے پر آمادہ ہو جاتے تو نہ شوکت خانم کینسر اسپتال بنتا اور نہ ہی تحریک انصاف وجود میں آتی۔ جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ان کی حکومت میں شامل اکثر شخصیات پس منظر میں چلی گئیں۔ عمران خان کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہو سکتی تھی اور ممکن ہے کہ وہ 1992ء کا کرکٹ ورلڈ کپ بھی نہ جیت پاتے۔

حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ 1992 کے ورلڈ کپ سے کچھ دن قبل عمران خان ایک سنگین انجری کا شکار ہو گئے تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ان کا پانچواں اور آخری ورلڈ کپ تھا اور وہ ریٹائرمنٹ سے قبل ہر قیمت پر پاکستان کو عالمی چیمپئن بنانا چاہتے تھے۔ یہ ورلڈ کپ شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ بالآخر پاکستان نے ورلڈ کپ جیت لیا اور اسی کامیابی کے نتیجے میں دو سال بعد شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور کا افتتاح عمل میں آیا۔ ہسپتال کی تعمیر کے ابتدائی دنوں میں اس جگہ جوہر ٹاؤن کے اطراف کھیت ہی کھیت تھے اور بہت کم لوگوں کو یقین تھا کہ یہ خواب کبھی حقیقت بن سکے گا۔ اس منصوبے کے لیے متعدد صحافیوں، فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں نے رضاکارانہ طور پر فنڈ ریزنگ مہم میں حصہ لیا۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ ان دنوں معروف شاعر حبیب جالب علیل تھے، تاہم انکی یادداشتیں ریکارڈ کی جا رہی تھیں جن میں عمران خان کے والد اکرام اللہ خان نیازی کا ذکر بھی آیا۔ جنرل ایوب خان کے دور میں اکرام اللہ خان نیازی پی ڈبلیو ڈی میں انجینئر تھے اور انہوں نے 1964ء میں محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم کی حمایت کی تھی، جس کے نتیجے میں انہیں سرکاری دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر انہوں نے ملازمت چھوڑ دی۔

اکرام خان نیازی کو انجینئرنگ کے وسیع تجربے کی بنیاد پر شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور کی تعمیر کا نگران مقرر کیا گیا۔ اسی دوران حبیب جالب نے شوکت خانم ہسپتال کے لیے ایک نظم لکھی جو شائع ہوئی اور بعد ازاں ان کی کتاب جالب بیتی میں شامل کی گئی۔ 1993ء میں کتاب کی اشاعت کے کچھ ہی عرصے بعد حبیب جالب کا انتقال ہو گیا، لیکن 29 دسمبر 1994ء کو شوکت خانم کینسر ہسپتال لاہور کا افتتاح ہو گیا۔

پیپلز پارٹی نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی کیوں دے ڈالی؟

حامد میر بتاتے ہیں کہ بعد ازاں پشاور میں بھی شوکت خانم کینسر ہسپتال قائم کیا گیا اور اب کراچی میں تیسرا شوکت خانم کینسر ہسپتال زیر تعمیر ہے، جس کی تکمیل دسمبر 2026ء تک متوقع ہے۔ اس منصوبے کے لیے خطیر رقم درکار ہے جبکہ موجودہ حالات میں عمران خان براہ راست فنڈ ریزنگ مہم کا حصہ نہیں بن پا رہے۔ اس کے باوجود ہسپتال کی انتظامیہ اور ذمہ داران تمام مشکلات کے باوجود دن رات اس منصوبے کو بروقت مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

یہ منصوبہ سیاست سے بالاتر ہو کر انسانی خدمت کی ایک مثال ہے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال کی تعمیر میں عوامی تعاون ماضی میں بھی کلیدی رہا ہے اور آئندہ بھی یہی تعاون اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا واحد راستہ ہے۔

Back to top button