اقتدار کے نشے میں ڈوبے حکمران مصیبت کیوں بن جاتے ہیں ؟

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ نشہ کوئی بھی ہو اچھا نہیں ہوتا۔ اقتدار کے نشے میں ڈوبا ہوا شخص صرف دوسروں کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے بھی مصیبت بن جاتا ہے۔ اسی لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ہی ملک کے لیے مصیبت بن چکا ہے کیونکہ ٹرمپ کا ایجنڈا امریکی مفادات کا تحفظ نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں حامد میر اقتدار اور طاقت کے نشے کو تاریخ کی سب سے خطرناک انسانی کمزوری قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تاریخ کا مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ ہر چھوٹا اور بڑا ٹرمپ ہمیشہ اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد کا نام دیتا ہے اور بالآخر اپنی قوم کو ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کر دیتا ہے۔ ان کے مطابق نشہ خواہ کسی بھی نوعیت کا ہو، انسان کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، لیکن اقتدار اور طاقت کا نشہ سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقتدار کے نشے میں مبتلا شخص نہ صرف دوسروں کے لیے بلکہ خود اپنے لیے بھی مسائل اور بحران پیدا کر لیتا ہے، کیونکہ یہ نشہ انسان کی سوچ، رویے اور فیصلوں کو یکسر بدل دیتا ہے۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ معاشرے میں ایسے بے شمار افراد موجود ہیں جو طاقت اور اختیار حاصل کرنے سے قبل عاجزی اور انکساری کا پیکر ہوتے ہیں اور خود کو عوام کا خادم قرار دیتے ہیں، مگر جیسے ہی اختیار ملتا ہے وہ فرعونیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ طاقت اور اختیار کا نشہ سب سے پہلے انسان کی بصارت پر حملہ آور ہوتا ہے، جس کے بعد اس شخص کو اپنے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ ملک اور قوم کے مفاد کو بھی اپنے ذاتی مفاد کی عینک سے دیکھنے لگتا ہے۔
سینیئر اینکر پرسن کے مطابق بعض طاقئور افراد تو خود کو اللہ کا منتخب کردہ سمجھنے لگتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں کسی خاص مقصد کے لیے طاقت دی گئی ہے، جسے وہ ہر قیمت پر حاصل کریں گے۔ ایسے افراد اپنے ہر ذاتی ایجنڈے کو قومی مقصد کا نام دے دیتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے اخلاقی اور تہذیبی حدود پامال کرنا بھی قومی مفاد قرار دینے لگتے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اقتدار کے نشے میں ڈوبے افراد یہ حقیقت فراموش کر دیتے ہیں کہ طاقت اور اختیار اللہ کی نعمت نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔ تاہم اس نشے میں مبتلا افراد کو خوشامدیوں کا گھیراؤ حاصل ہو جاتا ہے جو ہر وقت یہ باور کراتے رہتے ہیں کہ حکمران کسی عظیم مقصد کے لیے منتخب کیا گیا ہے اور اسے تنقید کی کوئی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ طاقت کے نشے میں ڈوبے شخص کو اختلافِ رائے برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تنقید بری لگنے لگتی ہے اور آہستہ آہستہ اختلاف کو غداری قرار دے دیا جاتا ہے۔ اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے نئے قوانین متعارف کرائے جاتے ہیں اور یوں ایک اچھی بھلی جمہوریت شخصی آمریت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
حامد میر کے مطابق اس آمرانہ طرزِ حکمرانی کے ردِعمل میں معاشرے میں انتہاپسندی جنم لیتی ہے اور تقسیم میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ طرزِ حکومت منافقت کو فروغ دیتا ہے، جہاں لوگ طاقتور حکمران کے سامنے تعریفوں کے پل باندھتے ہیں مگر بند کمروں میں اسی کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ ان کے بقول طاقت کا یہ نشہ بالآخر پورے معاشرے اور ریاست کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ جب اقتدار کا نشہ ریاستی ڈھانچے میں سرایت کر جائے تو اس کے اثرات نچلی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔ کسی سرکاری دفتر میں بیٹھا ایک معمولی اہلکار، ٹریفک پولیس کا کانسٹیبل، تھانے کا انچارج یا عدالت میں بیٹھا کوئی جج اور اس کا عملہ بھی اپنے اختیار کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے۔
سینیئر صحافی کے مطابق تمام طاقتور لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں دیا گیا اختیار ایک عارضی ذمہ داری ہے، مگر اس عارضی اختیار کو اقتدار کی طوالت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نشے میں مبتلا افراد کو صرف دوسروں کے عیب دکھائی دیتے ہیں، اسے اپنے عیب نظر نہیں آتے، جبکہ ماتحت صرف وہی بات بتاتے ہیں جو باس کو خوش کرے۔ یوں پوری ریاستی مشینری ذاتی مفاد کے تحفظ کو حکومتی پالیسی بنا لیتی ہے، جس کا نتیجہ ناانصافی اور ظلم کی صورت میں نکلتا ہے۔
حامد میر نے اس صورتحال کو موجودہ صحافتی چیلنجز سے جوڑتے ہوئے کہا کہ آج کل کی صحافت پر بھی یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ صاحبانِ اختیار کی غلام بن چکی ہے، جس کے باعث عوام کی بڑی تعداد اخبار اور ٹی وی سے مایوس ہو کر سوشل میڈیا کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نام لینا آسان ہے، اسی لیے کئی صحافی روایتی میڈیا چھوڑ کر وہاں حق گوئی کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جس طاقتور شخصیت کی وہ بات کر رہے ہیں وہ سوشل میڈیا کو بھی کنٹرول کرنے کی تیاریوں میں ہے۔
حامد میر کے مطابق یہ شخصیت آزاد میڈیا سے شدید نفرت رکھتی ہے، اخبارات اور ٹی وی چینلز کو نام لے کر تنقید کا نشانہ بناتی ہے اور اس کا رویہ نہ صرف آزاد میڈیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ انکے مطابق یہ طاقتور شخص امن کا نوبل انعام حاصل کرنے کی خواہش تو رکھتا ہے، مگر اس کے اقدامات عالمی امن کے لیے مسلسل خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ آخرکار تمام خدشات مول لیتے ہوئے حامد میر نے واضح کیا کہ ان کا اشارہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف ہے۔
حامد میر کے مطابق ٹرمپ خوشامد پسند اور خود پسند ہیں اور اقتدار کے نشے میں ڈوبے ہر طاقتور شخص کی طرح انکا غصہ بھی سمجھدار ہے، جو صرف کمزوروں پر برستا ہے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو اقتدار کے مہلک نشے میں مبتلا تمام چھوٹے اور بڑے ٹرمپوں کے شر سے محفوظ رکھے۔
