خامنہ ای کے قتل کے منصوبے کی خفیہ تفصیلات سامنے آ گئیں

 

 

 

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے مشترکہ اسرائیلی اور امریکی منصوبے کی تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس مشن کی تکمیل کے لیے مہینوں منصوبہ بندی کی گئی، لیکن خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ ایک خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ہوا۔

 

بی بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی غرض سے کیا گیا میزائل حملہ نصف شب کی تاریکی میں نہیں بلکہ صبح کی روشنی میں کیا گیا۔ دن کے اوقات میں کارروائی کا فیصلہ ایک غیر معمولی انٹیلی جنس اطلاع کے باعث کیا گیا جو حملے سے چند گھنٹے قبل موصول ہوئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کو اچانک اطلاع ملی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای ہفتے کی صبح تہران کے مرکزی علاقے میں واقع اپنے کمپاؤنڈ میں موجود ہوں گے۔ اسی اطلاع نے حملے کے وقت کا تعین کیا اور رات ہونے کا انتظار کیے بغیر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تاکہ موقع ضائع نہ ہو۔

 

امریکہ اور اسرائیل گزشتہ کئی ماہ سے ایسے موقع کی تلاش میں تھے جب اعلیٰ ایرانی عسکری اور سیاسی قیادت ایک مقام پر جمع ہو۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق خامنہ ای کی موجودگی کے ساتھ ساتھ اس مقام کی بھی نشان دہی ہو چکی تھی جہاں دیگر سینئر فوجی اور خفیہ اداروں کے افسران اجلاس کے لیے پہنچنے والے تھے، جس سے حملے کی اہمیت اور دائرہ کار مزید وسیع ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کی نقل و حرکت پر کافی عرصے سے نظر رکھی جا رہی تھی۔ اگرچہ نگرانی کے طریقہ کار کو خفیہ رکھا گیا، تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اشارہ دیا کہ خامنہ ای جدید انٹیلی جنس اور ٹریکنگ نظام سے بچنے میں ناکام رہے۔ ان کے بقول ’وہ ہماری انٹیلیجنس اور نہایت جدید ٹریکنگ سسٹمز سے بچ نہ سکے۔‘

 

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ ممکن تو ہے کہ ایران کے اندر کوئی غدار خامنہ ای کی نقل و حرکت کی اطلاع دے رہا ہو، تاہم زیادہ امکان یہ ہے کہ تکنیکی نگرانی، ٹیلی کمیونی کیشن ڈیٹا اور موبائل فون نیٹ ورکس تک رسائی کے ذریعے اہم شخصیات کی ٹریکنگ کی جا رہی تھی۔

گزشتہ برس جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک سائنسدانوں اور اعلیٰ حکام کو نشانہ بنایا تھا۔ بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ ان اہداف کی نشاندہی کے لیے ٹیلی کام اور موبائل فون سسٹمز تک رسائی حاصل کی گئی اور یہاں تک کہ ان کے باڈی گارڈز کی نقل و حرکت بھی مانیٹر کی گئی تھی۔

 

طویل المدتی نگرانی کے اس طریقہ کار سے نہ صرف خامنہ ای اور دیگر اہم شخصیات کی سرگرمیوں اور معمولات کا اندازہ لگایا گیا بلکہ سکیورٹی کے کمزور لمحات بھی تلاش کیے گے۔ ان معلومات نے خامنہ ای کے خلاف حالیہ کارروائی کی منصوبہ بندی کو ممکن بنایا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کو پہلے ہی علم تھا کہ اسکے رہبرِ اعلیٰ دشمنوں کے نشانے پر ہیں، تاہم بتایا جاتا ہے کہ بار بار کی وارننگ کے باوجود خامنہ ای نے اپنا ٹھکانہ تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میری موت ایسے ہی لکھی ہے تو میں اسے گلے لگانے کو تیار ہوں لیکن یزید کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی بجائے امام حسین کی طرح لڑتے ہوئے مرنے کو ترجیح دوں گا۔

 

دی نیویارک ٹائمز کے مطابق خامنہ ای کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سے آئی تھی، جسے اسرائیل کے ساتھ شیئر کیا گیا کیونکہ حملے کی عملی ذمہ داری اسرائیل کے سپرد تھی۔ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کام کی واضح تقسیم ہو چکی تھی۔ اسرائیل نے اعلیٰ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانا تھا جبکہ امریکہ نے ایرانی فوجی تنصیبات کو ہدف بنانا تھا۔ ذرائع کے مطابق خامنہ ای کے کمپاونڈ پر حملے کے لیے ایسے جدید جیٹ طیارے استعمال کیے گئے جو دور سے میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی طیاروں کو تہران تک پہنچنے میں تقریباً دو گھنٹے لگ سکتے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ میزائل کتنی دوری سے داغے گئے۔

 

بتایا جاتا ہے کہ کمپاؤنڈ میں خامنہ ای اور اہم ترین عسکری قیادت کی موجودگی کی خفیہ اطلاع موصول ہونے کے بعد صبح 9 بج کر 40 منٹ پر اسرائیلی طیاروں نے خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر بیک وقت 30 بم گرائے۔ ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں بم گرانے کا مقصد زیرِ زمین بنکر تک رسائی حاصل کرنا تھا جہاں رہبر اعلیٰ  موجود تھے۔ اس حملے میں مختلف اقسام کے گہرائی تک مار کرنے والے بم استعمال کیے گئے تاکہ زیرِ زمین اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔ رہبر اعلیٰ کے کمپاؤنڈ کے علاوہ تہران میں دیگر اہم مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دفتر کے قریب کا علاقہ بھی شامل تھا، تاہم ایرانی صدر خوش قسمتی سے بچ نکلے۔

کیا ایران کی موجودہ صورت حال کی ذمہ دار اسکی قیادت ہے؟

ایران نے اپنے تین اعلیٰ ترین دفاعی عہدیداروں کی موت کی تصدیق کی ہے، جن میں دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی، وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادہ اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف جنرل محمد پاکپور شامل ہیں۔ جب تہران میں یہ حملہ ہو رہا تھا تو امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں رات کا وقت تھا اور ٹرمپ اپنے اعلیٰ حکام کے ساتھ صورتحال کی نگرانی کر رہے تھے۔ حکام کو اندازہ تھا کہ حملے کے بعد رہبر اعلیٰ کی موت کی تصدیق میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران اس امکان کے لیے پہلے سے تیار تھا اور سپریم لیڈر سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے جانشینوں کی پیشگی منصوبہ بندی کی جا چکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای اور ان کے اہم ترین عسکری ساتھیوں کی شہادت کے باوجود ایران کی جانب سے اسرائیل اور مشرق وسطی کے مختلف ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے جاری ہیں۔

 

Back to top button