جب امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد رکھی

امریکہ اور اسرائیل آج ایران کے جس نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنے کے لیے اس پر حملہ آور ہیں، دراصل اس کی بنیاد خود امریکہ اور اسرائیل نے ہی رکھی تھی۔
آج مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی میں ایران کا جوہری اور میزائل پروگرام عالمی سیاست کا سب سے متنازع اور حساس موضوع بن چکا ہے۔ تاہم اس پروگرام کی جڑیں محض حالیہ دہائیوں میں نہیں بلکہ سرد جنگ کے اس دور میں پیوست ہیں جب واشنگٹن اور تل ابیب خود تہران کے سٹریٹیجک شراکت دار تھے۔ اس تاریخی پس منظر کو سمجھے بغیر موجودہ بحران کی نوعیت کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ 1953 میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ایران میں ایک خفیہ آپریشن سر انجام دیا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور شاہ محمد رضا پہلوی کو دوبارہ مضبوط حکمران کے طور پر بحال کیا گیا۔ اس تبدیلی نے ایران کو مکمل طور پر امریکہ کے اثر و رسوخ میں لے آیا۔
اس سیاسی تبدیلی کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان دفاعی اور سائنسی تعاون کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور نے 1953 میں ایٹمز فار پیس پروگرام متعارف کرایا، جس کا مقصد دنیا بھر میں جوہری ٹیکنالوجی کو پرامن مقاصد کے لیے فروغ دینا تھا۔ ایران نے 1957 میں اس پروگرام کے تحت امریکہ کے ساتھ ایک سویلین جوہری تعاون کا معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں امریکہ نے ایران کو نہ صرف جوہری تحقیق کے لیے جدید ٹیکنالوجی فراہم کی بلکہ ایرانی سائنسدانوں کو تربیت دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔ یہ وہ بنیاد تھی جس نے ایران کے جوہری پروگرام کی ابتدائی ڈھانچہ سازی کو ممکن بنایا۔ 1959 میں تہران نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کا قیام عمل میں آیا، جبکہ 1967 میں امریکہ نے ایران کو تہران ریسرچ ری ایکٹر فراہم کیا۔ یہ پانچ میگاواٹ کا تحقیقی ری ایکٹر تھا جس کے ساتھ اعلیٰ افزودہ یورینیم بھی فراہم کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایرانی سائنسدانوں کو ایم آئی ٹی جیسے اداروں میں تربیت دی گئی، جس نے ایران کی تکنیکی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا۔
دوسری جانب ایران کے میزائل پروگرام کی بنیاد بھی بیرونی تعاون سے جڑی ہوئی تھی۔ 1970 کی دہائی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان خفیہ فوجی تعاون کے شواہد سامنے آئے، جن میں پروجیکٹ فلاور خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس منصوبے کے تحت دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر جدید میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی پر کام کیا۔ یہ منصوبہ دراصل تیل کے بدلے اسلحہ کے معاہدوں کا حصہ تھا، جن پر 1977 میں شاہ محمد رضا پہلوی اور اسرائیلی وزیر دفاع شمعون پیریز نے دستخط کیے تھے۔ ان معاہدوں کا مقصد ایران کو خطے کی ایک بڑی فوجی طاقت بنانا تھا، جس کے لیے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری اہم جزو تھی۔
دستاویزات کے مطابق، اس خفیہ منصوبے کے تحت اسرائیل میں میزائل کے کامیاب تجربات بھی کیے گئے، جن میں ایرانی فوجی حکام موجود تھے۔ اس تعاون کا بنیادی مقصد ایک ایسے میزائل کی تیاری تھا جس کی رینج زیادہ ہو اور جس میں امریکی پرزوں کی جگہ اسرائیلی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے تاکہ برآمد پر امریکی پابندیوں سے بچا جا سکے۔ یہ حقائق تب منظر عام پر آئے جب 1979 میں ایرانی انقلاب کے دوران تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کیا گیا۔ اس دوران ملنے والی خفیہ دستاویزات بعد ازاں مختلف جلدوں کی صورت میں شائع کی گئیں، جن میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی تفصیلات شامل تھیں۔
انقلاب کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔ روح اللہ خمینی کے اقتدار میں آنے کے بعد ایران نے اسرائیل کے ساتھ تمام تعلقات ختم کر دیے اور مغربی طاقتوں سے دوری اختیار کر لی۔ تاہم اس مرحلے کے بعد ایران نے دفاعی خودمختاری کی پالیسی اپنائی۔ بیرونی انحصار کم کرتے ہوئے ایران نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو مقامی وسائل اور نئے شراکت داروں کی مدد سے آگے بڑھایا۔ یہی پروگرام وقت کے ساتھ ایران کی اسٹریٹیجک حکمت عملی کا مرکزی ستون بن گیا۔
ایران نے جوہری تنصیباب پر حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیے
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس بنیاد پر آج ایران کا جوہری اور میزائل پروگرام کھڑا ہے، وہ بڑی حد تک اسی مغربی اور اسرائیلی تعاون کا نتیجہ ہے جسے اس پروگرام کے خلاف سب سے زیادہ خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی تضاد موجودہ عالمی سیاست کا ایک اہم پہلو بن چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آج جب امریکہ اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں، تو اہم ترین سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ بحران دراصل انہی پالیسیوں کا تسلسل نہیں ہے جو ماضی میں خود انہی طاقتوں نے تشکیل دی تھیں؟
